آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کائرہ ارشاد فرماتے ہیں، عام انتخابات 18 مارچ 2013 ء کے بعد45 روز کے اندر ہوں گے ۔نواز شریف پہلی بار سہاروں کے بغیر الیکشن لڑنے پر پریشان ہیں، ہم ملالہ کی سوچ لے کر آگے بڑھ رہے ہیں، اقبال سے معافی کے ساتھ
دنیا زرداری کو سمجھے ہوئے ہے مشعل راہ
کسے خبر کہ کائرہ بھی ہے صاحب ادراک
عام انتخابات کے حوالے سے کائرہ نے جو نوید سنائی ، ان کے منہ میں امرتسری پتیسہ، یہ نہایت اچھی بات ہوگی کہ18مارچ کے بعد45ویں دن کا سورج انتخابات لے کے آئے، تو کون کور ذوق ہوگا جو یہ کہہ کر بھنگڑا نہ ڈالے
میں شکر ونڈاں پیر مناواں
میرا پیا گھر آیا، پیا گھر آیا سانوں اللہ ملایا
پانچ سالہ لولی لنگڑی ،اندھی بھینگی، گورننس کے بعد اگر کوئی دانا و بینا گورننس آجائے تو یہ صرف جمہوریت ہی کے باعث ہوگا۔ پیپلز پارٹی نے جمہوریت کا پہیہ تو چلا دیا مگر اس کے لئے ٹھنڈی سڑک نہ بنائی چلو یہ بھی بن جائے گی، سب سے اچھی بات جمہوریت کا چلتے رہنا ہے، خود بخود رہٹ کے ”مال“ پر بندھے ٹوٹے لوٹے گرتے جائیں گے اور شیتل پانی نکلے گا۔ کائرہ میں کا”کایاں“ کا لگا ہوا ہے، اس لئے وہ،وہ والی بھولی نہیں جس نے چوراہے میں کھڑے منچلوں سے کہا تھا” میں بھولی آں پر ایڈی وی بھولی نئیں“ شکر ہے کہ وہ فردوس ہیں نہ عاشق ہیں اور نہ اعوان، وہ زمانے کے ا ٓسمان کا قمر ہیں، بس

کہیں گہنا نہ جائیں۔ نواز شریف تو پہلی بار سہاروں کے بغیر الیکشن لڑیں گے۔ پی پی تو سہاروں سمیت بھی چت ہے، ویسے ان کی اس بات سے یہ علم نہ ہوسکا کہ انہوں نے میاں صاحب کی تعریف کی ہے یا ان پر تنقید، بہرحال جو بھی کی ہے یہی جمہوریت کا جھومر ہے۔ ایسی نوک جھونک رہنی چاہئے جو طبلہ اور ستار کے درمیان ہوتی ہے ، اب اس کا تعین بھی کائرہ ہی کریں گے کہ پچھلے جنم میں زرداری اور نواز شریف میں سے طبلہ کون تھا ستار کون تھا۔

دنیا کانمبر1جاسوس 60سالہ ڈیوڈ پیٹریاس ایک جاسوس خاتون صحافی پاؤلا کے جال میں کیسے پھنس گیا۔ پیٹریاس اپنی اہلیہ کا ساتھ بھی بھلا بیٹھے، ایف بی آئی نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ پیٹریاس اب مستعفی ہوگئے ہیں۔
شاید اب بیویوں کو شوہروں اور شوہروں کو بیویوں کے معاشقے نظر انداز کرنا ہوں گے۔ یہ تو پیٹریاس تھے جن کا عشق ایف بی آئی نے طشت از بام کردیا ، ہر شوہر پیٹریاس ہوتا ہے نہ ہر بیوی پاؤلا، وگرنہ تو دنیا میں اکثر شوہر پیٹریاس اور بہت کم بیویاں پاؤلا ثابت ہوں بشرطیکہ ان کی جاسوسی بھی کوئی خفیہ ادارہ کرے۔ عورت بنیادی طور پر "Polygamiest"نہیں ہوتی، یہی بائیالوجیکل حقیقت ہے لیکن مرد بھونرا ہے چمن میں ہر پھول کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے۔ پیٹریاس ا ور پاؤلا کے عمر میں 20سال کا فرق ہے مگر پھر بھی پیٹریاس کو عشق ہوگیا اور پاؤلا نے عشق کیا، ایک کا عشق خوشبو اور رنگ کی تلاش تھا دوسرے کا عشق اس کا پیشہ، خواجہ غلام فرید نے بھی کہہ دیا تھا
عشقوں مول نہ پھرسوں
عشق اساڈڑا دین ایمان
اگر کوئی دعویٰ کرے کہ عورت بھی عشق کرتی ہے تو پھر اس تک کوئی پیٹریاس پہنچ نہیں پاتا، اس کے عشق کو پاتال سے نکالنا پڑتا ہے۔ اس کا طریق کار کوئی ہم سے نہ ہی پوچھے تو اچھا، بعض اوقات غلط جوڑا بننے کے باعث بھی عورت کسی اور کے عشق میں الجھ سکتی ہے، اس لئے کہ جب معمار پہلی اینٹ ہی غلط رکھ دے تو ثریا تک دیوار ٹیڑھی ہی جائے گی۔ اس لئے جوڑے جبر کے نتیجے میں نہیں بننے چائیں البتہ اہل دل اور صاحبان دانش و بینش کے لئے روئے زیبا مہمیزکا کام کرتا ہے اور وہ اپنے دلربا مخاطب سے وہ وہ نکتے بیان کر جاتا ہے کہ حسن کی لٹ بھی الجھ جاتی ہے اور سپردگی کی ایسی فضا قائم ہوتی ہے کہ
لٹ الجھی سلجھا جارے بالم میں نہ لگاؤں گی ہاتھ رے
اس نٹ کھٹ کو سو بل دینا آئے جو تیرے ہاتھ رے
ہمارے خفیہ اداروں کے سربراہان سے بھی کہنا پڑے گا، مشتری ہوشیار باش، کہیں اس مے دو شینہ میں عشق کمینہ تو نہیں چھپا بیٹھا، وہ خاتون جس نے پیٹریاس کو اس مقام بلند تک پہنچایا اس کی وفاداریوں کے لئے پاؤلا بھی ذمہ دار ہے۔ویسے کسی کو برا نہ لگے تو تلخ حقیقت بھی سنتا جائے کہ عشق لافانی جذبہ ہے، اس کے لئے لافانی ہونا ضروری ہے اور انسان لافانی نہیں گویا عشق کوئی لافانی ہستی فانی سے کررہی ہے جو اس کی مہربانی ہے۔

روئیداد خان کا کہنا ہے ، پاکستان میں طاقت کا مرکز جی ایچ کیو ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر کوئی نہیں چل سکتا۔
طاقت کا مرکز تو ہر انسان ہے کیا ہر انسان جی ایچ کیو ہے؟طاقت کا مرکز آئین ہے اور پاکستان آئین کی عملداری میں تمام اداروں سے وہی کام لے گا جو اس کو تفویض کیا گیا ہے۔ اس طرح ٹاکرا ہوگا نہ”لاکڑا“ روئیداد خان تو نہ جانے کیا کیا سابق رہ چکے ہیں۔ ان کے کس کس عہدے اور عہد کی بات کی جائے، وہ اچھے انسان ہیں، اپنی طرف سے ہر ممکن اچھی بات کرتے ہیں مگر بندے کو اپنا کہا کب سنائی دیتا ہے۔ ویسے ان کے بیان سے فوج کی آمد کی یا اس کی آئین سے بالاتری کی بو آتی ہے۔ بہتر ہے وہ ناک پر رومال رکھ لیں۔ پچھلے پانچ برسوں سے کیا نہیں ہورہا مگر جی ایچ کیو سپریم کمانڈر کے تابع اپنی آئینی ذمہداریاں نبھارہا ہے اس لئے وہ اپنے دور کو بھول کر آج کے سیناریو میں بات کرتے تو شاید یہ بات ہی نہ کرتے، اس مملکت خداداد میں ا للہ کی مرضی کے بغیر کوئی نہیں چل سکتا کیونکہ اس کی بقاء میں خدا”Interested“ ہے اور اگر کوئی چلتا ہے تو اسے چلنے دیں، بشرطیکہ وہ منزل کی طرف چلے بلکہ بعض اوقات تو راستہ بھو ل جانے والے بھی شام کو رستے پر آہی جاتے ہیں، اب ا گر وہ چاہیں تو اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے اس شعر کا ورد کیا کریں
آہی جاتا وہ راہ پر غالب
کوئی دن اور بھی جئے ہوتے
خان صاحب خان خانہ بن جائیں، جی ایچ کیو کو طاقت کا سرچشمہ بنانے کے بجائے طاقت کے سر چشمے عوام کی خدمت کریں، اس سے ان کو گوناگوں طمانیت ملے گی اور یہ خوفناک واہمے بھی ان کا پیچھا چھوڑ دینگے۔ ویسے اپنی جوانی کی باتیں یاد کرنے سے بھی وہ خوش باش ہوسکتے ہیں۔

اداکارہ لیلیٰ نے انکشاف کیا ہے جہانگیر بدر مجھے بہو بنانا چاہتے ہیں اور ان سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی، وہ گلبرگ میں منعقدہ ایک تقریب میں اچانک آدھمکی تھی۔ اف اللہ! کیسا زمانہ آگیا کہ لیلیٰ سے مجنوں ہاتھ ملانے کو بھی تیار نہیں، شاید وجہ یہ تھی کہ لیلیٰ نے اتنی پی رکھی تھی کہ اس کے منہ سے بے وفائی کی بو آرہی تھی اور جنوں دور بیٹھا بے پروا ہی رہا شاید اس پر یہ کیفیت طاری تھی
دور بیٹھا غبار میر اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا
جہانگیر بدر کو جہانگیر بدڑ کہنا درست ہوگا تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ یہ وہ انارکلی والا جہانگیر نہیں یہ خالص لاہوری ہے اور” نئیں ریساں شہر لہور دیاں“ لیلیٰ تو ایک تھی یہ اس نے اتنی ساری لیلائیں کیسے جنم دیں، کیا اس نے بھی پی رکھی تھی کہ جو بھی نئی لیلیٰ آتی ہے جام بکف آتی ہے اور مجنوں جاں بلب ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں لیلیٰ کالی تھی حالانکہ ایسا غلط ہے وہ اتنی گوری تھی کہ نظر وٹو کے طور پر ماں باپ نے اس کا نام لیلیٰ یعنی سیاہ رات رکھ دیا ورنہ اس کا اصل نام تو بیضاء یعنی گوری چٹی تھا۔ نظر وٹو کے باوجود نگوڑے مجنوں کی نظر اس پر پڑگئی اور اس نے بین الاقوامی شہرت پالی اور مجنوں وہیں کا وہیں جہانگیر بدر کی طرح پیشانی پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہ گیا۔ لیلیٰ جو آج کی اداکارہ ہے وہ بھی مے کش ہے مگر پھر بھی مینا کماری نہ بن سکی، وہ بھی بلا کش تھی مگر اداکاری میں دلکش تھی
اب تو کوئی ا یسا مجنوں اس دھت لیلیٰ کو درکار ہے کہ جو کہے
مجنوں نظر آتی ہے، لیلیٰ نظرآتا ہے

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں