آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

25جولائی کو بہت بڑا اِنتخابی معرکہ بپا ہونے والا ہے جبکہ بیشتر سیاسی جماعتیں بلبلا اُٹھی ہیں کہ کچھ قوتیں انتخابی فضا میں اُڑنے سے پہلے ہی اُن کے پر کاٹ رہی ہیں۔ ان بے قاعدگیوں کا قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں اس وقت سے بہت چرچا ہو رہا ہے جب انسانی حقوق کمیشن پاکستان کا ایک وفد محترمہ حنا جیلانی کی قیادت میں چیف الیکشن کمشنر سے ملا اور ہونے والے انتخابات کے بارے میں شدید خدشات اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بدترین اور کنٹرولڈ ہوں گے۔ اِس امر پر بھی شدید تنقید کی کہ ساڑھے تین لاکھ فوج پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر تعینات کرنے اور سیکورٹی افسروں کو مجسٹریٹ درجۂ اوّل کے اختیارات دینے سے انتخابات کی شفافیت پر شکوک و شبہات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
سابق وزیراعظم نوازشریف نے احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد وطن واپس آنے کا نہایت جرأت مندانہ اعلان کر دیا جس نے مسلم لیگ کے کارکنوں اور اہلِ پنجاب میں زبردست جوش و خروش پیدا کر دیا تھا۔ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ اور انتظامی افسروں نے عوام پر اعتماد کرنے کے بجائے اُن کے استقبال کے لیےآنے والے پُرامن قافلوں سے نمٹنے کے لیے پرانے ہتھکنڈوں کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ پُرامن شہریوں کو گرفتار کرنے کے لیے رینجرز رَات کے آخری پہر گھروں پر پہنچ گئے اور

کنٹینرز کے ذریعے پنجاب میں تمام سڑکیں بلاک کر دی گئیں۔ پولیس کے دیانت دار سابق اعلیٰ افسر جناب ذوالفقار چیمہ نے اپنے گرائیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اِس امر کی تحقیقات کروائیں کہ نوازشریف اور مریم نواز کو لاہور ایئرپورٹ پر گرفتار کرنے کے لیے پولیس کے بجائے باوردی فورس کیوں استعمال کی گئی۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’جنرل صاحب! پشاور میں ہارون بلور کے جنازے میں جو نعرے لگتے رہے، وہ آپ نے بھی سنے ہوں گے۔ میں تو سن کر بے حد تشویش میں مبتلا ہو گیا۔ اب پنجاب میں لوگوں کا موڈ دیکھ کر خوف آنے لگا ہے۔‘‘ عوام کے اندر مجموعی طور پر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ پشاور، بنوں اور مستونگ میں پے در پے دہشت گردی کے واقعات سے اُمیدوار اَور ووٹر خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سب سے جونیئر جج صاحبان پر مشتمل بنچ نےجناب نوازشریف اور اُن کی صاحبزادی مریم نواز کی اپیل کی سماعت جولائی کے آخر تک مؤخر کر دی ہے اور کسی قسم کا ریلیف دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اِس طرح پاکستانی عوام کو یہ پیغام ملا ہے کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کی قیادت انتخابی عمل سے باہر کر دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب عمران خاں تواتر سے بیان دے رہے ہیں کہ 2018ء کے انتخابات اُن کے ہیں اور اُنہیں وزیراعظم بنانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔
عمران خان واقعی قسمت کے دھنی ہیں کہ اُن پر چاروں طرف سے انعامات کی بارش ہو رہی ہے۔ انہوں نے فوج کی تعریف میں ارشاد فرمایا کہ صرف وہی ایک شفاف ادارہ ہے۔ اس جملے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ خاں صاحب کو پاکستان کی بہادر افواج پر کس قدر اعتماد ہے۔ یہی اعتماد اُنہیں 2014ء میں اسلام آباد لے آیا تھا اور انہوں نے ایمپائر کی انگلی اُٹھنے کے انتظار میں کاروبارِ مملکت منجمد کر دیا تھا۔ ہماری عدلیہ بھی اُن پر بڑی مہربان ہے جس نے اُنہیں ’صادق اور امین‘ ہونے کی سند عطا کر دی ہے۔ ہمارا الیکشن کمیشن بھی اُنہیں بہت پسند کرتا ہے، اِسی لیے تحریک ِانصاف کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کے مقدمے میں فیصلہ دینے کے لیے اس کا دل نہیں مانتا۔ ’اچھے آدمی‘ کی سبھی قدر کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اُن کے اشتعال آمیز اور تہذیب سے گرے ہوئے بیانات بھی ’کلاسیکل‘ معلوم ہوتے ہیں اور کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ اُن کا ایک بیان بار بار ٹی وی چینلز پر گونج رہا ہے کہ ’’میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا، تمہاری گردن میرے ہاتھ میں آ گئی ہے، اب میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے پھانسی دوں گا۔‘‘ میں سوچنے لگتا ہوں کہ یااللہ! ہم جس شخص کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر جلوہ افروز دیکھنا چاہتے ہیں، وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
بلاشبہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کے بنیادی تقاضے پامال ہو چکے ہیں، مگر ان افسردہ حالات میں بھی کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو اُمید کی شمعیں روشن رکھتے ہیں۔ پشاور میں اے این پی کا عظیم سپوت ہارون بلور شہید ہوا، تو اُس کے بیٹے نے کمال عزم کے ساتھ کہا کہ پاکستان کے لیے میری بھی جان حاضر ہے۔ یہی بات اسفند یار ولی خاں نے بڑے سج دھج سے کہی کہ اگر میں شہید کر دیا جاؤں، تو بھی ہماری جماعت انتخابات میں حصہ لے گی۔ مستونگ کے قتلِ عام کے دوران شہادت کا مرتبہ حاصل کرنے والے نوابزادہ سراج رئیسانی کے عزیز و اقارب نے عہد کیا ہے کہ ہم بروقت اور شفاف انتخابات کو یقینی بنائیں گے۔ جناب نواز شریف کے خاندان اور ان کی جماعت پر ایک قیامت گزر گئی ہے، لیکن وہ اس قوم کو انتخابات کے پُل صراط سے سلامتی سے گزرتا دیکھنے کے متمنی ہیں اور ووٹر حضرات کو نمازِ فجر کے بعد گھروں سے باہر نکلنے اور ووٹ ڈالنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ بلاول زرداری نے تمام جمہوریت پسند جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ ایک وسیع تر میثاقِ جمہوریت پر اتفاق کریں تاکہ انتخابات کو شفاف بنایا جا سکے۔
ہمیں وسیع تر تناظر میں چند باتوں کا اہتمام کرنا ہو گا۔ ووٹروں میں یہ خیال جاگزیں کر دیا جائے کہ ووٹ ڈالنا قومی اور دینی فریضہ ہے اور ووٹ ڈالنے سے گریز ایک بڑا جرم۔ یہ عظیم کام پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے سرانجام دیا جا سکتا ہے۔ مہلت کے اِن پانچ دنوں میں انہیں ووٹ ڈالنے کے جملہ معاملات سے بھی آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ پیغام بھی تواتر سے دیا جا سکتا ہے کہ درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت اور باکردار اُمیدواروں کو ترجیح دی جائے اور ابن الوقت مسترد کردیے جائیں۔ پوری کوشش ہونی چاہیے کہ ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں نہ آنے پائے، چنانچہ سیاسی جماعتوں کو پانچ دنوں کی جو مہلت میسر ہے، اس میں وہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر کے ووٹوں کا ضیاع روک سکتے ہیں۔ اس طرح ایک یا ایک سے زائد جماعتوں کے اتحاد کو سادہ اکثریت حاصل ہو سکے گی اور جمہوری عمل آزاد ارکان کی بلیک میلنگ سے محفوظ رہے گا۔ سب سے اہم بات یہ کہ غیر سیاسی طاقتوں کی مداخلت سے انتخابات کو محفوظ رکھنا ہو گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر فاضل جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے حالیہ فیصلے نے ذہنوں میں ایک ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے آرمی چیف سے کہا کہ وہ اپنے لوگوں کو روکیں جو اہم اور حساس معاملات میں اپنی مرضی کے بنچ بنوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ججوں سے رابطے کیے جاتے ہیں اور اُن کی فون کالز ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُن کی زندگیاں بھی غیر محفوظ ہیں۔ فاضل جسٹس نے آرمی چیف سے اِس امر کا نوٹس لینے کی درخواست کی ہے کہ ان کے لوگ کیا کچھ کر رہے ہیں۔
اِن حالات میں سول سوسائٹی کو ایک طاقتور کردار اَدا کرنا ہوگا۔ عوامی اور بین الاقوامی دباؤ کے تحت اسٹیبلشمنٹ خاصی محتاط ہو گئی ہے اور نگران حکومت کو بھی اپنے بعض غیر آئینی اقدامات واپس لینا پڑے ہیں، تاہم اسے تاریخ کا سامنا کرنے کے لیے شدید پشیمانی کے لق و دق صحرا سے گزرنا پڑے گا جس کی عکس بندی غالبؔ کے اِس شعر میں ہے؎
شوریدگی کے ہاتھ سے ہے سر وبالِ دوش
صحرا میں اے خدا! کوئی دیوار بھی نہیں
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں