آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’تھوڑی سی مٹی تھوڑا سا پانیبس اتنی کہانی ؟چھوٹا سا بچپن، لمبا بڑھاپا، کچھ کچھ جوانیبس اتنی کہانی ؟نہ عہدہ نہ منصب نہ فرماں نہ کاغذ بس اک روز محشر ہے سب کچھ زبانیبس اتنی کہانی ؟نہ کوٹھی نہ کوٹھا، نہ پت جھڑ نہ برکھا، نہ جنت مکانی نہ خلد آشیانیبس اتنی کہانی ؟یہ سب کچھ ہے فانیبس اتنی کہانی !بس اتنی کہانی !!‘‘مٹی کی چلتی پھرتی ڈھیریاں ممٹیوں یا مسندوں پر جا بیٹھیں تو سب کچھ بھول جاتی ہیں۔اپنی اوقات، اپنا آغاز اور اپنا انجام تک بھول جاتی ہیں۔موت کی آخری ہچکی کو ذرا غور سےسنزندگی بھر کا خلاصہ اسی آواز میں ہےاک اور مہاکوی کا کہنا ہےلوحِ مزار دیکھ کر جی دنگ رہ گیاہر ایک سر کے ساتھ فقط سنگ رہ گیالیکن سنتا کون ہے اور سن بھی لے تو سمجھتا کب ہے ؟جس نے زندگی بہتر گزارنی ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ موت کو یاد رکھے اور جس مقتدر نے اپنا عرصہ اقتدار بہتر گزارنا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ وقت بھی دھیان میں رکھے جب وہ اقتدار سے باہر ہو گا یا زندگی کے مدار سے باہر ہو گا۔سامنے کی بات ہے کہ کل تک جن کی مرضی کے خلاف حسین دھرتی کے اس حصے یعنی پاکستان میں پتا تک نہ ہلتا تھا، آج اس دھرتی پہ قدم رکھنے کو ترس رہے ہیں۔کل تک جن کے بیانوں اور تصویروں کے بغیر ہر اخبار ادھورا تھا، ہر خبر نامہ نامکمل تھا.....آج قصہ پارینہ چہرے اور

نام بھی بھول چکے ۔لیکن رعونت، تکبر، خودپسندی اور نرگسیت کا بازار آج بھی ویسے ہی گرم ہے ۔ایکٹر بدل گئے کردار نہیں بدلے، جیسے دیوداس کا کردار کبھی کے ایل سہگل نے ادا کیا پھر دلیپ کمار نے اسے امر کر دیا اور 2002ء میں شاہ رخ نے دیوداس بن کر دھوم مچا دی ۔اسی طرح تکبر اور رعونت کا کردار بھی قائم رہتا ہے، صرف اداکاروں کے نام اور چہرے تبدیل ہوتے ہیں۔جنہیں اپنے اگلے پل اور کل کا اعتبار نہیں، مستقبل کی صورت گری میں مشغول ہیں، مٹی کے پتلے خاکے بنا رہے ہیں، پانی کے بلبلے مستقبل کی تصویروں میں اپنی پسند کے رنگ بھر رہے ہیں۔ہائے .....کوئی انہیں بتائے کہ باب العلم حضر ت علیؓنے فرمایا تھا ۔’’بے شک میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سےپہچانا ‘‘ڈرتے رہنا چاہئے بڑے بول سے بچتے رہنا چاہئے انسان کی اوقات ہی کیا ہے ؟یہ تو اپنی کمر کا تل نہیں دیکھ سکتےداڑھ کا درد بائولا کر دیتا ہےسر کے بال اپنے بس میں نہیں۔پانی کی ایک بوند سانس کی نالی میں جا گھسے اور چند لمحوں کے لئے دماغ کو آکسیجن کی سپلائی معطل ہو جائے تو دماغ کے ساتھ جسم کا ایک حصہ بھی جواب دے جاتا ہے اور کڑیل سے کڑیل جوان بھی ابلی ہوئی سبزی میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔معمولی سی چوٹ یا دداشت سے محروم کر سکتی ہے۔نیند روٹھ جائے تو آدمی خودکشی کا سوچنے لگتا ہے ۔انسان کی اوقات ہی کیا ہے ۔ڈیانا کا حسن، اوناسس کی دولت، ریگن کی طاقت، آریہ مہر کی نخوت، امام خمینی کی عظمت، مدرٹریسا کی شفقت، آئین سٹائن کی ذہانت،نپولین کی شجاعت، رسل کی فراست ؟؟؟؟ہم جو بھی ہوں اور جیسے بھی ہوتے ہیںبالآخر سب قبروں میں جا سوتے ہیںجسے موت یاد ہو ...اسے ’’میں میں میں ‘‘ کا دورہ نہیں پڑتا اور اسی خطرناک دورے سے بچنے کے لئے ہمیں حکم ہے کہ گاہے گاہے قبرستانوں کا چکر لگا لیا کریں ۔طنزاً کہا گیا ’’تمہارے جسم پر تو ماس بوٹی نہیں‘‘صوفی بولا ’’قبر کے کیڑوں کے لئے اتنا ہی بہت ہے‘‘میں نے اپنے مرشد سے کہا ’’میں بزدل ہوتا جا رہا ہوں‘‘ ...فرمایا، کیسے ؟عرض کیا ’’موت بہت یاد آنے لگی ہے ‘‘کچھ دیر مسکراتے رہے او رپھر گویا ہوئے، ’’نہیں ....بزدل نہیں ہو گئے بالغ ہو گئے ہو’’عقل آ گئی ہے اور اس عطا پر اپنے رب کا شکرادا کرو کہ یہ بھی کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔اگر موت کو یاد رکھنا ، اصل حاکم سے ڈرتے لرزتے رہنا عقل ہے تو اللہ کرے یہ عقل سب کو نصیب ہو، بالخصوص اہل اقتدار لوگوں کو جن میں شہریار سے تھانیدار تک سبھی شامل ہیں۔جس کے پاس جیسا اور جتنا بھی اختیا ہو اور وہ اسی حساب سے خود کو بے اختیار سمجھے تو سمجھو اس نے خالق کی بندگی کا اقرار کر لیا اور جو ایسا اقرار کرتے ہیں، اختیار و اقتدار کو حاکم مطلق کا ادھار سمجھتے ہیں وہ مخلوق اور مستقبل کے بارے میں کچھ اور طرح سوچتے ہیں، انہیں کیڑے مکوڑے اور بھیڑ بکریاں نہیں سمجھتے، انہیں ’’مینوور‘‘ اور ’’مینو پیلیٹ‘‘ بھی نہیں کرتے، سازشوں کے جال نہیں بنتے بلکہ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے اپنے لئے اپنے رب سے عجزوانکساری کی بھیک مانگتے ہیں، سقراطی بقراطی کے بلند بانگ دعویٰ نہیں کرتے اور جن کے دماغوں کو ایسا بخار چڑھا ہو وہ جان لیں کہ فرعونوں، ہامانوں، قارونوں اور قبروں کے درمیان صرف چند سانسوں کا فاصلہ ہوتا ہے ۔رہے نام اللہ کاتھوڑی سی مٹی، تھوڑا سا پانی ....بس اتنی سی کہانی! تو اس میں ’’میں میں میں ‘‘کہاں سے آ گیا۔(نوٹ :یہ کالم 28اگست 2003ء کو شائع ہوا)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں