آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تقریباً 11 سال قبل یہ 10 ستمبر 2007ءکا دن تھا، موسم کی مناسبت سے اگرچہ یہ ایک خوشگوار صبح تھی لیکن حکمراںپرویز مشرف کی آمریت کے زیرعتاب پاکستان مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت کیلئے یہ کڑی دھوپ تھی، 1999ءمیں پرویز مشرف کی طرف سے اقتدار پرقبضہ کر کے نہ صرف وزرات عظمیٰ بلکہ ملک سے بے دخل کئے جانیوالے نواز شریف سات سال کی جلا وطنی کے بعد واپس پاکستان پہنچ رہے تھے۔ چند ماہ اٹک قلعے کی فصیلوں میں قسمت کی ستم ظریفی پرگریہ کرنے کے بعد بالآخر سعودی دوستوں کی مدد سے دس سالہ جلا وطنی کا معاہدہ کرکے جدہ جانے والے نواز شریف کی پہلی بار لندن سے اسلام آباد ائرپورٹ آمد تھی۔ تب بھی ملک میں عام انتخابات کیلئے طبل بج چکا تھا اور نواز شریف ہر قیمت پر پاکستان واپسی چاہتے تھے جس کیلئے وہ معاہدہ ختم ہونے کیلئے تین سال کا انتظار کرنے کے لئے بھی تیار نہ تھے۔ نواز شریف کی وطن واپسی کے اعلان نے ایک ہلچل برپا کر دی تھی۔ اپنے رہنما کی غیر موجودگی میں صبر شکر کر کے مدہوشی کی نیند سونے والی مسلم لیگ ن بھی انگڑائیاں لینے لگی تھی۔ مسلم لیگ ن کے رہنما اور کارکنان نواز شریف کا استقبال کرنے کیلئے بے تاب تھے جس کے لئے کونوں کھدروں میں پڑے پارٹی جھنڈوں سے گرد جھاڑ لی گئی، کھلونا نما شیربھی خرید لئے گئے ،بھول جانے والے پارٹی نعرے بھی یاد کئے

جانے لگے ، اسلام آباد ائیرپورٹ پہنچنے کی تیاریاں ہونے لگیں لیکن دوسری طرف حکومت وقت کی طرف سے نواز شریف کو ائیر پورٹ کی حدود سے باہر نہ نکلنے اور کارکنوں کو کسی طور بھی ایئرپورٹ کی حدود سے دور رکھنے کیلئے بھرپور تیاریاں کر لی گئیں۔ راولپنڈی ،اسلام آباد کی طرف آنے والے راستے سیل کر دئیے گئے،میڈیا نمائندوں کیلئے بھی اسلام آباد ائیر پورٹ علاقہ ممنوعہ بنا دیا گیا۔ لیگی کارکنوں اور رہنماوں کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے 56 چیک پوسٹیں کھڑی کر دی گئیں، دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا گیا۔ شہید بے نظیر بھٹو ائیرپورٹ کی طرف سے جانے والے راستوں پر جا بجا رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں، ائیر پورٹ سے ملنے والی ذیلی سڑکوں کو خار دار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا۔ پولیس اور ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کو سرکاری اسلحےسے لیس کردیا گیا، لیگی کارکنوں کے عزائم بھانپ کر کریک ڈاون شروع کر دئیے گئے، سینکڑوں کارکنوں اور درجنوں رہنماوں کوحراست میں لے لیا گیا۔ وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں اور مسلم لیگ ن کے رہنماوں اور کارکنوں کے درمیان جاری اسی آنکھ مچولی میں نواز شریف کا طیارہ پی کے 786 آٹھ بج کر بیالیس منٹ پر اسلام آباد ایئر پورٹ پر لینڈ کر گیا۔ نواز شریف کو طیارے سے باہر آنے کی اجازت نہ ملی جبکہ مٹھی بھر لیگی کارکنان بھی اپنے لیڈر سے اظہار یک جہتی کیلئے ائیر پورٹ نہ پہنچ سکے۔
نواز شریف ، ان کے ساتھی اور انکے ہمراہ لندن سے آنیوالے عالمی میڈیا کے نمائندے 90منٹ تک طیارے میں ہی محصور رہے جس کے بعد انہیں لائونج تک آنے کی اجازت ملی۔ وہیں نواز شریف کو نیب حکام کی طرف سے وارنٹ تھما کرگرفتار کر لیا گیا اورچکلالہ ائیر بیس پر تیار دوسرے طیارے سے زبردستی جدہ واپس بھیج دیا گیا۔
نواز شریف کو واپس بھیجنے کی خبر جیسے ہی ٹی وی اسکرینوں پر نمودار ہوئی ،چار گھنٹے سے جاری تماشا بھی اختتام پذیر ہو گیا اور لیگی کارکنان کا جوش جھاگ کی مانند بیٹھ گیا۔ تاریخ کے اس ورق کوپلٹنے کی ضرورت اس لئے پڑی کہ گیارہ سال پہلے کی طرح نواز شریف ایک بار پھر لندن سے واپس پاکستان پہنچ رہے ہیں اور وہ اسی طرح توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کی واپسی پر مسلم لیگ ن کے کارکنان تما رکاوٹیں توڑ کر ائیر پورٹ پہنچیں گے۔ اس بار نواز شریف کے ساتھ ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی ہوں گی جو ان سے بھی زیادہ جارحانہ عزائم رکھتی ہیں اور جو باتیں نواز شریف ڈھکے چھپے الفاظ میں کہتے تھے ،مریم نواز وہ ببانگ دہل کہتی نظر آتی ہیں۔ قانون کی نظر میں احتساب عدالت کی طرف سے ایون فیلڈ پراپرٹیز کے فیصلے کے بعد نواز شریف اور مریم نواز اب ملزم سے مجرم بن چکے ہیں جنہیں پاکستان واپس پہنچنے پر گرفتار کرنا قانونی تقاضا ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز کو بخوبی ادراک ہے کہ اب پاکستان پہنچنے پر ان کیلئے پروٹوکول نہیں بلکہ جیل کی سلاخوں کا بندوبست ہوگا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وطن واپسی کے ذریعے وہ ایک تیر سے کئی شکار کرسکیں گے۔ جہاں وہ یہ ثابت کریں گے کہ پاکستان میں ہتھکڑیاں اور جیلیں صرف سویلین رہنمائوں کا مقدر ہیں ،انصاف کا ترازو صرف سیاست دانوں کے خلاف جنبش میں آتا ہے جبکہ پرویز مشرف جیسے آمرآج بھی نظام انصاف اور آئین کا منہ چڑاتے پھرتے ہیں۔
وہ پاکستانی قوم کو باور کرائینگے کہ احتساب کے نام پر انتقام کے ذریعے عوام کے دلوں سے ان کے رہنماوں کی محبت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ وہ یہ بھی یقین دلائیں گے کہ ہر طرح کی بے انصافی کے باوجود وہ اسی نظام سے انصاف کے حصول کی امید رکھتے ہیں اور انہوں نے ووٹ کی عزت اور عوام کے حق حکمرانی کا صرف نعرہ نہیں لگایا بلکہ وہ عملی جدوجہد کے ذریعے اس بار اسے منطقی انجام تک پہنچا کردم لیں گے۔ سخت سزاوں پر مبنی احتساب عدالت کے فیصلے کی قانونی موشگافیاں اپنی جگہ لیکن قانونی ماہرین کی نظر میں انتہائی کمزور فیصلے نے نواز شریف کو مضبوط جواز ضرور فراہم کر دیا ہے کہ وہ عوام بالخصوص مسلم لیگ ن کے کارکنان کو احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکال سکیں۔ان حالات میں گیارہ سال بعد مسلم لیگ ن کے رہنمائوں اور کارکنان کا ایک بار پھر امتحان آن پہنچا ہے کہ کیا وہ اپنے لیڈر کی توقع کے مطابق لاہورائِرپورٹ پہنچ پائیں گے یا ماضی کی طرح اس بار بھی وہ مسلم لیگ ن پرمزاحمتی پارٹی نہ ہونیکا لیبل سجائے رکھیں گے۔
نواز شریف اور مریم نواز کیلئے احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد لیگی کارکنان کا رد عمل یقیناً حوصلہ افزا نہیں، ان کے لئے فیصلے کے روز ان پارٹی رہنمائوں کی غیرحاضری بھی تکلیف دہ ہے جو ان کی پیشی پر اپنی صورت دکھا کر حاضری لگواتے تھے۔ فیصلے کے بعد پارٹی صدر شہباز شریف کی پریس کانفرنس نے بھی لیگی کارکنان کو مایوس کیا جوپارٹی قیادت کی طرف سے سخت رد عمل کی توقع کر رہے تھے۔ زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو بطور پارٹی صدر شہباز شریف آج بھی احتجاج کرنے کی بجائے مفاہمتی پالیسی پر گامزن رہنے کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن لڑنے پر یقین رکھتے ہیں۔ فیصلے سے ایک دن قبل پارٹی کا انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے بھی انہوں نے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو صرف منشور کے ٹائٹل کا حصہ بنانے پرہی اکتفا کیا ،اس بارےمیں کوئی ذکر نہ کر کے بھی کارکنان کو پوری تندہی سے صرف الیکشن لڑنے کی ترغیب دی ہے۔ اسی طرح گزشتہ کچھ عرصے میں توہین عدالت کا سامنا کرنے والے پارٹی رہنما اس لئے دبک کر بیٹھ گئے ہیں کیونکہ وہ کسی احتجاج کی صورت میں بطور امیدوارالیکشن کی دوڑ سے ہرگز باہر نہیں ہونا چاہتے۔ اس صورتحال میں لیگی کارکنان تذبذب کا شکار ہیں کہ وہ اس راستے پہ چلتے ہوئے سخت احتجاج کریں جس کی ترغیب پارٹی قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز دے رہے ہیں یا وہ پارٹی صدر شہباز شریف کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سر جھکا کر رد عمل کیلئے مناسب وقت اور سازگار ماحول آنے کا انتظار کریں۔کیا گیارہ سال پہلے کی طرح نوازشریف کو اس بار بھی ائیرپورٹ سے باہر نہیں آنے دیا جائے گا لیکن 13 جولائی کا دن ثابت کرے گا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما اور کارکنان اپنے قائد سے والہانہ محبت کے دعوئوں کا اظہار ہر مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر ائیر پورٹ پہنچ کر کرتے ہیں یا 10 ستمبر 2007 کی طرح اس بار بھی وہ سرکاری مشینری کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں۔ جمعہ کو لاہور ائیر پورٹ پر نواز شریف اور مریم نواز کا استقبال ووٹ کو عزت دو کے بیانیے اور عملی جد جہد کے مستقبل کا تعین بھی کر دے گا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں