آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہماری قوم اِن دنوں بیک وقت فخر و انبساط اور اندوہ غم کی کیفیات سے گزر رہی ہے۔ وجہ شادمانی یہ کہ اپنے خیراندیش دوست چین کے تعاون سے پاکستان نے چند ہی روز پہلے مدار میں مصنوعی سیارہ چھوڑا ہے جو کئی اعتبار سے بہت زبردست پیش رفت ہے۔ اس سے موسمی آفات اور تغیرات پر قابو پانے میں بڑی مدد ملے گی، اس سے بھی کہیں زیادہ تاریخ پر اثرانداز ہونے والے اور دل وذہن کو خوشیوں اور اعتماد سے بھر دینے والے فاضل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے وہ اقدامات ہیں جو انہوں نے بھاشا اور مہمند آبی ذخائر کی تعمیر کے سلسلے میں کیے ہیں۔ آبی ذخائر کے بارے میں صوبوں اور ماہرین کے درمیان عدم اتفاق سے بھارت کو دریائے جہلم پر بھی ڈیمز تعمیر کرنے کا جواز مل رہا تھا اور پاکستان کے اندر پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس صاحب نے متعلقہ افراد کو ایک جگہ بٹھایا اور چند روز کی مشاورت سے دو آبی ذخائر کی تعمیر پر اتفاق پیدا ہو گیا۔ فاضل چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک اور تاریخی قدم اُٹھایا، اسٹیٹ بینک میں ایک فنڈ قائم کیا اور سب سے پہلے اپنی طرف سے دس لاکھ روپے کا عطیہ پیش کیا۔ پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک مہینے کی تنخواہ دینے کا اعلان کیا جبکہ تمام فوجی افسر دو دِن اور فوجی جوان ایک دن کی تنخواہ اِس فنڈ میں جمع

کرائیں گے۔ اُمید ہے کہ پانچ سات برسوں میں عالمی بینک کے تعاون سے پاکستان کو دو آبی ذخائر دستیاب ہوں گے جن سے ملکی معیشت میں زبردست استحکام پیدا ہو گا۔
بلاشبہ یہ ایک درخشندہ مستقبل کا ایک سہانا خواب ہے، مگر فی الحال ہمیں انتخابات کا مرحلہ درپیش ہے جو روز بروز کٹھن ہوتا جا رہا ہے۔ اس وقت ہمارے تمام اداروں، سیاسی جماعتوں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو اپنی تمام تر توجہ اس امر پر مرکوز کر دینی چاہیے کہ انتخابی عمل پوری طرح شفاف دکھائی دے۔ انتخابات میں صرف گیارہ دن باقی رہ گئے ہیں اور ہر دن اپنی سختی کے اعتبار سے پچاس برس کا معلوم ہو رہا ہے۔ بیشتر سیاسی جماعتوں نے انتخابات کو صحت مند مسابقت کے بجائے انہیں زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ بدترین کردار کشی کے مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ دوسری طرف نیب کا جلال قابلِ دید ہے۔ احتساب عدالتوں کے فیصلے بھی ہیجان انگیز ارتعاش پیدا کر رہے ہیں۔ پچھلے دنوں لاہور کے تھنک ٹینک پائنا کے زیرِ اہتمام سیمینار میں چوٹی کے قانونی ماہرین کی طرف سے یہ صائب رائے دی گئی کہ انتخابی عمل مکمل ہونے تک ہر نوع کی کارروائیاں ملتوی کر دی جائیں جو انتخابات پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ یعنی مقدمات کی سماعت، عدالتی فیصلوں کا اعلان اور گرفتاریوں کے احکام فوری طور پر مؤخر کر دیے جائیں، مگر نیب کی احتساب عدالت نے جناب نوازشریف اور اُن کی صاحب زادی مریم نواز کو سخت سزائیں سنائیں۔ پھر اچانک آصف علی زرداری اور اُن کی ہمشیرہ فریال تالپور ایف آئی اے میں طلب کر لیے گئے اور اُن کے نام ای سی ایل میں ڈال دیے گئے ہیں۔ سیاسی عناصر اِن اقدامات کو پری پول رگنگ سے تعبیر کر رہے ہیں۔
فوج کے بارے میں طرح طرح کے خدشات رفع کرنے کے لیے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کا بطورِ خاص اہتمام کیا اور نوکیلے سوالات کا بڑی خندہ پیشانی سے جواب دیا۔ اُنہوں نے دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی کہ فوج کا انتخابی عمل میں کوئی کردار نہیں۔ اس کی اوّلین ذمہ داری الیکشن کمیشن کی اعانت اور امن و امان قائم رکھنا ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ تین لاکھ فوج کو غلط احکام نہیں دیے جا سکتے۔ ان کی آواز میں بڑا عزم تھا کہ وہی شخص وزیراعظم بنے گا جسے رائے دہندگان منتخب کریں گے۔ اُن کے خیالات پر سوشل میڈیا میں تابڑ توڑ حملے ہو رہے ہیں۔ میرے خیال میں اب لیپا پوتی سے کام نہیں چلے گا۔ بین الاقوامی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔
چند باتیں غیر معمولی احتیاط کا تقاضا کرتی ہیں۔ پہلی یہ کہ آج میاں نوازشریف اور مریم نواز لاہور آ رہے ہیں۔ ان کے استقبال کے لیے نون لیگ کے پُرامن قافلے آئیں گے، ان پر کوئی پابندی لگائی جائے نہ کسی جماعت کو طاقت آزمائی کی اجازت دی جائے۔ یہ ایک سیاسی عمل ہے جسے روکنے کے منفی اثرات انتخابی عمل پر اثرانداز ہوں گے۔ دوسری اہم بات کہ انتخابات کے لیے ساڑھے تین لاکھ فوج طلب کی گئی ہے جبکہ پشاور میں ہارون بلور کارنر میٹنگ کرتے ہوئے خودکش حملے میں شہید ہو گئے۔ اب تک شہیدوں کی تعداد بیس تک پہنچ گئی ہے اور زخمی بھی بڑی تعداد میں ہیں۔ عظیم بلور خاندان نے یہ تیسری شہادت دی ہے۔ اس حادثے پر پوری قوم سوگوار ہے اور اس نے انتخابات کے مستقبل پر بڑے سوالات اُٹھا دیے ہیں۔ انتخابات کو بدترین دہشت گردی کا بھی سامنا ہے جبکہ اُن کا پُرامن انعقاد ہمارے مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے، چنانچہ سیکورٹی فورسز کو بہت چوکنا رہنا اور غیر ضروری کاموں سے دستبردار ہونا ہو گا۔
تیسری اہم بات یہ کہ الیکشن کمیشن نے پولنگ اسٹیشن پر تعینات افسروں کو مجسٹریٹ درجۂ اوّل کے اختیارات دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس طرح دوعملی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔پولنگ اسٹیشن کا انچارج پریذائیڈنگ افسر ہو گااور اسے بھی مجسٹریٹ درجۂ اوّل کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ افسر پریذائیڈنگ افسر کی بھی نگرانی کرے گا اور بےقاعدگیوں کی رپوٹ ریٹرننگ افسر کو دے گا۔
اس افسر کا نتائج کی ترسیل میں بھی کردار ہو گا۔ ان افسروں کو غیر معمولی اختیارات دینے سے سیاسی جماعتوں کے اس شک میں اضافہ ہو گا کہ انتخابی عمل میں مقتدر اداروں کا عمل دخل بڑھتا جا رہا ہے۔ ابھی وقت ہے اور شکایات کا ازالہ ممکن ہے۔ عالمی برادری ہمارے حالات میں غیر یقینی کا عنصر کس زاویے سے دیکھ رہی ہے، اس کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ سوئٹزر لینڈ نے کراچی میں اپنا قونصل خانہ بند کر دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو بدترین حالات میں بھی اپنا سفارت خانہ کھلا رکھتا ہے۔
انتخابات کو بامعنی اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ رائے دہندگان بہت بڑی تعداد میں گھروں سے نکلیں اور پوری ذمہ داری سے ووٹ کی طاقت استعمال کریں۔ نوجوان جتنی بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچیں گے، اسی نسبت سے انتخابی عمل کے شفاف ہونے کے امکانات واضح تر ہوتے جائیں گے۔ اس ضمن میں جیو ٹی وی ،روزنامہ جنگ اور پی ٹی وی رائے دہندگان میں ووٹ کے استعمال کا جو شعور بیدار کر رہے ہیں، وہ بہت قابلِ قدر ہے۔ یہی قومی فریضہ تمام ٹی وی چینلز کو ادا کرنا چاہیے۔ کروڑوں ووٹروں کی فعال شرکت سے غیر سیاسی طاقتوں کو جمہوریت میں آمیزش کی جرأت نہیں ہو گی۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں