آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تین نومبر 2007ء کو سابق محسن قوم پرویز مشرف نے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا۔ آئین معطل کر دیا گیا۔ عدالتوں کے اختیارات سلب کر لئے، اس فرمان شاہی کے ساتھ ایک ضمیمہ اہل صحافت کے نام بھی منسلک تھا۔ حکومت کو اختیار مل گیا کہ جو اخبار یا چینل ناپسندیدہ ٹھہرے، اسے ایک ماہ کے لئے بند کیا جا سکے نیز یہ کہ ایک کروڑ روپیہ جرمانہ کیا جائے۔ معمول کے مطابق اگلی شام میں انگریزی اخبار کے دفتر پہنچا۔ اداریہ لکھنا میرا فرض منصبی تھا، حسب معمول ہدایات اور مشاورت کے لئے ایڈیٹر کے کمرے میں داخل ہوا، مدیر محترم موجود نہیں تھے، ایک بچہ سقہ صحافی کرسی ادارت پر رونق دے رہے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی فرمایا، آج کا اداریہ ذرا ڈھیلا لکھنا ہے، لکھ لو گے نا؟ درویش نے ترنت جواب دیا،
Yes, I am into all things obscene.
(بالکل جناب، میں کوئی بھی فحش حرکت کر سکتا ہوں)۔ قائم مقام مدیر نے میرے طنز پر ردعمل دینا مناسب نہیں سمجھا۔ ہاتھ کے اشارے سے ملاقات ختم کر دی۔ ہمیں اساتذہ نے بتایا تھا کہ اداریہ اخبار کے ادارے کی طرف سے اہم ترین معاملات پر ٹھوس نقطہ نظر کا سنجیدہ اظہار ہوتا ہے۔ محمد علی جوہر کا وہ جملہ تو برصغیر میں صحافتی تاریخ کا حصہ بن چکا جب غلام ہندوستان کے حریت پسند صحافی نے برطانوی سلطنت کے وزیر اعظم سے لندن میں کہا تھا کہ آپ ہمارے مطالبات مان

لیجیے ورنہ میں آپ کے خلاف اداریہ لکھوں گا۔ یہ محض چلتا ہوا جملہ نہیں تھا۔ محمد علی جوہر کے انگریزی اداریے کی بازگشت برصغیر کے کونے کونے میں سنائی دیتی تھی۔ اقبال نے علی برادران کی رہائی پر کیا اچھا کہا تھا… ہے اسیری اعتبار افزا، جو ہو فطرت بلند۔ ہماری صحافت کی روایت رام موہن رائے، گوکھلے، حسرت موہانی، مولانا آزاد، ظفر علی خان اور محمد علی جوہر سے شروع ہوئی تھی۔ اس صحافت کا بنیادی مقصد وطن کی آزادی تھا۔ بیرسٹر محمد علی جناح مجلس قانون ساز میں سینہ تان کر بمبے کرانیکل کے مدیر بی جی ہارنی مین کا دفاع کرتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد افسر شاہی کے ایک کارندے نے گورنر جنرل محمد علی جناح کے سامنے اخبارات کی آزادی محدود کرنے کا ایک مسودہ قانون رکھا۔ پاکستان کے بانی نے فرمایا،’میں زندگی بھر ایسے ہی قوانین کے خلاف لڑتا رہا ہوں۔ اس پر دستخط نہیں کر سکتا۔‘ اور پھر نوبت یہاں تک آئی کہ ایک اخبار کے مالک نے حاکم وقت سے کہا کہ ’حضور اظہار کی آزادی انہیں عنایت کریں، جو اس کا مطالبہ کرتے ہیں ، میں تو فقط اشتہار کا طلبگار ہوں‘۔ ایک اخبار میں برسوں اداریہ نہیں چھپا۔ مالک محترم فرمایا کرتے تھے کہ اداریہ کون پڑھتا ہے؟ اس جگہ پر اشتہار کیوں نہ دیا جائے؟
صاحب فحاشی کپڑے کی دھجی کے ہونے یا نہ ہونے کا نام نہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں جائز نصب العین سے انحراف فحاشی ہے۔ وہ اداریہ فحش ہے جو پڑھنے والوں کی بنیادی مسائل پر رہنمائی سے گریز کرتا ہے، وہ شادی فحش ہے جس میں فریقین محبت کی بجائے کسی مفاد یا مجبوری کے تحت بندھے ہوں، وہ سیاست فحش ہے جس کا مقصد قوم کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی نہ ہو، وہ عبادت فحش ہے جو دوسروں پر پارسائی کا سکہ جمانے کے لئے کی جائے۔
اخبار میں اداریے کا جو مقام ہے سیاسی جماعت میں انتخابی منشور کو وہی درجہ حاصل ہے۔ سیاسی جماعت کا منشور ہمیں یہ بتاتا ہے کہ متعلقہ جماعت قوم کی بہتری کے لئے کن پالیسیوں اور اقدامات کو ضروری سمجھتی ہے۔ اصولی طور پر رائے دہندگان کو سیاسی جماعتوں کا منشور دیکھ کر ووٹ کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ ہمارے درمیان موجود بزرگ تصدیق کریں گے کہ 1946 میں مسلم لیگ کا منشور دانیال لطیفی نے لکھا تھا جو ایک ترقی پسند قانون دان تھے۔ 1970 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کا منشور جن اصحاب کی تراوش فکر تھا۔ ان کے نام آج ہماری علمی، فکری اور جمہوری تاریخ کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں منشور مرتب کرنے کی آخری سنجیدہ کوشش محترمہ بے نظیر بھٹو نے 2007ء میں کی تھی۔ گزشتہ انتخابات کی طرح اس انتخاب میں بھی اہم سیاسی جماعتوں کے منشور مبہم، غیر واضح وعدوں اور نعروں کی حکایت ہیں جن کی بنیاد پر کسی ایک یا دوسری جماعت میں فرق کرنا مشکل ہے۔ انتخابات میں بمشکل اٹھارہ روز باقی ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے منشور سامنے آ چکے، پاکستان تحریک انصاف نو جولائی کو منشور جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس ساری مشق میں انتخابی مشق کو واضح سمت دینے والا جملہ اس شخص نے ادا کیا ہے جسے زندگی بھر کے لئے پاکستان میں عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دیا جا چکا ہے۔ زندگی اور موت کی کشمکش سے دوچار اہلیہ کے سرہانے بیٹھے میاں نواز شریف نے پاکستان کے لوگوں کو پیغام بھیجا ہے کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے فیصلہ کریں کہ پاکستان میں اقتدار اعلیٰ چند افراد کی مرضی کے تابع ہو گا یا حکمرانی کا حق پاکستان میں بسنے والے اکیس کروڑ لوگوں کی امانت ہو گا۔ یہ فیصلہ 2018 کے انتخابات میں بنیادی سوال ہے۔ جس سیاسی جماعت کا منشور اس نکتے پر خاموش ہے، وہ گونگا منشور ہے۔ انسان کو کلام کی صلاحیت اس لئے ودیعت نہیں کی گئی کہ وہ جب زبان کھولے، مراعات، عہدوں اور اقتدار کی بھیک مانگے، کلام کا منصب درد دل کا بیان ہے۔ فرد کا درد قوم کے استقلال میں تبدیل ہوتا ہے تو اسے منشور کہا جاتا ہے۔ اخبار کا اداریہ فحش ہو یا سیاسی جماعت کا منشور گونگا ہو، قوم کی راہ کھوٹی ہوتی ہے۔
پاکستان ایک وفاق ہے۔ اس وفاق کی اکائیوں کو ڈنڈے کے زور پہ اکٹھا نہیں رکھا جا سکتا۔ ضروری ہے کہ پاکستان کے ہر کونے میں رہنے والا شہری یہ یقین رکھتا ہو کہ پاکستان کی ریاست اس کے بہترین مفاد، تحفظ اور احترام کی ضمانت دیتی ہے۔ یہ احساس اقتدار کو مارگلہ کی پہاڑیوں میں محدود رکھ کے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم وفاق اور اس کی اکائیوں کے درمیان اعتماد کا نشان ہے۔ اٹھارہویں ترمیم پر کھلا سیاسی مباحثہ ہونا چاہئے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ اختلاف رائے کو غداری سمجھنا بند کیا جائے۔ صحافت کا نرخرہ دبا کر حقیقی سیاسی عمل ممکن نہیں۔ احتساب کو اقتدار کے کھیل کا ہتھیار بنا کر منتخب اہداف پر چاند ماری سے عدلیہ کا وقار بحال نہیں ہو گا۔ پاکستان کی آبادی بہت بڑا چیلنج ہے لیکن اسے قومی اثاثے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ تعلیم کے لئے وسائل مختص کئے جائیں اور تعلیم کا کلچر تبدیل کیا جائے۔ ہم تو نصاب تعلیم کا حرف بدلنے کے روادار نہیں، ادھر سوال درسگاہ میں علمی اور تحقیقی آزادی کا ہے۔ ہماری معیشت کبھی بھی بہت اچھی حالت میں نہیں تھی لیکن گزشتہ تیس برس میں ہم اپنے ہی خطے میں ترقی کی دوڑ ہار رہے ہیں۔ ہمیں اس ملک کے آئینی، جمہوری اور ریاستی اداروں پر اعتماد کرتے ہوئے وسیع تر معاشی حکمت عملی مرتب کرنی چاہئے۔ معیشت کی منطق کو تسلیم کریں گے تو ہر طبقے اور ہر ادارے کے لئے زیادہ وسائل میسر آ سکیں گے۔ فیصلہ سازی پر تحکمانہ اجارہ قائم رکھنے سے معیشت کو دیمک چاٹ جائے گی۔
ماضی میں ہم نے دیکھا کہ کاغذ کی پتنگ اڑائی جائے تو کٹ جاتی ہے۔ کاٹھ کی سائیکل متعارف کروایا جائی تو وہ پنکچر ہو جاتی ہے، تاریخ بتائے گی کہ جیپ کا شو روم کیا منافع دے گا۔ صاف پانی کی مانگ ہر طرف موجود ہے لیکن جمہوریت کا صاف پانی مٹکوں میں نہیں، بصیرت رکھنے والی آنکھ میں بھر کے لایا جاتا ہے۔ سیاست کے فیصلے عدالتوں میں نہیں ہوتے۔ جمہوریت کا پودا خوفزدہ صحافت کی مٹی میں نمو نہیں پاتا۔ یہ جمہوریت نہیں، پیوستہ مفادات کا سائیڈ پروگرام ہے۔ جمہوریت محبت کی تمثیل کا اثبات ہے اور سائیڈ پروگرام افواہوں کی وہ سرگوشی ہے جس کی تاریکی میں جرائم پرورش پاتے ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں