آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر3؍ربیع الاوّل 1440ھ 12؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یکم جولائی کو اسٹیٹ بینک نے اپنی 70 سالہ سالگرہ کی پروقار تقریب منعقد کی جس میں اسٹیٹ بینک کے گورنر طارق باجوہ، نگراں وزیر خزانہ اور سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر، سابق گورنرز یاسین انور اور اشرف محمود وتھرہ نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ گورنر سندھ محمد زبیر، معروف صنعتکار میاں منشاء،نیشنل بینک کے صدر سعید احمد، بینکوں کے صدور، معیشت دانوں، پریس اور الیکٹرونک میڈیا کے سربراہان اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس کی جانب سے مجھے بھی اس تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔ اتوار کے دن صبح 11 بجے تمام اہم شخصیات اسٹیٹ بینک کی تاریخی عمارت میں موجود تھیں۔ اینکر فاروق حسن نے تقریب کا آغاز پاکستان کے قومی ترانے سے کیا جس کے بعد اسٹیٹ بینک کے 70 سالہ سفر اور ترقی پر ایک نہایت خوبصورت دستاویزی فلم پیش کی گئی جو میں آج اپنے قارئین سے شیئر کرنا چاہوں گا۔
1947ء میں آزادی کے بعد قائداعظم نے پاکستان کے سب سے سینئر بیورو کریٹ اور دہلی میں پاکستان کے پہلے ہائی کمشنر زاہد حسین کو 1948ء میں اسٹیٹ بینک بنانے کی ذمہ داری سونپی اور مطلوبہ کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد 30 جون 1948ء کو ریزرو بینک آف انڈیا کو پاکستان میں اپنے اختیارات ختم کرنے کی ہدایت دی گئی اور زاہد حسین کو اسٹیٹ بینک کا پہلا گورنر مقرر کیا گیا۔ دوسرے

دن یکم جولائی 1948ء کو قائداعظم محمد علی جناح نے وکٹوریہ میوزیم بلڈنگ جو کے ایم سی سے کرائے پر لی گئی تھی، میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا تاریخی افتتاح کیا جس کیلئے قائداعظم اپنے ڈاکٹروں کی ہدایت کے خلاف زیارت سے طویل سفر کرکے کراچی آئے تھے اور یہ قائداعظم کا آخری پبلک فنکشن تھا۔ بعد میں اسٹیٹ بینک آئی آئی چندریگر روڈ پر اپنی موجودہ عمارت میں منتقل ہوا۔ اسٹیٹ بینک کی افتتاحی تقریب کے موقع پر دستاویزی فلم میں قائداعظم نے خطاب میں کہا کہ اسٹیٹ بینک کا قیام پاکستان کی خود مختاری کی ضمانت ہے جو ہماری معاشی اور تجارتی پالیسیوں کے بنانے میں مدد کرے گا۔
برصغیر کی تقسیم کے وقت مجموعی 99 شیڈول بینکوں کی 3497 برانچیں تھیں جس میں سے صرف 13بینک اپنی 631برانچوں کے ساتھ پاکستان میں تھے جن میں سے 12 بینکوں نے اپنا ہیڈ کوارٹر بھارت منتقل کردیا اور صرف ایک آسٹریلیشیا بینک جو اب الائیڈ بینک کے نام سے جانا جاتا ہے، نے اپنا ہیڈ کوارٹر لاہور میں رکھا جبکہ انڈیا سے حبیب بینک اور مسلم کمرشل بینک نے اپنے ہیڈ کوارٹرز ممبئی سے کراچی اور کلکتہ سے ڈھاکہ منتقل کئے۔ یکم اپریل1948ء کو ریزرو بینک آف انڈیا نے پاکستان کیلئے ایک، پانچ، دس اور 100روپے کے پہلے پاکستانی کرنسی نوٹ جاری کئے جن پر ’’حکومت پاکستان‘‘ درج تھا لیکن چند ماہ بعد یکم اکتوبر 1948ء کواسٹیٹ بینک نے لندن کی ایک کمپنی تھامس ڈی لارو کے ذریعے پاکستان کے کرنسی نوٹ پرنٹ کرواکر جاری کئے جس پر قائداعظم کی تصویر شائع کی گئی تھی تاہم 1949ء میں کرنسی نوٹوں کی پرنٹنگ کیلئے پاکستان سیکورٹی پرنٹنگ کارپوریشن قائم کی گئی جو اب تک یہ کام انجام دے رہی ہے۔ یکم جولائی 1948ء تک بھارت کا امپریل بینک اسٹیٹ بینک کے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے بزنس دیکھتا تھا لیکن 9نومبر 1949ء کو حکومتی بزنس سنبھالنے کیلئے نیشنل بینک آف پاکستان وجود میں آیا۔ 1960-70ء کے دوران پاکستان کے بینکنگ سسٹم میں اصلاحات متعارف کرائی گئیں اور 1972-73میں پرائیویٹ سیکٹر اور ایگریکلچر کریڈٹ کیلئے ایگریکلچر کریڈٹ ایڈوائزری اور نیشنل کریڈٹ مشاورتی کونسل قائم کی گئیں جو آج تک کام کررہی ہیں جس کا میں بھی ممبر ہوں۔ یکم جنوری 1974ء میں پاکستان میں بینکوں کو نیشنلائزڈ کردیا گیا اور حکومت کو بینکنگ امور پر پالیسی بنانے کیلئے پاکستان بینکنگ کونسل قائم کی گئی جس نے 13 نیشنلائزڈ بینکوں کو 5 بینکوں میں ضم کردیا جن میں نیشنل بینک، حبیب بینک، یونائیٹڈ بینک، مسلم کمرشل بینک اور الائیڈ بینک شامل تھے۔ 1980ء میں پاکستان میں اسلامک بینکنگ متعارف کرائی گئی اور بینکوں کو اسلامک بینک اور برانچیں کھولنے کی اجازت دی گئی جس سے ملک میں تیزی سے اسلامک بینکنگ کو فروغ حاصل ہوا۔ 1989ء میں پاکستانی بینکنگ سسٹم میں لبرائزیشن اور جنوری 1995ء میں اوپن مارکیٹ آپریشنز متعارف کرائے گئے جس کے نتیجے میں 1990ء میں منی چینجرز کو لائسنسز جاری کئے گئے اور پاکستان میں مقیم باشندوں کو فارن کرنسی اکائونٹس کھولنے اور فروری 1994ء میں پاکستانی روپے کو غیر ملکی کرنسیوں میں تبدیل کرنے اور فارن کرنسی اکائونٹ سے بیرون ملک ترسیل کرنے کی اجازت دی گئی جس سے لوگوں نے ناجائز فائدہ اٹھایا اور اربوں ڈالر بیرون ملک منتقل کئے گئے جس پر حال ہی میں FATF نے منی لانڈرنگ کے زمرے میں پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں شامل کردیا حالانکہ حکومت نے اس سال بجٹ میں غیر ملکی اکائونٹس سے بیرون ملک رقم کی منتقلی کی سہولت ختم کردی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے 2009ء میں برانچ لیس بینکنگ اور انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے کریڈٹ کارڈ، ڈیجیٹل پیمنٹس اور 2015ء میں ای کامرس ریگولیشنز متعارف کرائے۔ اسی دوران اسٹیٹ بینک نے ایک عام آدمی کو بینکنگ سہولت فراہم کرنے کیلئے فنانشل انکلوژن متعارف کرایا جس کے تحت عام آدمی کو بینکنگ سہولتیں جو 2008ء میں 12فیصد تھیں، 2015ء میں بڑھاکر 23 فیصد کردیں جس سے ملک میں بینک اکائونٹس کی شرح 11فیصد سے بڑھ کر 16فیصد ہوگئی جسے 2020ء تک بڑھاکر 50فیصد کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ترقی کے سفر میں اسٹیٹ بینک نے عالمی طور پر بے شمار اعزازات حاصل کئے۔ اسٹیٹ بینک کی ترجیحات میں ملکی معیشت کی ترقی کیلئے پہلے نمبر پر ایگریکلچرل کریڈٹ ہے جس کی فنانسنگ اس سال ایک کھرب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ دوسرے نمبر پر چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں (SMEs) کی فنانسنگ ہے جس کو 2020ء تک نجی شعبے کے قرضوں کا 17 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ 70سالہ سالگرہ تقریب میں اسٹیٹ بینک ویژن 2020ء اور 2030ءکو حاصل کرنے کیلئے پینل ڈسکشن میں اسٹیٹ بینک کے سابق گورنرز نے پینل ڈسکشن میں اسٹیٹ بینک فیوچر ویژن پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اتفاق کیا کہ ملکی گروتھ کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی گروتھ نہایت ضروری ہے۔
اس موقع پر میں نے بتایا کہ بینکس چھوٹے درجے کی صنعتوں کو اسٹیٹ بینک کے نئے پروڈنشل ریگولیشن کے تحت کیش فلو کی بنیاد پر قرضے نہیں دے رہے بلکہ وہ صنعتوں کو گروی رکھ کر اونچے شرح سود پر قرضے دیتے ہیں جو ایس ایم ایز کی گروتھ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ میں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کا مقصد افراط زر میں کمی اور جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ کرنا ہے، اسٹیٹ بینک نے افراط زر کو کنٹرول رکھا ہے لیکن مانیٹری پالیسی 6 سے 7 فیصد اونچی جی ڈی پی گروتھ حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہوسکی۔ اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ اور دیگر سابق گورنرز نے میری بات سے اتفاق کیا کہ SMEs کی گروتھ میں بینک فنانسنگ ایک رکاوٹ ہے۔ اس موقع پر ممتاز معاشی صحافی فرحان بخاری نے اسٹیٹ بینک کی خود مختاری اور ملکی فنانشل پالیسیوں کو مانیٹری پالیسی سے علیحدہ رکھنے پر سوالات کئے۔
70 سالہ سالگرہ تقریب کے اختتام پر اسٹیٹ بینک کے میوزیم میں ایک نمائش کا انعقاد بھی کیا گیا تھا جس کا افتتاح نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے موجودہ اور سابق گورنرز کے ساتھ کیا۔ میوزیم میں پاکستان کے پہلے کرنسی نوٹ، سکے، 1988ء کی پہلی اے ٹی ایم مشین اور تاریخی تصاویر سب کی توجہ کا مرکز تھیں۔ فیڈریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے بینکنگ، کریڈٹ اور فنانس کے چیئرمین کی حیثیت سے میرا اسٹیٹ بینک سے 25 سال سے تعلق ہے، میں اسٹیٹ بینک کی کریڈٹ اینڈ ایڈوائزری کمیٹی (CAC) ، نیشنل کنسلٹیو کونسل (NCC) اور ایگریکلچر کریڈٹ ایڈوائزری(NCA) جیسی اہم کمیٹیوں اور کونسلز میں بزنس کمیونٹی کی نمائندگی کررہا ہوں۔ میں نے اسٹیٹ بینک کو قریب سے ترقی کرتے دیکھا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے بینکنگ قوانین نے آج پاکستانی بینکنگ سسٹم کو محفوظ ترین بنادیا ہے۔ 70 سالہ اس کامیاب سفر پر میں اسٹیٹ بینک کے گورنر طارق باجوہ، سابق گورنرز اور اسٹیٹ بینک کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں