آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں نے بھی اپنے بال دھوپ میں’’کالے‘‘ نہیں کئے، کئی حکومتی ادوار دیکھےہیں، انتخابات کی گہما گہمی بھی دیکھی ہے۔ نگران حکومتیں بھی دیکھی ہیں لیکن جو انتخابات 25جولائی کو ہونے والے ہیںاس کے نتائج کی پیشگی تیاری اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی، ہم مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہم صرف اس وقت کچھ کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں، جب کام سر پر کھڑا نظر آتا ہے لیکن اس مرتبہ ہم نے اپنی تاریخ بدل ڈالی ہے۔ دوسری نئی بات یہ نظرآئی کہ پنجاب کی نگران حکومت جس کے وزیر اعلیٰ میرے دوست پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی صاحب ہیں، ان کی انتظامی صلاحتیں بھی کھل کر سامنے آئی ہیں۔ اس سے پہلے یہ وضاحت کردوں کہ میں نے عسکری صاحب کو آج تک صرف ٹی وی پر دیکھا ہے اور جانبدار تبصرے کرتے ہی پایا ہے، مگر وہ میرے دوست ان معنوں میں ہیں کہ ہم سب لکھنے والے ایک برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے جانبدارانہ تبصروں سے مجھے ہمیشہ اختلاف رہا مگر مجھے یہ بات ہمیشہ پسند آئی کہ وہ غیر جانبداری کا جھوٹا لبادہ اوڑھے ہوئے نہیں ہیں کیونکہ کوئی شخص ملکی سیاسیات کے حوالے سے مکمل طور پر غیر جانبدار’’ ہوہی نہیں سکتا، اس کے دل میں اس جماعت کے لئے نرم گوشہ ضرورموجود ہوتا ہے جس کے متعلق اس کی رائے ہو کہ اس کا اقتدار میں آنا یا اقتدار میں رہنا ملک و قوم کے

لئے بہتر ہے‘‘۔ کالی بھیڑیں ہر طبقہ میں ہوتی ہیں اور وہ ہماری برداری میں بھی ہیں لیکن عسکری صاحب ان میں سے نہیں ہیں بلکہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر ان کے حالیہ اقدامات کے پیش نظر میں تو انہیں ’’سفید بھیڑ‘‘ سمجھتا ہوں۔
ملک میں نئے انتخابات کے وقت منتخب حکومت کی جگہ نگران حکومت قائم کی جاتی ہے تاکہ انتخابات میں حصہ لینے والی کسی جماعت کے حقوق سلب نہ کئے جاسکیں۔ میرا خیال تھا کہ عسکری صاحب اب تجزیہ نگار نہیں بلکہ منصف کی مسند پر تشریف فرما رہے ہیں، چنانچہ اب ان کے اقدامات ان کے تجزیوں سے مماثلت کے بجائے ایک منصف کے اقدامات ہوں گے لیکن گزشتہ روز جب ملک کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز صاحبہ بہت مہربان خاتون کلثوم نواز جو نواز شریف کی زندگی بھر کی ساتھی اور مریم کی والدہ ہیں، کو زندگی اور موت کی کشمکش میں اکیلا چھوڑ کر عدالت کے حکم پر جیل جانے کے لئے پاکستان پہنچے اور ہاں یہ بھی ایک انوکھا واقعہ تھا، لوگ جیل جانے سے بچنے کے لئے لندن بھاگ جاتے ہیں اور نواز شریف صرف جیل جانے کے لئے لندن سے لاہور چلے آئے۔ پشاور سے ایک بہت بڑی ریلی خواجہ آصف کی قیادت میںلاہور کے لئے روانہ ہوئی تاکہ اپنے لیڈر کا استقبال کرسکے مگر انہیں رستے ہی میں روک لیا گیا۔ اسی طرح دوسرے شہروں سے روانہ ہونے والی ریلیاں بھی روکی گئیں، پشاور سے امیر مقام کی سرکردگی میں ایک بہت بڑے جلوس کو لاہور کی طرف رواں دیکھا مگر اللہ جانے اس کے ساتھ کیا سلوک ہوا، سارا شہر سیل کردیا گیا تھا، جگہ جگہ کنٹینرز لگے تھے، مسلم لیگ ن کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ کئی ایک مقامات پر کارکنوں کی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ان سب رکاوٹوں اور ان سب زیادیتوں کے باوجود ہزاروں لوگ رات ایک بجے تک لاہور کی سڑکوں پر رہے اور اس وقت تک رہے جب تک شہباز شریف نے تقریباً پانچ چھ گھنٹے کے بعد ریلی کے اختتام کا اعلان نہیں کیا۔ شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر بھی اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور گزشتہ روز اپوزیشن لیڈر کے طور پر ان کے تیور بھی مفاہمانہ نہیں تھے۔ انہوں نے ریلی کے دوران مختلف مقامات پر اپنی تقریروں کے دوران اس پراپیگنڈے کو بھی زائل کردیا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کوئی دو الگ الگ شخصیات نہیں۔
مجھے یہ بات بہت افسوس سے کہنا پڑرہی ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی صاحب ایسے دانشور نے شہری آزادیوں کو پائوں تلے روندنے کے احکامات دئیے۔ دنیا کے کسی ملک میں بلکہ پاکستان تک میں کبھی پرامن اجتماعات پر پابندی نہیں لگی،مگر یہ کام ایک پڑھے لکھے وزیر اعلیٰ نے کر دکھایا۔ وہ نگران تھے اور ان کا کام یہ تھا کہ وہ ایسے جانبدارانہ اقدامات کے رستے میں رکاوٹ نہ بنتے، چہ جائیکہ انہی کے حکم پر یہ سب کچھ کیا جاتا۔ عسکری صاحب بھول گئے کہ اس سہ ماہی وزارت اعلیٰ نے ان کے لکھے ہوئے سب حرفوں پرپانی پھیر دیا ہے اور تاریخ میں انہوں نے خود کو غیر محفوظ کرلیا ہے۔ برادرم ! یہ سب کچھ کرکے آپ کو کیا ملا، شاباش!، پاکستانی عوام کی طرف سے؟نہیں جناب یہ وہ شاباش ہے جس سے اپنے دامن کوملوث نہ ہونے دیا جاتا تو بہتر تھا۔ نجم سیٹھی نے بطور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب اپنی غیر جانبداری سے سب لکھنے والوں کی عزت میں اضافہ کیا تھا، مگر آپ نے؟
اس موقع پر پیمرا نے بھی کمال کردیا، اس نے احکامات جاری کئے۔ ایسے احکامات جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ان سب کا لب لباب یہ تھا کہ خبردار اگر نواز شریف کو عوام کی طرف سے جو عزت ملے گی، اس کی تشہیر کی جائے، چنانچہ ٹی وی چینلز کے ڈائریکٹر ز نیوز کو لمحہ بہ لمحہ ہدایات بھی ملتی رہیں، مگر ان سب اقدامات کا نتیجہ کیا نکلا؟ ہزارہا لوگ نواز شریف پر اپنی محبتیں نچھاور کرنے کے لئے سڑکوں پر موجود رہے۔ آخر میں برادرم حسن عسکری صاحب سے ایک سوال، کیا آپ آنے والے دنوں خصوصاً انتخابات کے موقع پر بھی اسی منصفی کا مظاہرہ کریں گے جو آپ نے اپنے لیڈر کے لئے نکلنے والی ریلیز کے شرکاء کے ساتھ کی یا اس زیادتی کی تلافی کی کوشش بھی کریں گے؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں