آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک میں چھٹی نگراں حکومت آگئی تاکہ وہ شفاف الیکشن کراکر اقتدار آنے والے منتخب نمائندوں کے حوالے کرکے سبکدوش ہوجائے ۔پچھلی نگراں حکومت میں خصوصاً پنجاب کے چیف منسٹر نجم سیٹھی پر الیکشن میں دھاندلیوں کے الزامات پی ٹی آئی کے عمران خان نے لگائے تھے ۔احتجاج ہوا علامہ طاہرالقادری ماڈل ٹائون سانحہ کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی ایکشن نہ لینے پر عمران خان کے ساتھ اسلام آباد دھرنے میں شریک ہوئے ،بعدازاںدھرنا سانحہ آرمی پبلک اسکول کی وجہ سے منسوخ کرنا پڑااور حکومت کامیابی سے جھیل گئی۔اب پھر نگران حکومت آ چکی ہے اس کو غیر جانب دار رہنے کی ضرورت ہے ۔ماضی کی حکومت نے 5سال ٹیکسوں ،قرضوں ،لوڈشیڈنگ ،مہنگائی ،بیروزگاری ،صاف پانی کی فراہمی کے وعدوں کو ہوا میں اُڑاکر اپنی حکومت اور اقتدار کو ن لیگ سے نہیں نکلنے دیا ۔بے تحاشہ کرپشن کے الزامات لگتے رہے تمام مقدمات چلتے رہے اب 10سال ہونے کو آرہے ہیں ۔پی پی پی دور کے مشہور مقدمات 5سال تک چلتے رہے ۔ اربوں روپے کی کرپشن ، رینٹل پاور منصوبے ،ایفی ڈرین ،حج اسکینڈل ،نندی پور پاورپروجیکٹ میں ملوث تمام ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں ۔مسلم لیگ ن کے موجودہ 5سالوں میں بھی پانامہ لیکس کا شور رہا صرف میاں نوازشریف ہی نااہل ہوئے ۔قانون کے مطابق نگراں حکومت آگئی اورآتے ہی اچانک

ڈالر 110روپے سے راتوں رات 125روپے تک پہنچا دیا گیا ۔پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا اس پر بھی بس نہیں ہوا ۔پیٹرول اور ڈیزل کو بالترتیب 100روپے لیٹر اور 124روپے لیٹر کردیا گیا ۔اس نگراں حکومت کو چیف جسٹس ثاقب نثار بھی لگام نہیں ڈال سکے ۔البتہ ایک کمیٹی ضرور تشکیل دی ہے جو اس کے بڑھانے کا جواز بتائے گی ۔قوم کی معلومات کے لئے اس وقت پیٹرول بیرونی دنیا میں 48ڈالر فی بیرل میں فروخت ہورہا ہے۔ایک بیرل میں 159لیٹر ہوتے ہیں جب پاکستان نے خریدا تو ڈالر 105روپے کا تھا ۔تمام اخراجات بھی لگائے جائیں تو 60ڈالر فی بیرل ہوتے ہیں ۔اگر آج کا ڈالر بھی لگائیں تو 125روپے فی ڈالر سے 46روپے فی لیٹر قیمت خرید ہے ۔اُس پر 17فی فیصد سیلز ٹیکس 3فیصد ایکسائز ٹیکس (جبکہ تمام اشیاء سے ایکسائز ٹیکس ختم کردیا گیا ہے )6فیصد سرچارج (تمام اشیاء پر سرچارج بھی ختم کیا جاچکا ہے )پھر بھی 57روپے فی لیٹر بنتا ہے ۔اس نگراں حکومت کو کس نے اختیار دیا ہے کہ وہ منافع میں اضافہ کرکے عوام پر مزید بوجھ ڈالے ۔وہ 25جولائی تک کی مہمان ہے جبکہ خود حکومت کو 100ارب روپے ایمنسٹی اسکیم سے وصول بھی ہوچکے ہیں ۔اور اُس کی تاریخ میں بھی توسیع ہوچکی جس سے مزید 100ارب روپے متوقع ہیں ۔ابھی عوام اس پیٹرول بم کےاثرات سے نکلے نہیں تھے کہ اسی نگراں حکومت کی آڑ میں کے الیکٹرک نے تمام غریب صارفین 300یونٹ تک جن کو5.80روپے فی یونٹ چارج کرتے تھے اچانک 10:20روپے فی یونٹ لگاکر پچھلے ماہ کا بل بھیج دیا ہے اور اس سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے غریب صارفین کی حد 15:20روپے فی یونٹ تک بڑھاکر عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے ۔اب جب کوئی بھتہ بھی وصول کرنے والا نہیں ہے کس کی آڑ میں یہ اضافہ کیا گیا ہے ۔میری چیف جسٹس صاحب سے درخواست ہے کہ عوام کوکے الیکٹر ک کی من مانی قیمتوں سے بھی نجات دلوائی جائے ۔جبکہ دیگر صوبوں میں پرانے ہی داموں پر غریب صارفین سے بل وصول کئے جارہے ہیں ۔سندھ ہی کو مہنگی بجلی بیچنے کی اجازت کس نے دی ہے؟
چیف جسٹس صاحب کی ڈیم بنانے کی خوشخبری بھی عوام کو پانی کی فراہمی کا سبب بنے گی مگر اُس میں بہت وقت لگے گا۔جب ہمارے ملک میں دودو سمندر موجود ہیں ہم دیگر ممالک کی طرح پلانٹ لگا کر میٹھا پانی اور بجلی پیدا کرسکتے ہیں ۔تو پھر مقامی طورپر پرائیویٹ سیکٹر کو یہ موقع کیوں فراہم نہیں کیا جاسکتا ۔اگر اس کی بھی آزادانہ پلانٹس لگانے کی اجازت دے دی جائے تو فوری طور پر یہ مسئلہ بھی حل ہوسکتا ہے ۔اگر چہ قوم اس الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے مگر اس مرتبہ کراچی پر سب سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں ۔پہلی مرتبہ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں شہباز شریف اور پی پی پی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری اور پی ٹی آئی کے عمران خان سب آمنے سامنے آچکے ہیں ۔کراچی والے گو مگو کی حالت میں ہیں۔ آیا وہ لسانی تنظیم سے نکل کر قومی سیاسی جماعتوں کی طرف بڑھتے ہیں یا پھر اُسی میں پھنسے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ یہ بھید25جولائی کو ہی کھلے گا۔ ابھی تو وہ پینے کے پانی کی لائنوں میں صبح سے شام قطاریں لگانے میں مصروف ہیں۔ تمام جماعتیں ان کو پھر تسلیاں دینے میں لگی ہوئی ہیں کہ ہم اگر اقتدار میں آگئے تو ہم تمہیں صاف پانی ،سٹرکیں اور سیوریج کا نظام ٹھیک کروادیں گے ۔کوئی بھلا ان سے پوچھے کہ گزشتہ 30سال سے یہی جماعتیں اقتدار میں تھیں تو پھر کراچی کو پیرس بنانے کا خیال کیوں نہیں آیا ۔کراچی جو جگمگاتا شہر ہوتا تھا اب وہ موہنجودڑو کا نقشہ پیش کررہا ہے۔کون اور کب اس کو پیر س بنائے گا۔ اللہ ہی کو معلوم ہے ۔مگر لگ ایسا رہا ہے کہ جیسے یہ تمام سیاست دان دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں کہ چلو پھر ہم سب مل کر عوام کومزید 5سال کے لئے بے وقوف بنائیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں