آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف پہلے ہی یہ الزامات عائد کر رہے تھے کہ ’’ خلائی مخلوق کی طرف سے ان کے ساتھیوں پر مسلم لیگ (ن) چھوڑنے اور پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا گیا ۔ میاں نواز شریف کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسی جمہوریت نہیں چلے گی ، جس میں لوگ آزادانہ طور پر فیصلے نہ کر سکیں ۔ اب یہی بات پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی کہہ رہے ہیں کہ ان کے لوگوں پر بھی پیپلز پارٹی کو چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ ایک ہی سیاسی جماعت کو انتخابات میں کامیاب کرانے کے لیے راہ ہموار کی جا سکے ۔ بلاول بھٹو زرداری بھی میاں محمد نواز شریف کی طرح ایسی جمہوریت کو ناقابل قبول قرار دے رہے ہیں اور متنبہ بھی کر رہے ہیں کہ ایسی جمہوریت ملک کے لیے خطرناک ہو گی ۔ بلاول بھٹو زرداری اب یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ تمام ’’قوتوں ‘‘ سے اپیل کرتے ہیں کہ پاکستان کے عوام پر اعتماد کیاجائے اور انہیں فیصلہ کرنے دیا جائے ۔
اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس صورت حال میں مفاہمت کرنے یا مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک ہی بات کر رہے ہیں اور ان کے بقول انہیں ایک جیسی صورت حال کا سامنا ہے ۔ جنوبی

پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنماؤںنے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے ۔ یہ سارے رہنما اپنے حلقوں میں انتہائی موثر ہیں اور انتخاب جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، جنہیں ’’ الیکٹ ایبلز ‘‘ ( Electables ) کہا جاتا ہے ۔ ملتان سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک امیدوار کو ایک ادارے کے دفتر میں بلا کر مبینہ طور پر دھمکیاں دینے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعہ پر میاں محمد نواز شریف نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ پنجاب میں کئی امیدواروں نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ واپس کر دیئے ہیں ۔ اسی طرح سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کے متعدد رہنما پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس ( جی ڈی اے ) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں ۔ بلاول بھٹو زرداری کا یہ بھی کہنا ہے کہ پورے ملک میں پیپلز پارٹی کے یونین کونسل سطح تک کے رہنماؤں پر پارٹی چھوڑنے اور دوسری پارٹی میں شمولیت کے لیے دباؤ ڈالا گیا ۔ پاکستان میں عام آدمی نے بھی یہ محسوس کر لیا ہے کہ بڑے پیمانے پر سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے اور پاکستان تحریک انصاف میں ’’ لوٹوں کی شمولیت ‘‘ کا عمل ازخود یا آزادانہ نہیں ہے ۔
اس صورت حال میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے بیانات سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ وہ عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر سکتی ہیں ۔ اگر انہوں نے جمہوری عمل میں شامل رہنے کے لیے بائیکاٹ کا فیصلہ نہ کیا تو عام انتخابات کے نتائج کو مدنظر رکھ کر وہ احتجاج کی حکمت عملی اختیار کریں گی کیونکہ سیاسی عمل میں رہنے کے لیے یہ ان پر لازم ہو گا ۔ اس وقت جو سیاسی ماحول بن چکا ہے اور سیاسی اور جمہوری عمل میں مداخلت کا عام تاثر پختہ ہو چکا ہے ، اس میں 25 جولائی 2018 ء کے عام انتخابات ملک میں سیاسی استحکام لانے کا سبب بنتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ۔
کچھ حلقوں کا خیال یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومتوں میں مبینہ طور پر بڑی کرپشن ہوئی ہے اور یہ حکومتیں عوام کو ڈلیور نہیں کر سکی ہیں ۔ اب ان سے نجات کے لیے عمران خان کو اقتدار میں لانا بہت ضروری ہے تاکہ وہ ان دونوں کے پیدا کردہ ’’ بگاڑ ‘‘ کو ختم کر سکیں اور اچھی حکمرانی دے سکیں ۔ ان حلقوں کا یہ بھی موقف ہے کہ عمران خان خود کرپشن میں ملوث نہیں ہیں اور ان پر کرپشن کا کوئی الزام بھی نہیں ہے ۔ وہ دیانت دار ہیں اور اس ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں ۔ لہذا انہیں اقتدار میں لانے کے لیے جو بھی حربے استعمال کیے جا رہے ہیں ، وہ ملک کے ’’ عظیم تر مفاد ‘‘ میں ہیں ۔ اگر ان حلقوں کے اس موقف کو درست تسلیم کر بھی لیاجائے تو ان کا یہ اعتراف سامنے آتا ہے کہ پاکستان کے عوام پر نہیں بلکہ ’’ حربوں ‘‘ پر انحصار کیا جا رہا ہے ۔ اس کے لیے ان حلقوں کا جواب یہ ہوتا ہے کہ عوام شعور کی اس منزل تک نہیں پہنچے ہیں کہ وہ ان روایتی سیاست دانوں سے نجات حاصل کر سکیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد کیا حالات بنتے ہیں ۔ ہم نے تو تاریخ سے یہ سبق سیکھا ہے کہ اگر عوام کو آزادانہ ماحول میں فیصلہ نہ کر نے دیا جائے تو سیاسی بے چینی پیدا ہوتی ہے ، جو کسی بھی وقت حالات کو بگاڑ سکتی ہے ۔ آئندہ عام انتخابات کا اصل نتیجہ 25 یا 26 جولائی کو نہیں بلکہ پانچ چھ ماہ بعد آئے گا ۔ کچھ قوتیں از خود طے کر لیتی ہیں کہ ملک کےمفاد میں کیا ہے ۔ اب یہ طے کرنا مشکل ہے کہ یہ ملک کا مفاد ہے یا کوئی مخصوص مفاد ہے ۔ سیاسی عمل میں غیر سیاسی قوتوں کی مداخلت کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلا ہے ۔ عمران خان کی دیانت داری اور پاکستان سے ان کی محبت پر شک نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کے ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے کے لیے وہی ٹیم ہے ، جو میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری کے ساتھ تھی ۔ تبدیلی عوام لاتے ہیں ۔ ’’الیکٹ ایبلز ‘‘ اور مخالف سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کے حربوں سے تبدیلی نہیں آتی ہے اور یہ بات الیکشن کے کچھ عرصے بعد سامنے آ جائے گی ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں