آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر3؍ربیع الاوّل 1440ھ 12؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

25 جولائی 2018 کا دن قریب آ گیا ہے ، جب پاکستانی قوم مسلسل تیسری آئینی مدت کے لئے وفاق اور صوبوں میں جمہوری حکومتوں کا انتخاب کرے گی اور تاریخ میں ایک نیا سنگ میل عبور کرے گی ۔ عام انتخابات کے لئے تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں ۔ اس سے قبل دو مرتبہ جمہوری حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کر چکی ہیں لیکن 25 جولائی کے عام انتخابات میں بنیادی سوال یہ پیدا ہوگیا ہے کہ کیا ان انتخابات کے نتیجے میں بننے والی وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کر سکیں گی یا نہیں ؟
یہ سوال پیدا ہونے کا اصل سبب یہ ہے کہ عام انتخابات سے پہلے سیاسی ٹکراؤ کا ماحول بن گیا ہے ، جو انتخابات کے بعد بھی برقرار رہنے کے آثار نظر آتے ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی جیسی دو بڑی سیاسی جماعتیں شدید تحفظات کے ساتھ انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں ۔ اگرچہ انہوں نے عام انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کیا ہے لیکن اس مرتبہ ان دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے تحفظات پہلے کی طرح نہیں ہیں ، پہلے بھی سیاسی جماعتیں یہ الزامات عائد کرتی رہی ہیں کہ ایک خاص سیاسی جماعت کو اقتدار میں لانے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔ ان کی انتخابی مہم میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں اور عام انتخابات پرمبینہ طور پراثر انداز ہونے کے لئے دہشت گردی کی کارروائیاں کرائی جا

رہی ہیں ۔ اس مرتبہ بھی وہی الزامات اور تحفظات ہیں لیکن ملکی ، علاقائی اور بین الاقوامی حالات بہت مختلف ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں بہت زیادہ دباؤ میں ہیں اور وہ اپنے مستقبل کے بارے میں پہلے سے بہتر سیاسی حکمت عملی بنانے کی پوزیشن میں بھی ہیں۔
مرکز میں حکومت کس کی بنے گی ؟ اس کا فیصلہ پنجاب نے کرنا ہے ، جہاں اس وقت بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) سیاسی طور پر اس پوزیشن میں نہیں پہنچی ہے ، جس پوزیشن میں پاکستان پیپلز پارٹی ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو عدالت سے سزا ملنے کے بعد یہ پارٹی سیاسی طور پر کچھ عرصے کے لئے کمزور ہوئی ۔ اس کے موثر امیدواروں نے پارٹی کو چھوڑ دیا اور کچھ نے ٹکٹ واپس کر دئیے لیکن میاں محمد نواز شریف نے وطن واپس آکر گرفتاری کا جو فیصلہ کیا ، اس سے مسلم لیگ (ن) کو سیاسی طور پر بہت فائدہ ہوا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ تمام تر ناموافق حالات کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کا مقابلہ کر سکتی ہے ۔ ایک اور اہم بات پر لوگوں نے غور نہیں کیا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے دورہ پنجاب سے اگرچہ پیپلز پارٹی کی وہاں بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے لیکن اس دورے کا فائدہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ہو گا کیونکہ پیپلز پارٹی کا پنجاب سے جو ووٹ بینک مایوسی میں تحریک انصاف کی طرف چلا گیا تھا ، اس کی تحریک انصاف سے کمزور وابستگی ٹوٹی ہے اور یہ ووٹ بینک کسی حد تک پیپلز پارٹی کی طرف واپس آئے گا ۔ بہرحال حالات جو بھی ہوں ، فیصلہ پنجاب میں ہو گا ۔ قومی اسمبلی کی 272 جنرل نشستوں میں سے 142 نشستیں پنجاب کی ہیں ۔ ان 142 نشستوں میں سے جس سیاسی جماعت نے بھی زیادہ نشستیں حاصل کر لیں ، وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہو گی ۔ اگر پاکستان مسلم لیگ (ن) 50سے 60نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو پھر پی ٹی آئی کے لئے حکومت بنانا آسان نہیں رہے گا اور پھر یہ امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) مل کر مخلوط حکومت بنائیں ۔ اگر پی ٹی آئی نے90سے زیادہ نشستیں حاصل کر لیں تو وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہو گی ۔
پنجاب جو بھی فیصلہ کرے گا ، باقی صوبوں کے انتخابی نتائج کو پنجاب کے فیصلے کی روشنی میں کوئی سیاسی شکل دی جا سکے گی لیکن جو بھی صورت بنے گی ، ملک میں سیاسی استحکام کے لئے سازگار شاید نہیں ہو گی ۔ اپوزیشن میں اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) جیسی جماعتیں ہوں یا تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتیں ، دونوں صورتوں میں اپوزیشن مضبوط ہو گی اور حکومت کے لئے ایسی اپوزیشن کے ساتھ چلنا آسان نہیں ہو گا ۔ ماضی میں انتخابی نتائج پر تحفظات کے باوجود جمہوری عدم استحکام پیدا نہیں ہوا لیکن اس مرتبہ شاید ایسا نہیں ہو گا ۔ میاں نواز شریف کی گزشتہ حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دو مرتبہ دھرنا دیا گیا مگر حکومت اس دباؤ سے نکل گئی بالآخر اس دباؤ کے نتیجے میں پاناما کیس عدالت میں چلا اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو سزا ہوئی ۔ اگر پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) اپوزیشن میں بیٹھ کر تحریک انصاف کی حکومت کو کام کرنے کی مہلت دیں گی تو اس کے نتیجے میں انہیں سخت ترین ’’ احتساب ‘‘ کا سامنا ہو گا ، جو انہیں سیاسی طور پر احتجاج اور مزاحمت کی طرف دھکیل دے گا کیونکہ عمران خان احتساب کا نعرہ لگا کر ووٹ لے رہے ہیں ۔ اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی حکومت میں آئیں تو وہ ایسی قانون سازی کریں گی ، جو کچھ اور قوتوں کے لئے قابل قبول نہیں ہو گی ۔ یہ قانون سازی احتساب کے اداروں اور عدالتوں کے حوالے سے ہو سکتی ہے ۔
اس وقت جو سیاسی تصادم کا ماحول ہے یا انتخابی عمل کے بارے میں سیاسی جماعتوں کے جو تحفظات ہیں ، وہ انتخابی سیاست کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ ان کے اسباب کچھ اور ہیں ۔ 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات کے حوالے سے لوگوں کی دلچسپی اس بات میں نہیں ہے کہ کس کی حکومت بنے گی بلکہ اس بات میں ہے کہ حکومت کس قدر مضبوط ہو گی اور اپوزیشن میں کون ہو گا ۔ بدلتی ہوئی ملکی ، علاقائی اور عالمی صورت حال میں ان انتخابات پر صرف پاکستانیوں کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نظریں ہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں