آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’تبدیلی ٔ آب و ہوا‘‘ کے لئے پہلے کچھ آوارہ سی شاعری، پھر وہی سڑی بسی بدبودار سیاست اور سیاستدان جن کا سر پیر ہی کوئی نہیں لیکن پہلے شاعری۔’’چلو اک کام کرتے ہیں یہ جینا اور مرنا سب تمہارے نام کرتے ہیں چلو اک کام کرتے ہیں فجر سے صبح کرتے ہیں، عشا سے شام کرتے ہیں چلو اک کام کرتے ہیں بہت ہی خاص تھی جو بات، اس کو عام کرتے ہیں چلو اک کام کرتے ہیں جو چہرہ بجھ چکا ہے، پھر اسے گلفام کرتے ہیں چلو اک کام کرتے ہیں اجازت دی اگر توبہ نے تو اک جام کرتے ہیں چلو اک کام کرتے ہیںاگر تم ساتھ دو میرا، مجھے بدنام کرتے ہیں چلو اک کام کرتے ہیں یہ مظلوموں کی بستی ہے، یہاں کہرام کرتے ہیں چلو اک کام کرتے ہیں یہ قبرستان ہے، مُردوں کو ہی نیلام کرتے ہیں چلو اک کام کرتے ہیں جلا کر راکھ کر دو ظلم کو، پیغام کرتے ہیں چلو اک کام کرتے ہیں بہت ہی پک چکا ہوں میں، مجھے پھر خام کرتے ہیں چلو اک کام کرتے ہیں بہت ہی تھک چکا ہوں میں، ذرا آرام کرتے ہیں چلو اک کام کرتے ہیں کالم کے شروع میں عرض کیا تھا کہ سیاست اور سیاستدانوں کا کوئی سرپیر ہی نہیں تو کہانی بھٹو مرحوم کے اس بیان سے شروع ہوتی ہے جو آئین بننے کے بعد جاری کیا گیا تھا کہ۔’’ہم نے اس آئین کے ذریعہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مارشل لا کا راستہ روک دیا ہے۔‘‘ میں بمشکل 22سال کا تھا لیکن تب بھی یہ

سوچ کر ہنس دیا تھا کہ بھٹو صاحب نہیں جانتے کہ آئین نہیں ’’اعمال‘‘ سے مارشل لائوں کے رستے رکتے ہیں۔ بظاہر فضول لیکن بات جنرل ضیاء الحق نے ہی پتے کی کی تھی کہ ‘‘آئین چند صفحات پر مشتمل چیتھڑے کے سوا کچھ نہیں‘‘ واقعی اگر اس دستاویز پر تن من دھن سے عمل نہ ہو تو یہ چیتھڑے کے سوا کیا ہے؟ جیسے بابا ظہیر کاشمیری نے کہا تھا ؎سیرت نہ ہو تو کاکل و رخسار سب غلطخوشبو اڑی تو پھول فقط رنگ رہ گیابات بھٹو جیسے جینئس کو سمجھ نہ آئی تو یہ سب تو ہیں ہی نیم خواندہ لونڈے لپاٹے، ہوس اقتدار کے مارے ہوئے مہم جو آئین اور قانون سے فائدہ ’’لینا‘‘ تو چاہتے ہیں ’’دینا‘‘ پسند نہیں کرتے تو یہ جان لیں کہ ’’چپڑی ہوئی اور دو دو‘‘ انہیں کبھی نصیب نہ ہوں گی۔ اس کے لئے اپنے کرتوتوں پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ ایک طرف محنت دوسری طرف دیانت یا یوں کہہ لیں کہ محنت بڑھائو، خیانت کم کرو۔بے بی بلاول کی نیت پر شک نہیں، سمجھ پر سوالیہ نشان ہے جو کسی نئے میثاق جمہوریت کی مارکیٹنگ میں مصروف ہے یعنی عزیزی جیکب آباد میں خالص اونی کمبل اور سائبیریا میں برف بیچنا چاہتا ہے تو اس کے لئے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ میثاق کو مارو گولی کہ کرنے والا کام بہت سادہ اور آسان ہے۔ مین سٹریم سیاستدان سر جوڑ کر بیٹھیں اور سب سے پہلے غیر جانبداری سے اپنے بے عزت ہونے کی وجوہات، اسباب پر غور کریں۔ سوچیں کہ اشراف سے اجلاف تک کوئی بھی ان کی عزت کیوں نہیں کرتا، یہ کام اتنا ناپسندیدہ کیوںہے؟ہندوستانی صحافی برکھادت کو انٹرویو دیتے ہوئے خودساختہ نظریاتی و انقلابی نواز شریف نے بڑھک ماری تھی کہ وہ ثابت کر دیں گے کہ ملک کا آرمی چیف نہیں بلکہ وہ ’’باس‘‘ ہیں۔ باس مع بیٹی داماد اندر، سمدھی اور بیٹوں کا انتظار ہے لیکن انتہا یہ کہ اب بھی صحیح سمت میں سوچنے پر آمادہ نہیں۔عزت چاہتے ہو تو اس کا آغاز خود اپنے خلاف قانون سازی سے کرو۔ ہے ہمت اس فیصلہ کی کہ ٹرم چار چار سال کی ہو گی اور کوئی شخص تیسری بار وزیر اعظم نہیں بن سکے گا۔ اقتدار جتنا طویل ہو گا عزت اتنی ہی قلیل ہو گی لیکن یہ ہیں کون؟ آصف زرداری اور نواز شریف نے ملی بھگت سے پھر تیسری ٹرم کی جھک ماری اور آج ایک مع اہل و عیال جیل میں دوسرا ہولڈ پر۔پاکستان، سیاستدان اور عوام، تینوں کے لئے گھاٹے کا سودا لیکن یہ سودائی سوداگر سمجھنے سے انکاری ہیں اور مجھے سو فیصد یقین کہ یہ سو پیاز+سو جوتے کے بعد بالآخر اسی نتیجہ پر پہنچیں گے اور تب تک؟جعلی عزت اور اصلی بے عزتی کا کھیل یونہی جاری رہے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں