آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
نواز شریف بیٹی کے ساتھ واپس آکر مثال قائم کررہے ہیں، خواجہ آصف

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں ن لیگ کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ نواز شریف بیٹی کے ساتھ واپس آکر مثال قائم کررہے ہیں، نواز شریف اور مریم نواز قید کا سامنا کرنے آرہے ہیں، سزا کے بعد اب انہیں پھانسی لگایا جانا ہی باقی رہ گیا ہے، 69سال کے شخص کو 11سال قید سنادی جائے تو اس سے آگے کیا ہوسکتا ہے، نواز شریف کی بیٹی کو سات سال قید ہوئی ہمارے کلچر میں بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں، اس رشتے کے تقدس کی ہمارے معاشرے میں بہت قدر ہے، نواز شریف تین دفعہ عوام کے ووٹ سے منتخب ہوئے تینوں دفعہ انہیں ووٹ سے نہیں ہٹایا گیا، نواز شریف کے پاس واپس نہ آنے کا آپشن موجود ہے لیکن وہ ووٹ کو عزت دو کے نعرے سے کمٹمنٹ نبھاتے ہوئے واپس آکر قید کا سامنا کریں گے، پاکستان کی تاریخ میں کسی شخص نے بھی چھ سات مہینے میں 122پیشیاں نہیں بھگتیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو کوئی آئین و قانون کا بھگوڑا نہیں کہہ سکتا ہے، ایک اور شخص بھی باہر ہے لیکن اسے واپس لانے یا اسے سزا سنانے کی کسی میں

جرأت نہیں ہے، ن لیگی رہنما تقریروں میں ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ شدومد کے ساتھ لوگوں تک پہنچارہے ہیں، آئین و قانون نے لوگوں کی رائے کو جو تقدس دیا اس کا احترام ہونا چاہئے،ڈیڑھ دو سال سے جو واقعات ہورہے ہیں یہ ہماری تاریخ کا اہم ترین موڑ ہیں، نواز شریف نے اپنے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں چھوڑا، نواز شریف اپنی قربانیوں سے اپنے بیانیہ کو سینچ رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نواز شریف کے بیانیہ کا وزن اٹھاسکتے ہیں، اگر میں نواز شریف کے بیانیہ کا وزن نہیں اٹھاسکوں تو مجھے ان کا کارکن کہلانے کا حق نہیں ہوگا، نواز شریف کے بیانیہ کا وزن پارٹی بھی اٹھائے گی شہباز شریف بھی اٹھائے گا، نواز شریف بیٹی کے ساتھ واپس آکر مثال قائم کررہے ہیں، کوئی لیڈر نہ صرف خود بلکہ اپنی بیٹی کو بھی سزا کیلئے لے کر آئے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ہے، ماضی میں کبھی کارکنوں کی ایسی کمٹمنٹ اور والہانہ جذبہ نہیں دیکھا، ن لیگ کے تمام رہنما کارکنوں سمیت لاہور پہنچیں گے، جمعہ کے بعد انتخابی پولز میں ن لیگ کا گراف بہت بہتر ہوجائے گا، پچھلے تین چار مہینے میں گومگو کی کیفیت سے ن لیگ کے پوائنٹ کم ہوئے تھے۔ ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف خود کو چی گویرا بنانا چاہتے ہیں، پورے پاکستان کو پتا ہے نواز شریف کا مسئلہ بیانیہ نہیں ہے، نواز شریف سے لندن جائیدادوں اور اکاؤنٹس میں تین ہزار کروڑ کا نہ پوچھا جائے تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا، نواز شریف نہ نظریے کی پیداوار ہیں نہ نظریہ ان کا مسئلہ ہے، وہ چاہتے ہیں لوگ ان کی کرپشن اور لوٹ مار کیلئے پاکستان کے اداروں کے خلاف نکلیں لیکن ایسا نہیں ہوگا، جیسے بانی متحدہ کی کراچی میں مافیا کو نہ چھیڑیں تو انہیں پاکستان سے کوئی پرابلم نہیں ہے اسی طرح نواز شریف کی کرپشن نہ پوچھیں تو انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔نواز شریف الطاف حسین پارٹ ٹو تو بن سکتے ہیں مگر نیلسن منڈیلا پارٹ ٹو بننے کا خواب نہ دیکھیں تو بہتر ہے۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ جو شخص نواز شریف کی کرپشن پر ان کے ساتھ جڑے اس کے جڑنے یا نہ جڑنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے، میرے حلقہ انتخاب میں کسی شخص کو نواز شریف سے ہمدردی نہیں ہے، سینٹرل پنجاب میں بھی صورتحال بدل چکی ہے، نواز شریف کے بیانیہ سے ان کے بھائی ہی اتفاق نہیں کررہے تو کوئی اور کیسے متفق ہوگا، نواز شریف کا بیانیہ نہ بک رہا ہے نہ اس کی اہمیت ہے، ن لیگ کا ووٹر بھی اسے نواز شریف کی اپنے پیسے بچاؤ مہم سمجھتا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف، ان کی بیٹی اور بھائی صرف ڈیل کی تلاش میں ہیں، آج انہیں این آر او دیدیں پاکستان اور فوج ٹھیک ہوجائیں گے، جیسے بانی متحدہ کی کراچی میں مافیا کو نہ چھیڑیں تو انہیں پاکستان سے کوئی پرابلم نہیں ہے اسی طرح نواز شریف کی کرپشن نہ پوچھیں تو انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ سربراہ عوامی نیشنل پارٹی اسفندیار ولی نے کہا کہ ہارون بلور کی شہادت کا تین دن سوگ منائیں گے، سوئم کے بعد پھر میدان میں نکلیں گے، دہشتگردوں کا مقصد ہے ہم میدان خالی چھوڑ دیں لیکن میدان خالی نہیں چھوڑیں گے، 2013ء اور 2018ء میں زمین آسمان کا فرق ہے، کارکنوں کو صبر و تحمل سے کام لینے کی ہدایت کی ہے، اگر یہی صورتحال رہی تو کوئی مجھے کیسے قائل کرے گا کہ انتخابات صاف و شفاف ہیں، عوامی نیشنل پارٹی کو باقی جماعتوں کی طرح انتخابی مہم نہیں چلانے دی جارہی ، کیا یہ سب کسی خاص سیاسی جماعت کیلئے میدان خالی کرنے کیلئے ہورہا ہے۔ اسفند یار ولی نے بتایا کہ میں، میرا بیٹا اور میری دونوں بیٹیاں انتخابی مہم چلارہی ہیں لیکن ہمیں صرف سات بندوں کی سیکیورٹی دی گئی ، ہارون بلور کی فاتحہ کے موقع پر بھی موبائل فون پر کالز آرہی تھیں، پولیس افسر کو جیمرز نہ لگانے سے متعلق پوچھا تو اس کے بعد جیمر آیا، سیکیورٹی کی یہ حالت ہے اور کہتے ہیں ہم نے مثالی پولیس بنادی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں