آپ آف لائن ہیں
ہفتہ7؍ذوالقعدہ 1439ھ 21؍جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کمزور، غیرذمہ دارانہ منصوبہ بندی، قرضے جی ڈی پی کا 72 فیصد ہوگئے 74 فیصد ہوجائیں گے، نگراں وزیر خزانہ

کمزور، غیرذمہ دارانہ منصوبہ بندی، قرضے جی ڈی پی کا 72 فیصد ہوگئے 74 فیصد ہوجائیں گے، نگراں وزیر خزانہ

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) نگراں وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے قرضوں میں اضافے کی ایک وجہ غیر ذمہ دار اور کمزور معاشی منصوبہ بندی ہے، مجموعی حکومتی قرضوں کی شرح جی ڈی پی کے 72فیصد پر ہے جو رواں مالی سال کے اختتام تک 74فیصد ہو جائیگی ، پاکستان کے ذمہ اندرونی و بیرونی قرضوں کا حجم 245کھرب روپے ہے ، اگلی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج اسکی ادائیگیاں ہونگی،عالمی سطح پر شرح سود بڑھنے سے پاکستان کیلئے مشکلات پیدا ہونگی ، وزارت منصوبہ بندی کے زیر اہتمام سرکاری قرضوں کے موضوع پر سیمینار سے خطاب اور بعدا ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شمشاد اختر نےکہا قانون کے مطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 60 فیصد تک ہونا چاہئے،مجموعی قرضوں کا حجم قانونی حد سے 12 سے 14 فیصد اوپر چلا گیا ہے، بیرونی قرضوں اور واجبات کا مجموعی حجم 92.6ارب ڈالر تک چلا گیا ہے ، عالمی سطح پر شرح سود بڑھنے سے پاکستان کیلئے مشکلات پیدا ہونگی، موجودہ معاشی صورتحال کو سنبھالنے کیلئے ذمہ دار قیادت کی ضرورت ہے، وزیر خزانہ نے

کہامزید قرضے لینے پڑیں گے اور اسکی فیصلہ اگلی حکومت کریگی ، پاکستان کو معاشی ترقی کیلئے مقامی وسائل کو بڑھانااور سرمایہ کاری کی شرح میں اضافہ کرنا ہو گا ، کسی بھی ترقی کرتی معیشت کیلئے قرضے لینےپڑتے ہیں لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ مقامی وسائل اور ریونیو بھی بڑھے اسوقت پاکستان ٹیکس ریوینو، برآمدات کو بڑھانے کی ضرورت ہے ، ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جائے اور برآمدات کیلئے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں ، بجٹ خسارے کی کمی پر بھی قابو پانا ہوگا ، اخراجات میں کمی لانا ہوگی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں