آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بظاہرپاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کیلئے تمام حالات پیدا ہو چکے ہیں ۔ ایک بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہنے والے میاں محمد نواز شریف نہ صرف پاناما کیس میں نااہل ہو چکے ہیں بلکہ انہیں لندن کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے ریفرنس میں مجموعی طور پر10سال کی قید اور ایک سو کروڑ روپے سے زیادہ جرمانے کی سزا بھی ہو چکی ہے ۔ ان کی صاحبزادی اور ان کی ممکنہ طور پر سیاسی جانشین مریم نواز کو بھی سات سال قید اور جرمانے کی سزا ہوئی ہے ۔ مریم نواز عمران خان کیلئے بہت بڑا چیلنج ہو سکتی تھیں ۔ اس ریفرنس میں میاں نواز شریف کے داماد اور صاحبزادوں کو بھی سزا ہوئی ہے ۔ اس طرح ایک سیاسی خانوادے ( Political Dynasty ) کو وقتی طور پر سیاست سے باہر کر دیا گیا ہے ۔ یہ سب کچھ 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات سے قبل ہوا ہے ۔ دوسری طرف انتخابات سے پہلے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے کیونکہ منی لانڈرنگ سے متعلق ایف آئی اے کی ایک رپورٹ پر ممتاز بینکار حسین لوائی کی گرفتاری کے بعد مزید کارروائی کا امکان ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے موجودہ صدر میاں شہباز شریف عمران خان کیلئے کوئی بڑا چیلنج نہیں ہیں کیونکہ وہ ’’ سسٹم ‘‘ کے خلاف لڑنے کے نہیں بلکہ اس کے

ساتھ چلنے کے حامی ہیں ۔ ان کا غیر جارحانہ اور غیر مزاحمتی بیانیہ عوام کو اپیل نہیں کر سکے گا ۔ بلاول بھٹو زرداری بھی کوئی بڑا چیلنج نہیں بن سکیں گے ۔ انہوں نے سندھ میں جس طرح انتخابی مہم چلا ، وہ سندھ میں ہی ختم ہو گئی ۔ سندھ سے باہر اس انتخابی مہم کی نوعیت ہی تبدیل ہو گئی ہے کیونکہ دیگر صوبوں میں پارٹی کی عوامی مقبولیت سندھ کی طرح نہیں ہے ۔ سندھ میں بھی صورت حال کافی تبدیل نظر آتی ہے ۔ پنجاب میں زیادہ تر ’’ الیکٹ ایبلز ‘‘ ( Electables ) پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں ۔ بلوچستان کا مینڈیٹ بہت حد تک تقسیم اور تحریک انصاف کے حق میںنظر آتا ہے ۔ خیبر پختونخوا میں بھی تحریک انصاف کو متحدہ مجلس عمل ( ایم ایم اے ) اور عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی ) کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی سے کوئی چیلنج نہیں ہے ۔ عام انتخابات میں جو آزاد امیدوار کامیاب ہوں گے ، وہ بھی (Managable) ہوں گے ۔
میں کچھ دنوں سے اپنی صاحبزادی کی شادی کے سلسلے میں لندن میں ہوں اور دور بیٹھ کر ملک کا سیاسی نقشہ وسیع تر تناظر میں زیادہ واضح محسوس ہو رہا ہے کہ سارے حالات عمران خان کے حق میں ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ان حالات کا بنیادی سبب ’’ احتساب ‘‘ کا جاری عمل ہے ۔ یہ حالات برقرار رہیںگے یا نہیں ؟ مستقبل کے حوالے سے یہ ایک بنیادی سوال ہے ۔ اگر احتساب بلا امتیاز نہ ہوا اور اس کا دائرہ محدود رہا تو حالات کی تبدیلی کیلئے سیاسی معروضیت جنم لے گی اور اسے کوئی نہیں روک سکتا ۔ ہو سکتا ہے کہ عام انتخابات سے قبل ہی کوئی غیر معمولی صورت حال پیدا ہو جائے ۔ میاں محمد نواز شریف سمیت کسی کے نااہل یا سزا یافتہ ہونے پرخوش نہیں ہونا چاہئے لیکن اگر کرپشن ہے تو اس کا بلاامتیاز اور بے رحمانہ احتساب بھی ہونا چاہئے ۔ ہم ہمیشہ سے اس بات کے مخالف رہے ہیں کہ احتساب کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے یا احتساب کو مخصوص لوگوں تک محدود رکھا جائے ۔ ان تمام لوگوں کو گرفت میں لایا جائے ، جنہوں نے کرپشن یا ناجائز طریقے سے دولت اکٹھی کی یا جن کی دولت ان کے معلوم ذرائع آمدنی کے مطابق نہیں ہے ۔ ایسے لوگوں کا تعلق چاہے کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو یا کسی بھی عہدے پر وہ کام کرتے ہوں ، انہیں گرفت میں لانا چاہئے ۔ پاکستان کے وسائل کی بے پناہ لوٹ مار نے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے بلکہ بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور مہنگائی نے پاکستانی سماج میں ایک خوف ناک ہیجان پیدا کر رکھا ہے ۔ یہ ہیجان صرف اس صورت میں ختم ہو سکتا ہے ، جب تمام لوگوں کا بلا امتیاز احتساب ہو گا اور لوٹی ہوئی دولت واپس آئے گی ۔ صرف سزاؤں سے مسئلہ حل نہیں ہو گا ۔ لوٹی ہوئی دولت واپس لانا ضروری ہے ۔ صرف اسی سے معاشی بحران اور سماجی ہیجان کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔ بلا امتیاز احتساب ایسا ہونا چاہئے کہ جس کے بارے میں فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ
’’ دیکھیں گے ، ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
سب تخت اچھالے جائیں گے
سب تاج گرائے جائیں گے
اور اس احتساب کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے ۔ ’’ اور راج کرے گی خلق خدا ، جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو ۔ ‘‘ حقیقت یہ ہے کہ خلق خدا بہت پریشان ہے ۔ مخصوص احتساب اور لوٹی ہوئی دولت واپس نہ آنے سے یہ ہیجان بڑھے گا ۔ یہ ہیجان کسی بھی وقت کوئی خوف ناک شکل اختیار کر سکتا ہے ۔ عمران خان کی پارٹی میں جو لوگ حاوی ہو گئے ہیں ، وہ سب ’’ اسٹیٹس کو ‘‘ والے ہیں ، جس کی عمران خان خود مخالفت کرتے ہیں ۔ یہ لوگ عمران خان کی ٹیم کے طور پر اس ہیجان کا خاتمہ نہیں کر سکتے ۔ اگر احتساب محدود رہا اور ماضی کی طرح اسے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا تو تمام تر ناموافق حالات کے باوجود مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں میں اب بھی یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اس ہیجان کو سیاسی رخ پر ڈال دیں ۔ اگر وہ کچھ بھی نہ کر سکے تو سیاسی انتشار ضرور پیدا ہو گا ۔ جس احتساب کی وجہ سے حالات عمران خان کے حق میں ہوئے ہیں ، اس احتساب کے عمل کی خامیاں دور نہ ہوئیں ، اسے سیاست سے الگ نہ کیا گیا اور اس کا دائرہ وسیع نہ کیا گیا تو یہ حالات جلد یا بدیر تبدیل ہو جائیں گے ۔ قابل احتساب لوگ عمران خان کی پارٹی میں بھی ہیں اور سیاسی جماعتوں سے باہر وہ لوگ بھی ہیں ، جن پر آج تک ہاتھ نہیں ڈالا جا سکاہے ۔ ان سب کا احتساب ہونا چاہئے ۔ ورنہ معروضیت اپنا راستہ بناتی ہے ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں