آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جگہ جگہ آمنا سامنا ہو رہا ہے۔ کسی کا کسی سے سامنا ہےتو کسی کو حالات کا سامنا ہے۔ کچھ مصائب کا سامنا کر رہے ہیں مگر ان حالات میں سب سے خطرناک سامنا ووٹرز کا ہے۔ جس کسی کو بھی ووٹرز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اسے مشکلات کا حل ڈھونڈنے میں پریشانی کا سامنا ہے۔ سامنا نیب، عدالت اور الیکشن کمیشن کا بھی ہے۔ ان تمام سامنوں پہ بات کریں گے مگر پہلے بات گزشتہ جمعے کو آنے والے دو اہم فیصلوں سے متعلق ہو جائے۔ نیب عدالت نے نماز جمعہ کے بعد کرپشن کے مقدمات پر ایک اہم فیصلہ سنایا جس میں سابق نااہل وزیراعظم، ان کی صاحبزادی اور ایک سابقہ فوجی کیپٹن کو سزا دی گئی۔ یہ سزا اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں واقعہ احتساب عدالت نے سنائی۔ ساتھ ہی جڑے ہوئے سیکٹر جی ٹین میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نماز جمعہ سے پہلے ایک اہم فیصلہ سنایا۔ جسٹس عامر فاروق نے حکم دیا کہ ’’زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکال دیا جائے۔‘‘ ان دو مقدموں میں شہرت کا دخل ہے۔ ظاہر ہے کہ میاں نواز شریف کا مقدمہ زیادہ مشہور ہے، ویسے بھی چوری کے چرچے زیادہ ہوتے ہیں۔ زلفی بخاری کی زیادہ سے زیادہ شہرت کیا ہے کہ وہ عمران خان کا دوست ہے، ایک کامیاب بزنس مین ہے، پاکستان کو ہر سال لاکھوں ڈالرز زرمبادلہ کے طور پربھیجتا ہے، قانون کا احترام کرتا ہے۔ اسے بلیک لسٹ میں

ڈالنے والے دراصل عمران خان کے دشمن ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق زلفی بخاری کا نام ’’نیک سیرت‘‘ احسن اقبال نے بلیک لسٹ میں ڈالا تھا۔ زلفی بخاری اگرچہ کاروبار برطانیہ میں کرتا ہے مگر اس کی رشتہ داریاں اور بہت سی دوستیاں پاکستان میں ہیں۔ اسلام آباد اور اس کے قرب و جوار میں رہنے والے سادات کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں مثلاً علی پور فراش کے سید ظفر علی شاہ، مل پور کے سید نیئر حسین بخاری، شاہ اللہ دتہ کےسید ذیشان علی نقوی، سنگ جانی کے ڈاکٹر توقیر شاہ اور اٹک کے بخاری آپس میں رشتہ دار ہیں۔ ان سب کی سیاسی رفاقتیں مختلف پارٹیوں سےہیں۔ زلفی بخاری کے خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد اٹک سے ایم پی اے بنتا رہا ہے۔اب بھی اس کا چچا الیکشن میں پی ٹی آئی کا امیدوارہے۔ خود زلفی بخاری کے والدسیدواجد بخاری وزیر رہے ہیں۔ دراصل زلفی بخاری کو بدنام کرنے کا مقصد صرف عمران خان کو بدنام کرنا تھا۔ میڈیا کے ذریعےیہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ابھی عمران خان کے پاس اقتدار بھی نہیں آیا اور وہ اپنے اصول بھول گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زلفی بخاری کو روکا گیا تو عمران خان نے کسی کو کوئی فون نہیں کیا، اس کی وضاحت نگران وزیر داخلہ بھی کرچکے ہیں۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ زلفی بخاری نےاپنا قانونی حق استعمال کیا۔ قانون یہ ہے کہ ایسے لوگ جن سے متعلق تحقیقات ہو رہی ہوں، وزارت ِ داخلہ انہیں بیرون ملک جانے کے لئے یک وقتی چھوٹ دے سکتی ہے۔ زلفی بخاری نے یہی قانونی چھوٹ لی۔ یہ چھوٹ چھ روزہ تھی۔ عمرے کی ادائیگی کے بعد زلفی بخاری نے قانون کا احترام کرتے ہوئے عدالت کا سامنا کیا۔ وہ بھاگا نہیں بلکہ اسلام آباد ہی میںرہا۔ زلفی بخاری اپنے دوست عمران خان کی اسلام آباد میں الیکشن مہم کا انچارج بنا ہوا ہے۔ اب تو اس نے اپنے سسر سید ظفر علی شاہ کو بھی پی ٹی آئی کا حصہ بنا لیا ہے۔ جہاں تک اسلام آباد ایئرپورٹ سے عمران خان کے فون کرنے کا سوال ہے، توایسا نہیںہوا۔ کپتان نے کسی کو فون نہیں کیا۔ ہوسکتا ہے زلفی بخاری نے اپنے ایک اوردوست محسن بیگ کوفون کیاہو۔ جو لوگ محسن بیگ سے واقف ہیںانہیں اچھی طرح پتا ہے کہ محسن بیگ کو کام کرنا خوب آتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ زلفی بخاری نے اسلام آباد ایئرپورٹ سے محسن بیگ ہی کو فون کیا ہو۔ باقی رابطے محسن بیگ نے خود کئے۔
اب بات کرتے ہیں زلفی بخاری کے سسر سید ظفر علی شاہ کی جو میاں نواز شریف کے خلاف نیب فیصلے سے ایک روز قبل تحریک ِ انصاف کا حصہ بنے۔ عمران خان خصوصی طور پر ظفر علی شاہ کے گھر آئے۔ ظفر علی شاہ کا گھر اور خود ظفر علی شاہ، دونوں تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ سیاست ظفر علی شاہ کا شوق ہے۔ ان کے والد پولیس میں بھرتی کروانا چاہتے تھے، اس مقصد کےلئے ایک روز لے بھی گئے۔ تانگےکی سواری تھی۔ ظفر علی شاہ کے والد اگلی سیٹ پر تھے جبکہ ظفر علی شاہ پچھلی نشست پر، جونہی تانگہ آہستہ ہوا تو وہ چپکے سے اترے اور گھر کی طرف دوڑ لگا دی۔ جب ظفرعلی شاہ کے والد واپس گھر آئے تو بیٹے نے صاف صاف بتا دیا کہ ’’میں پولیس میںبھرتی نہیں ہونا چاہتا۔ وکالت کروںگا، سیاست کروں گا‘‘ بس پھر شاہ صاحب ان شعبوں کی نذر ہوگئے۔ ان کی پہلی پسندیدگی پیپلزپارٹی تھی، وہ پھر تحریک ِ استقلال کاحصہ رہے، آپ کو یاد رہنا چاہئے کہ نواز شریف، اعتزاز احسن اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما نعیم الحق بھی تحریک ِ استقلال کا حصہ تھے۔ نعیم الحق نے تو 1988 کا الیکشن بھی کراچی سے لڑا تھا۔ خیر قصہ مختصر سید ظفر علی شاہ راولپنڈی سے پنجاب اسمبلی کے رکن رہے۔ اسلام آباد
سے قومی اسمبلی کے رکن رہے۔ سینیٹر بھی رہے۔ انہوں نے ایک طویل عرصہ مسلم لیگ (ن) میں گزارا۔ وہ نوازشریف کے سرپرست بھی رہے۔ انہوں نے چند روز پہلے اس طویل رفاقت کو طلاق دی۔ سید ظفر علی شاہ نے بڑے بڑے سیاستدانوں کے ساتھ کام کیا مگر اصولوں پر سمجھوتہ کبھی نہیں کیا۔ ظفر علی شاہ نے خود کو ہر مرحلے پر کرپشن سے بچائے رکھا۔ ماضی قریب میں جمہوریت کے لئے جو سب سے بڑا اتحاد بنا وہ سید ظفر علی شاہ کے گھر پر بنا۔ نوابزادہ نصر اللہ خان کی قیادت میں اے آر ڈی تشکیل پایا۔ سید ظفر علی شاہ کی رہائش گاہ پر نوابزادہ نصراللہ خان، مخدوم امین فہیم اور جاوید ہاشمی سمیت دیگرقائدین جمع ہوئے تھے۔ سید ظفر علی شاہ اے آر ڈی کے سیکرٹری اطلاعات بنے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں اقتدارکم اور جدوجہد زیادہ دیکھی ہے۔ سید ظفر علی شاہ کی جدوجہد ان کے قد کاٹھ میں اضافہ کرتی ہے۔ کردار کا صاف ہونا بھی بڑی بات ہے۔ پی ٹی آئی میں شمولیت کے لئے ان کے گھر سے دو پریشر تھے۔ ان کا صاحبزادہ حسن ظفر سید اور داماد ذوالفقار علی بخاری (جسے سب زلفی بخاری کے نام سے جانتے ہیں) مسلسل دبائو ڈال رہے تھے کہ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی جائے۔ شاید اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ زلفی بخاری کے چچا اٹک سے اور زلفی بخاری کے مرحوم بہنوئی فہد ملک کے انکل محمد میاں سومرو سندھ سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔
خواتین و حضرات! سیاسی جلسوں کے اس موسم میں کسی کو جیلوںکا سامنا ہے تو کسی کو عدالتوں کا، کوئی نیب کا سامنا کر رہا ہےتو کوئی ٹکٹ نہ ملنے کا سامنا کر رہاہے۔ پاکستان کو قرضوں کا سامنا ہے۔ مقروض کرنے والے بڑے کھلاڑی اسحاق ڈار کوپہلے تو مبینہ طور پر بیویوں کا سامنا تھا پھر خودساختہ بیماری کا اور اب انہیںعدالت اور پھر جیل کا سامنا ہے، جن سابق اراکین نے اپنے حلقوں کے لئے کچھ نہیں کیا انہیں ووٹرز کا سامنا ہے۔ اس سامنے کا سامنا کرنا ان لوگوں کے لئے بہت مشکل ہو گیا ہے جو ’’ووٹ کوعزت دو‘‘ کی بات کرتے تھے۔ اب ان سے لوگ کہتے ہیں کہ ’’ووٹر کو عزت دو‘‘ ووٹر، پاکستانی ووٹر، جسے مہنگائی، بیروزگاری، ظلم زیادتی، ناانصافی، گندے پانی سمیت درجنوں مسائل کا سامنا ہے۔ یہی سامنا سیاستدانوں کی مشکلات کو جنم دے رہا ہے۔ یہ مشکلات نئے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ اسی لئے الیکشن کمیشن کو بھی مسائل کا سامنا ہے۔ دیکھئے ہر کسی کو، کسی نہ کسی کا آمنا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ حالات پہ کیا گزرتی ہے، بقول ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ؎
کٹ رہی ہے رفتہ رفتہ اس طرح حیات
وقت کی نائو میں جیسے بجھ رہا ہو اک دیا

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں