آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب کے لوگوں کے بارے میں اکثر یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ وہ ووٹ تو نواز شریف کو دیتے ہیں لیکن برے وقت میں سڑکوں پر آکر اُن کا ساتھ نہیں دیتے۔ اس تاثر کے پیچھے ماضی کے کچھ ایسے واقعات ہیں جس میں پنجاب کے عوام نے برے وقت میں نواز شریف کو تنہا چھوڑ دیا تھا۔ 1999ء میں جب نواز شریف کی دوتہائی اکثریتی حکومت پر ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے شب خون مارا اور نواز شریف کو پابند سلاسل کردیا تو پنجاب کے عوام نے اس زیادتی کے خلاف کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اسی طرح جنرل پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف نے اپنی جلاوطنی ختم کرکے پاکستان لوٹنے کی کوشش کی تو ایئرپورٹ پر اُن کے استقبال کیلئے کوئی بڑا مجمع اکٹھا نہ ہوسکا اور نواز شریف کو طیارے میں زبردستی بٹھاکر واپس بھیج دیا گیا۔ ماضی میں اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں جس میں برے وقت میں نواز شریف کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے جب یہ اعلان کیا کہ 13 جولائی کو نواز شریف اور مریم نواز کے استقبال کیلئے عوام ریلی کی صورت میں لاہور ایئرپورٹ پہنچیں تو مجھ سمیت ہر شخص کے ذہن میں یہ سوال ابھر رہا تھا کہ آیا پنجاب کے عوام اس بار نواز شریف کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف باہر نکلیں گے یا ماضی کی تاریخ دہرائی جائے گی مگر پنجاب کے عوام نے اس بار اس تاثر

کو غلط ثابت کر دکھایا اور 13 جولائی کو تاریخ رقم کرتے ہوئے لاکھوں لوگ نواز شریف کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور اُن سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی کی صورت میں گھروں سے باہر نکلے۔ مجھے بھی اعزاز حاصل ہے کہ میں اس تاریخی ریلی میں موجود تھا۔
ریلی کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ ریلی کا آغاز لاہوری گیٹ پر واقع مسلم مسجد سے کیا جائے گا جس کی قیادت شہباز شریف اور مسلم لیگ کی سینئر قیادت کرے گی۔ میں جب جمعہ کی نماز کیلئے مسلم مسجد پہنچا تو سڑک پر مختلف ٹی وی چینلز کی کچھ گاڑیوں کے علاوہ کوئی خاص گہما گہمی نظر نہیں آئی جبکہ نماز کے اجتماع میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر، سینیٹر سلیم ضیاء، طلال چوہدری، میئر لاہور کرنل مبشر جاوید اور سینیٹر ڈاکٹر اسد اشرف کے علاوہ مسلم لیگ کی کوئی دوسری قد آور شخصیت موجود نہیں تھی تاہم میں جیسے ہی سوا دو بجے نماز جمعہ سے فارغ ہوکر مسجد سے باہر نکلا تو انسانوں کا سمندر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ مسجد کے باہر بڑی تعداد میں مسلم لیگ کے کارکن موجود تھے جنہوں نے پارٹی جھنڈے، نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کی تصویریں اُٹھارکھی تھیں اور وہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ اور ’’وزیراعظم نواز شریف‘‘ کے نعرے بلند کررہے تھے۔ ریلی میں بچے، بوڑھے، جوان اور خواتین سمیت ہر عمر کے افراد موجود تھے جن کی تعداد میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ ریلی میں ایک کنٹینر خصوصی طور پر تیار کیا گیا تھا جس پر نواز شریف اور شہباز شریف کی قد آور تصویریں آویزاں تھیں۔ پارٹی قیادت کا فیصلہ تھا کہ شہباز شریف کنٹینر پر سوار ہوکر ریلی کی قیادت کریں گے تاہم بعد ازاں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا کہ شہباز شریف بلٹ پروف گاڑی میں ریلی کی قیادت کریں گے جبکہ سینئر پارٹی قیادت مریم اورنگزیب، طلال چوہدری، سینیٹر مصدق ملک، سائرہ افضل تارڑ، میئر لاہور کرنل مبشر جاوید اور ڈاکٹر اسد اشرف جو ریلی کے انتظامات کرنے میں پیش پیش تھے اور انہوں نے مجھے بھی کنٹینر پر مدعو کیا تھا، کنٹینر پر موجود ہوں گے۔ ریلی کے دوران کنٹینر پر نصب بڑے بڑے اسپیکرز پر بجنے والے پارٹی ترانے وہاں موجود لوگوں میں جوش و ولولہ پیدا کررہے تھے۔ تقریباً ساڑھے تین بجے شہباز شریف کی آمد کے بعد ریلی روانہ ہوئی جس کی قیادت کنٹینر کے پیچھے بلٹ پروف لینڈ کروزر جسے حمزہ شہباز چلارہے تھے، میں موجود شہباز شریف نے کی۔ ریلی دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ پورا لاہور امڈ آیا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنے زیادہ لوگ پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ ریلی میں موجود لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ وہ 25 جولائی کو شیر پر ٹھپہ لگاکر نواز شریف کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بدلہ لیں گے اور (ن) لیگ کو کامیاب بنائیں گے۔ ریلی کے دوران موبائل فون نیٹ ورک بند ہونے کے باعث ہم دنیا سے بالکل کٹ گئے تھے اور ہمیں نواز شریف کے طیارے کی آمد کی کوئی اطلاع نہیں مل پارہی تھی جبکہ سیالکوٹ، ملتان، فیصل آباد، جہلم، گجرات اور پنجاب کے دیگر شہروں سے لاہور آنے والے قافلوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے راستے میں روک لیا گیا تھا۔ لوگوں کے ہجوم اور سڑکوں پر کھڑی رکاوٹوں کے باعث ریلی رینگ رینگ کر اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی جس کے باعث ایئرپورٹ تک وقت پر پہنچنا ممکن نہ ہوسکا اور ریلی جب ساڑھے بارہ بجے لاہور کے علاقے دھرم پورہ کے مقام پر پہنچی تو یہ اطلاع ملی کہ نواز شریف اور مریم نواز کو لاہور ایئرپورٹ پر گرفتار کرکے اسلام آباد لے جایا جاچکا ہے جس کے بعد شہباز شریف نے ریلی ختم کرنے کا اعلان کیا۔ میرے خیال میں زیادہ اچھا ہوتا کہ ریلی کا آغاز نماز جمعہ کے بجائے علی الصباح کردیا جاتا تاکہ نواز شریف کے وطن واپس پہنچنے تک ریلی ایئرپورٹ تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتی۔
مسلم لیگ کے لاکھوں ووٹرز اور کارکنوں کے نزدیک نواز شریف اور اُن کی بیٹی کو کرپشن کے نام پر سزا ناقابل فہم ہے جس سے انتقام کی بو آتی ہے تاہم نواز شریف اور ان کی بیٹی کا مشکلات میں گھری اپنی پارٹی کو تقویت پہنچانے اور کارکنوں کا مورال بلند کیلئے وطن واپس آنا یقینا جرات مندانہ فیصلہ ہے جس سے پارٹی کارکنوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ حالات کے تحت اگر نواز شریف وطن واپس نہ بھی آتے تو ان کے پاس اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی بیماری کا ایک معقول جواز موجود تھا جس کے پیش نظر وہ لندن میں اپنے قیام میں توسیع کرسکتے تھے لیکن دوسری طرف اس فیصلے سے پارٹی کو الیکشن میں ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑتا۔ نواز شریف کے وطن واپس لوٹنے اور جیل جانے کے فیصلے نے کچھ قوتوں کو حیرانی سے دوچار کردیا ہے جنہیں اس کی بالکل توقع نہیں تھی۔ نواز شریف کا وطن واپسی پر طیارے میں یہ کہنا بجا ہے کہ ’’پاکستان فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، میرے بس میں جو کچھ تھا، میں نے کردیا، میں جانتا ہوں کہ مجھے اور مریم کو جیل میں ڈال دیا جائے گا لیکن میرے نزدیک یہ ووٹ کے تقدس کی بحالی کے مشن کی چھوٹی سی قربانی ہے اور پاکستانی قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں یہ سب کچھ پاکستان کے مستقبل، عوام اور ان کی آئندہ نسلوں کیلئے کررہا ہوں۔‘‘
نواز شریف کے اس بیان نے ہر پاکستانی کے دل کو چھوا ہے۔ نواز شریف کا ڈٹ جانا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پاکستان کی سیاسی تاریخ کا نیا باب ہے۔ نواز شریف پاکستان کے وہ پہلے سیاستدان ہیں جوسویلین بالادستی کے لئے کچھ وقتوں کےسامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹ گئے ہیں جس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس سے قبل 1999ء میں نواز شریف نے جیل میں قید رہنے کے بجائے سعودی عرب میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے کو ترجیح دی تھی جس کے نتیجے میں ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف 9 سال تک اقتدار پر قابض رہا۔ نواز شریف نے پہلی بار جیل کی صعوبتوں کا سامنا اُس وقت کیا جب انہوں نے اپنے دور حکومت میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی بالادستی کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا
جبکہ اس بار ان کے دور حکومت میں اسٹیبلشمنٹ سے ان کے تعلقات میں اُس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد نواز شریف Symbol of Defiance کے طور پر ابھرکر سامنے آئے ہیں اور وہ لوگ جو کل تک نواز شریف کے سپورٹر نہیں تھے، آج ان کے اقدامات کو سراہ رہے ہیں۔
نواز شریف کی وطن واپسی کے معاملے میں پنجاب کی نگراں حکومت شدید تنقید کا نشانہ بنی رہی۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی ناجائز گرفتاریاں، سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنا، موبائل فون سروس معطل کرنا اور مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کرنے جیسے اقدامات نے پنجاب کی نگراں حکومت کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان چھوڑے ہیں اور (ن) لیگ کے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری کے بارے میں خدشات بالکل درست ثابت ہورہے ہیں۔ شاید کچھ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ نواز شریف کو پابند سلاسل کرنے سے اُن کا سیاسی کیریئر ختم ہوگیا ہے لیکن میرے نزدیک تمام تر اوچھے ہتھکنڈوں اور غیر منصفانہ فیصلوں کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر مسلم لیگ (ن) اور اُس کی قیادت کو ایک نئی جان بخشی ہے اور یہ ثابت کردیا ہے کہ نواز شریف اُن کے دل میں رہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف جتنا عرصہ قید میں گزاریں گے، لوگوں کے دلوں میں اُن کی محبت بڑھتی چلی جائے گی اور 25 جولائی کو عوام کے ووٹ کی طاقت نواز شریف کو جیل سے رہا کروائے گی۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں