آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنمائوں کی انتخابی عمل میں ایک دوسرے پر رکاوٹیں ڈالنے کی بلیم گیم، میڈیا اور صاحب الرائے شہریوں کے ’’انتخابات ملتوی نہ ہو جائیں‘‘ کے دھڑکوں یا خواہش کے باوجود ملتوی کی ڈگڈگی تو دو ہفتہ قبل ہی بجنا بند ہوگئی تھی۔ اب شکر الحمدللہ! 25جولائی کوپاکستان میں عام انتخابات کا ہونا ٹھہرگیا۔ ان شاء اللہ، پرسوں کروڑ ہا پاکستانی ووٹرمنتخب وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی تشکیل کے لئے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کر کے جذبہ جمہوریت سے اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے اپنے حلقے کے امیدواروں میں سے اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ یہ ’’پسند‘‘ کوئی ایک لفظ نہیں۔ اس مستند اور ریکارڈڈ پسند کے اظہار سے ہی (بمطابق آئین) آئندہ پانچ سال کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا ڈھانچہ تشکیل پائے گا۔ اس طرح تین روز بعد پاکستانی آئین کی عمل داری میں اپنا عظیم کردار ادا کریں گے۔
یقیناً ہر الیکشن پر سیاسی و انتخابی صورتحال کئی حوالوں سے مختلف ہی ہوتی، لیکن اب تک قدر مشترک یہ رہی ہے کہ انتخابی عمل پر غلبہ اسٹیٹس کو کا ہی ہوتا ہے اور نتائج بھی اسی کا شاخسانہ رہے۔ شاخسانہ اس لئے لکھ رہا ہوں کہ بلاتعطل جمہوری عمل کے اور ماضی کے برعکس رخصت ہوئے عشرہ جمہوریت (2008-18) میں منتخب حکومتوں نے اپنے اقتدار کی باری آئین کے

مطابق پوری تو کی۔ لیکن قوم و ملک کے لئے غالب نتائج یہ ہیں کہ پاکستان کی قومی معیشت تشویشناک حد تک برباد ہوگئی اور ثابت شدہ ہے کہ ان ہی دس سالوں میں ہوئی۔ داخلی سیاسی عدم استحکام بڑھا۔ سیاسی جماعتیں نحیف اور ان پر مسلط خاندان، جنہیں سیاسی و صحافتی ابلاغ میں شاہی ملوکیت، اجارہ داری اور قبضے سے تعبیر کیاجاتا رہا، ملکی اقتدار و سیاست میں سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ بلاشبہ منتخب وفاقی اور صوبائی حکومتیں بہت سنگین چیلنجز کے ساتھ اقتدار سنبھالیں گے۔ باریاں پوری کر کے آزمودہ کرپٹ حکمراں اور قومی اداروں پر مسلط کئے گئے ان کے بدعنوان، نااہل اور نکمے سربراہ برباد شدہ سرکاری خزانوں اور اداروں میں کرپشن کی ان گنت داستانیں چھوڑ گئے۔ اتنی کہ بڑھتا پھیلتا ملکی میڈیا میں بھی اتنی سکت نہیں کہ سب رپورٹ ہو کر ریکارڈڈ ہو جائے۔ اندازہ اس سے لگا لیا جائے کہ بجلی گیس اور پٹرول کی عوام الناس میں تقسیم میں بھی اربوں روپے کی کرپشن سے لے کر صرف کراچی، پنجاب اور تھر میں پینے کے لئے تقسیم آب کے نظام تک میں مختلف النوع کرپشن کی درجنوں داستانیں میڈیا میں رپورٹ ہوئیں۔ تاہم کرپشن کی کتنی ہی داستانیں تادم ان رپورٹڈ ہیں۔ حکومتیں ختم ہوگئیں لیکن داستانیں بے نقاب ہوئے جارہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان میں جمہوری عمل کی فراخدلی کا عالم ملاحظہ ہو کہ کرپشن کی یہ داستانیں رقم کرنے والے پوری سج دھج سے انتخابی میدان میں اترے، نئے وعدوں کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔
الیکشن 18اس لحاظ سے بہت غیر روایتی اور غیر معمولی ہے کہ آج جبکہ انتخابی عمل پورے زور و شور سے جاری ہے، اس کے متوازی پہلی مرتبہ ایسا احتسابی عمل بھی جاری ہے جو بمطابق آئین و قانون ہے جو بااعتبار اور نتیجہ خیز ہے۔ جو خود منتخب وزیراعظم نے پاناما لیکس پر کارروائی کو موثر قومی دبائو (منجانب اپوزیشن، میڈیا اور رائے سازوں) پر سپریم کورٹ کے سپرد کر کے شروع کرایا۔
یہ ان کی اپنی سوچ تھی (اور اس کے مطابق ایڈمنسٹریٹو ایکشن) یا درباری مشورہ کہ متعلق ریاستی ادارے تو اپنے آئینی کردار پر سرگرم ہونے کی بجائے کسی حکومتی اشارے کے منتظر رہے، لیکن وزیراعظم نے خود پر لگے الزام کی قومی اسمبلی اور قومی نشریے میں طویل وضاحت کے بعد اسے سپریم کورٹ کے سپرد کرنے کو ہی راہ نجات جانا۔ آج اپنے ہی شروع کئے احتسابی عمل کے نتیجے میں اپنی معصوم اور لاڈلی (جسے سیاست میں جھونکا گیا) صاحبزادی اور داماد سمیت اڈیالہ جیل میں ہیں۔ اگر مریم بی بی سادگی میں خود بھی وزیراعظم بننے کی تمنا دل میں بسا بیٹھی تھیں تو یہ سمجھانا نہیں بنتا تھا؟ کہ یہ بنتے زمانے سے متصادم ہے، اس کے لئے تو اب اپنی قانونی حیثیت کو شفاف بنانا لازم ہوتا معلوم دے رہا ہے لیکن شریف خاندان ہی نہیں کابینہ کا ایک بڑا حصہ میاں صاحب او رشہزادی کی بنی مشترکہ خواہش کو پورا کرنے کی راہ ہموار کرنے پر مامور ہوگیا۔ اس غیر جمہوری، غیر آئینی اور غیر قانونی جدوجہد میں جو ڈیزاسٹر ہوئے، وہ بہت واضح اور شریف فیملی، پارٹی اور حکومت کے لئے مثالی سیاسی خسارہ ثابت ہوئے، جبکہ احتسابی عمل کا اعتبار اور دائرہ بڑھتا معلوم دے رہا ہے، جس سے نئی غیر معمولی سیاسی صورتحال تشکیل پانے کو ہے۔ پی پی احتسابی عمل میں اتنی ہی آتی لگ رہی ہے جتنی وہ انتخابی عمل میں سرگرم ہوئی ہے۔ خود کڑے احتساب کے علمبردار عمران خان، اسٹیٹس کوکی جزوی گرفت سے بچ سکے نہ احتساب سے۔ الیکٹ ایبلز کی پارٹی میں کھپت ان کے اصلی دیرینہ، نئے اور مطلوب ایجنڈے کے لئے چیلنج ہے۔ شنید تو ہے کہ بعد از قیام حکومت عمران خان کے پاس اس کی موثر رمیڈی ہے جسے وہ منکشف کرکے انتخابی نتائج کے امکانی خسارے سے بچنے کیلئے آزمائیں گے۔ دعویٰ یہ بھی ہے کہ رمیڈی ایسی ہے کہ اس سے روایتی الیکٹ ایبلز بھی نالاں نہیں ہوں گے اور خان اعظم قومی سیاست کا ایک بڑا مرکزی دھارا بنانے میں کامیاب ہوجائے گا۔
پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کو پڑھا جائے تو اس کا انحصار شام غریباں کا ماحول بنانے کے علاوہ بھٹو اور بی بی کی لیگسی پر ہے۔ اس سوال کا جواب وہ نہیں دے پارہی کہ 42سال قبل بھٹو نے ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا جو نعرہ لگایا تھا، وہ کدھر ہے؟ اور آج وارث نواسہ، اس میں سے کپڑےاور مکان کو غائب کرکے وہ صرف ’’بھوک مٹانے‘‘ کا نیا نعرہ ہی کیوں لگارہا ہے؟ بھوک کے ساتھ وہ سندھ کی پیاس ختم کر نے کی بات کیوں نہیں کررہا؟ جہاں مہنگا اور گدلا پانی ایک مسئلہ ہے اور اس کی عدم دستیابی اور قلت دوسرا اور گھمبیر۔
مان لیا جائے کہ شریف خاندان، پوری قوم اور آئینی ریاستی نظام کو مائنس کرکے تنہا ہی ملکی ترقی کا علمبردار اور اہل ہے لیکن وہ تو اب زیر عتاب آگیا اور ایسا کہ آدھا خاندان جیل میں، پارٹی ن اور شین لیگ میں تقسیم ہوگئی۔ پارٹی ایک(ہونے کادعویٰ) اور سوچ و اپروچ دو بیانئے دو، دھڑے دو۔ الیکشن 13میں کشکول توڑنے کے وعدے سے متصادم جو کچھ ہوا، وہ بھی ہر پاکستانی کا تفکر ہے اور مرد بیمار لندن میں۔
الیکشن۔18کی اس غیر معمولی صورتحال نے گو گزشتہ انتخابات کی نسبت ووٹرز کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا ہے کہ وہ کس بنیاد پر کسے ووٹ دیں۔ انتخابی مہم میں جونئی بنیادیں واضح ہوئی ہیں، اس میں غیر آزمودہ قیادت، نیت کا نیک اورایماندار قائد، ظہور پذیر قومی تقاضوں اور ان کے حل کا حامل کوئی ویژنری سیاستدان، علم کو اہمیت دینے والا اور اپنے اہداف میں کوئی سنجیدہ قیادت، غرباءکا حقیقی درد رکھنے والا کوئی سیاستدان کوئی توانا ورکرز والی جماعت، شعور بیدار کرنے والا کوئی قائد نظریے پر کاربند اور مقاصد پاکستان اور اسلامی ریاست کے فلسفے اور اس سے متاثر کوئی قومی قائد، علاقائی اور نسلی تعصبات سے پاک حاکم ہی وہ راہیں ہیں جو ووٹرز کو درست ووٹ کا فیصلہ کرنے میں معاون ہوسکتی ہیں۔ ان خواص سے جو بھی قریب تر ہے آج پاکستان کے گمبھیر حالات میں ملک کو سنبھالنے، بچانے، اس کے برباد شعبوں کی بحالی اور ترقی و تعمیر کے لئے وہی ووٹ کا مستحق ہے۔ وماعلینا الالبلاغ
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں