آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کم عرصے میں، متعدد کام یابیاں سمیٹنے والے، شہزاد شیخ کی باتیں

بات چیت: عالیہ کاشف عظیمی

سن2011ء میں ایک خوش گفتار، ملنسار، روشن، مُسکراتی آنکھوں والے نوجوان نے شوبز انڈسٹری میں قدم رکھا اور اپنے خاندان کے نام وَر اداکاروں کا نام کیش کروائے بغیر محض اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنی الگ پہچان بنانے میں کام یاب ہوئے۔ لوگ آج انہیں مُلک کے لیجنڈ اداکار جاوید شیخ کے بیٹے، سلیم شیخ کے بھتیجے کے طور پر نہیں، بلکہ ’’شہزاد شیخ‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ شہزاد گریجویشن کے بعد امریکا چلے گئے تھے، جہاں انہوں نے ’’نیویارک فلم اکیڈمی‘‘ سے باقاعدہ اداکاری کی تربیت حاصل کی اور پھر وطن واپسی کے بعد سے تاحال نہ صرف چھوٹی اسکرین، بلکہ بڑے پردے پر بھی اداکاری کے جوہر دکھارہے ہیں۔

گزشتہ دِنوں ہم نے’’جنگ، سنڈے میگزین‘‘ کے معروف سلسلے ’’کہی ان کہی‘‘ کے لیےشہزاد شیخ سے تفصیلی بات چیت کی، جس کا احوال نذرِ قارئین ہے۔

س:خاندان، جائے پیدایش، ابتدائی تعلیم و تربیت کے متعلق کچھ بتائیں؟

ج:میرا تعلق راول پنڈی کے شیخ گھرانے سے ہے۔ والد جاوید شیخ اداکار ہونے کے ساتھ ہدایت کار اور پروڈیوسر بھی ہیں۔ والدہ زینت منگی سے شادی کے بعد والدین کراچی منتقل ہوگئے اور یہی روشنیوں کا شہر میری جائے پیدایش ٹھہرا۔ میری ایک بہن مومل، مجھ سے دو برس چھوٹی اور بے حد لاڈلی ہے۔ مَیں نے ابتدائی تعلیم سٹی اسکول، کراچی سے حاصل کی، جب کہ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ سے کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن کے بعد امریکا چلا گیا، جہاں ’’نیویارک فلم اکیڈمی‘‘ سے اداکاری کا ایک سالہ کورس کیا۔ رہی بات تربیت کی، تو مَیں والدہ ہی کا پَرتو ہوں کہ والد سے تو صرف چھٹیوں ہی میں ملاقات ہوتی تھی۔ مجھے اور مومل کو والدہ ہی نے پال پوس کر بڑا کیا۔ ہاں، والد نے بَھرپور مالی سپورٹ ضرور کی۔

س:آپ نے نیویارک فلم اکیڈمی سے کورس کیا، تو کیا اس کا فیلڈ میں کچھ فائدہ ہوا؟

ج:جی، کسی حد تک کہہ سکتے ہیں۔ ویسے امریکا اور پاکستان میں اداکاری کا انداز یک سر مختلف ہے۔ ہاں، یہ ہے کہ مَیں ایک شرمیلا لڑکا تھا اور جذبات کا اظہار ذرا مشکل لگتا تھا، اس کورس کے ذریعے خود اعتمادی بڑھی، اداکاری کے بنیادی اسرارورموز سے واقفیت حاصل ہوگئی۔

س:بچپن میں شرارتی تھے یا مزاج میں سنجیدگی کا عنصر غالب تھا؟

ج:کبھی شرارتی، کبھی سنجیدہ مزاج۔ بس کچھ مِلی جُلی سی عادات تھیں۔

س: پڑھا کوتھے یا…؟

ج:اپنے پسندیدہ مضامین جیسے فزکس اور ریاضی میں خاصا تیز تھا، جب کہ دیگر مضامین میں بس پاس ہوجاتا تھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ کند ذہن تھا۔

س:اہلِ خانہ پیار سے کسی نام سے پکارتے ہیں؟

ج:شہزاد،شیزی یا پھر شیزو۔

س:فرماں بردار بیٹے ہیں یا کچھ خود سَر بھی ہیں؟

ج:مَیں مکمل طور پر ایک فرماں بردار بیٹا ہوں۔ یقین نہیں، تو امّی سے پوچھ لیں۔

س:آپ کو دیکھ کر لگتا نہیں کہ آپ بروکن فیملی کے بچّے ہیں، یہ خود اعتمادی وراثت میں ملی یا پھر زمانے کے نشیب و فراز نے اعتماد دیا؟

ج:اصل میں والدہ نے تربیت اس نہج پر کی کہ خود اعتمادی شخصیت کا خاصّہ بن گئی۔

س:شوبز میں باقاعدہ آمد کب اور کیسے ہوئی، پہلا ڈراما کون سا تھا؟

ج:میرے والد سینئر اداکار ہیں۔ اس کے باوجود مَیں نے اپنے فنی کیریئرکا آغاز اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر کیا۔ یہاں تک کہ آڈیشن کے وقت کسی کو معلوم بھی نہیں تھا کہ مَیں جاوید شیخ کا اکلوتا فرزند ہوں۔ بہرحال،2011ء میں پہلا ڈراما’’ڈریمرز‘‘ کیا۔ اور اُس کے بعد بس چل، سو چل۔

س:زندگی کی پہلی کمائی ہاتھ آئی، تو کیا کیا؟

ج2008:ء میں، والد صاحب نےفلم’’کھُلے آسمان کے نیچے‘‘ ڈائریکٹ اور پروڈیوس کی، اُس میں، مَیں نے چھتری پکڑنے، چائے لے کر آنے، اسکرپٹ دینے اور لائٹس پکڑنے جیسے چھوٹے موٹے کام کیے، جس کا مجھے باقاعدہ معاوضہ بھی ملا، تو کچھ رقم والدہ کو دی اور باقی پیسوں سے دوستوں کے ساتھ دعوت اُڑائی۔

س:فیلڈ میں آنے کے بعد کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

ج:سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کہ ڈرامے میں سلیکٹ کرنے کے بعد اگلے ہی روز معذرت کرلی جاتی،بہت دُکھ بھی ہوتا، مگر دِل میں آگے بڑھنے کی ٹھانی ہوئی تھی، اس لیے دِل برداشتہ نہیں ہوا ۔

س:پہلی بار کیمرے کا سامنا کیا، تو دِل کی کیا حالت تھی؟

ج:بے حد نروس تھا، ہاتھ کانپ رہے تھے،بار بار ماتھے سے پسینہ پونچھ رہا تھا۔ ویسے نروس تو اب بھی ہوجاتا ہوں، مگر پھر لال بتی کے جلتے ہی سب کچھ نارمل ہوجاتا ہے۔

س:جاوید شیخ ایک سینئر اداکار ہیں، تو کیا کبھی انہوں نے اپنی سنیارٹی جھاڑنے کی کوشش کی؟

ج:ہر گز نہیں، اُن کا برتائو بالکل دوستوں جیسا ہوتا ہے۔

س:شوبز کی وجہ سے ذاتی زندگی متاثر ہوئی؟

ج:شوبز کی دنیا میں واردہوتے ہی ذاتی زندگی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ اور ایسا ہی کچھ معاملہ میرے ساتھ بھی ہے۔

س:مختصر عرصے میں اپنی پہچان بنائی، تو خود کو پانچ سال بعد کہاں دیکھ رہے ہیں؟

ج:کچھ وثوق سے نہیں کہہ سکتا، مگر یہ خواہش ضرور ہے کہ والد صاحب ایک روز فخر سے کہیں،’’یہ میرا بیٹا ہے‘‘۔

س:ڈراموں میں اکثر رومانی اور سنجیدہ نوعیت کے کردار کرتے ہی نظر آتے ہیں؟ حقیقی زندگی میں مزاج کیسا ہے؟

ج:خاصا خوش مزاج ہوں۔

س2011:ء سے تاحال مختلف نوعیت کے کردار ادا کیے، تو کون سا کردار، روپ زیادہ اچھا لگا؟

ج:’’مِی رقصم‘‘ ڈرامے میں’’ذیشان‘‘ کا کردار بہت اچھا لگا تھا۔

س:اگر فلم اور ٹی وی انڈسٹری میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے، تو ترجیح کیا ہوگی؟

ج:فی الحال تو میری پہلی ترجیح ٹی وی انڈسٹری ہی ہے۔

س:اگر بھارتی فلموں کی آفر ہوئی، تو کیا قبول کرلیں گے؟

ج:بخوشی۔ بہ شرط یہ کہ کردار جان دار ہو۔

س:بہن مومل شیخ اور کزن شہ روز سبزواری بھی شوبز سے وابستہ ہیں، تو کیاکبھی ان سے پیشہ وارانہ حسد محسوس ہوا؟

ج:بالکل بھی نہیں، ہماری کیمسٹری اتنی اچھی ہےکہ ہم سب مل جُل کر ایک دوسرے کو سراہتے بھی ہیں اور کام پر تنقید بھی کرتے ہیں۔

س:زندگی سے کیا سیکھا؟

ج: نیت اور سوچ کا اچھا ہونا ضروری ہے کہ آپ زندگی کو جو کچھ دیتے ہیں، زندگی بھی جواباً وہی کچھ لوٹاتی ہے۔

س:جو چاہا پالیا یا کوئی خواہش تشنہ ہے؟

ج: کئی خواہشات کا پورا ہونا ابھی باقی ہے۔

س:اگر اداکار نہ ہوتے…؟

ج: یہ تو طے ہے کہ اسی فیلڈ سے وابستہ ہوتا،شاید کسی اور روپ میں۔

س: زندگی کا کوئی یادگار ترین لمحہ؟

ج:جب ایک شادی کی تقریب میں حنا(اہلیہ) کو دیکھا اور بس، دیکھتا ہی رہ گیا۔

س:اپنی شادی سے متعلق بھی کچھ بتائیں؟

ج:یہ اٹوٹ بندھن مَن پسند ہے۔

س:حنا سے ذہنی ہم آہنگی کس قدر ہے؟

ج :حنا، میری شریکِ سفر ہی نہیں، بہت اچھی دوست بھی ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے بہترین مزاج آشنا ہیں۔ وہ ایک کمپنی سے بطور وکیل منسلک ہے، مگر اچھی بیوی، ماں کا کردار بھی بہت عُمدگی سے نبھارہی ہے۔

س:رومانی کردار ادا کرنے پر اہلیہ کا ردِّ عمل کیا ہوتا ہے اور اگر خواتین فینز کی کالز آئیں، تو کیا بُرا مناتی ہیں؟

ج:بُرا تو نہیں مناتیں، البتہ چھیڑتی ضرور ہیں۔ مگر بعد میں یہ بھی کہتی ہیں کہ جو بھی کرو، صرف کردار کی حد تک۔

س:جب2015ءمیں بیٹا شاہ میر شیخ گود میں آیا، تو کیا احساسات تھے؟

ج:رُواں رُواں اللہ کا شُکر ادا کررہا تھا۔ شاہ میر کو گود میں اُٹھاتے ہوئے یوں محسوس ہورہا تھا، جیسے میرا وجود میرے ہاتھوں میں سماگیا ہو۔

س:اس قدر مصروف زندگی میں گھر، اہلیہ اور بچّے کے لیے وقت نکال پاتے ہیں؟

ج:کوشش کرتا ہوں کہ گھر اور اہلِ خانہ نظر انداز نہ ہوں، اسی لیے چُھٹی کے دِن سارا وقت بس گھر ہی پہ گزارتا ہوں۔

س: بیگم کے ساتھ باورچی خانے میں اُن کی مدد کرواتے ہیں؟

ج: حنا تو خود ہی باورچی خانے میں بہت کم جاتی ہیں۔جائیں تو مدد کروانے میں کوئی حرج بھی نہیں۔

س:تنہائی پسند ہیں یا ہجوم میں گھرے رہنا اچھا لگتا ہے؟

ج:تنہائی پسند ہوں۔

س:موسم اور رنگ کون سا بھاتا ہے؟

ج:سرد موسم اور گہرا نیلا رنگ بے حد پسند ہے۔

س:کتب/شاعری سے شغف ہے؟ کس مصنّف یا شاعر کو پڑھنا اچھا لگتا ہے؟

ج:نثر اور شاعری دونوں ہی شوق سے پڑھتا ہوں۔ شعراء میں غالب اور اقبال پسند ہیں، جب کہ اُردو ادب کا مطالعہ حال ہی میں شروع کیا ہے۔

س:اسپورٹس سے دِل چسپی ہے؟ کون سے کھیل، کھلاڑی پسند ہیں؟

ج:کرکٹ اور فٹ بال کا دیوانہ ہوں۔ جب بھی موقع ملتا ہے، خود بھی کرکٹ ضرور کھیلتا ہوں۔ کھلاڑیوں میں شاہد آفریدی اور کرسٹیانو رونالڈو پسند ہیں۔

س:کبھی کچھ پکانے کی کوشش کی، کون سی ڈشز اچھی لگتی ہیں؟

ج:تمام ذائقے دار کھانے پسند ہیں، خود آملیٹ بہت اچھا بنالیتا ہوں۔

س:اگر کبھی ٹی وی انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کرنی پڑی تو کیا کریں گے؟

ج:اوّل تو ایسا ممکن نہیں، لیکن اگر کبھی حالات ایسے ہوگئے، تو پھر تب ہی سوچیں گے کہ آگے کیا کرنا ہے۔

س:کس سنیئر اداکار یا اداکارہ سے متاثر ہیں؟

ج: محمّد قوی خان، شکیل اور مرینہ خان سے۔

س:کسی اداکار یا اداکارہ کے ساتھ پرفارم کرکے بہت مزہ آیا؟

ج:اقرا عزیز، ایمن، عائزہ خان، عمران اشرف، میکال ذوالفقار وغیرہ وغیرہ۔

س:موبائل فون کو زندگی سے نکال دیا جائے،تو…؟

ج:ذہنی سکون ملے گا، لیکن اس کے بغیر کام بھی متاثر ہوتا ہے۔

س:گھر سے نکلتے ہوئے، کون سی تین چیزیں آپ کے ساتھ لازماً ہوتی ہیں؟

ج: والٹ، سیل فون اور ماں کی دُعا۔

س:کس بات پر دُکھی ہوجاتے ہیں؟

ج:جب کوئی جھوٹ مُنہ پر بولے۔

س:عوامی مقامات پر پرستار گھیر لیں، تو کیا ردِّعمل ہوتا ہے؟

ج:اچھا لگتا ہے کہ ایک فن کار کے لیے اس سے زیادہ اعزاز کی بات کیا ہوسکتی ہے۔

س:اپنی کس عادت سے خود نالاں ہیں اور کس سے گھر والے؟

ج:دیر سے جاگنے کی عادت سے۔

س:کس بات پر غصّہ آتا ہے؟

ج:اگر کہیں پہنچنے میں تاخیر ہوجائے، تو خود پر بے حد غصّہ آتا ہے۔

س:اگر کسی شو کی میزبانی کی آفر ہوئی تو…؟

ج:یہ فیصلہ شوکا فارمیٹ دیکھ کر ہی کروں گا۔

س:فارغ اوقات کے کیا مشاغل ہیں؟

ج:آج کل بائیک لی ہوئی ہے، تو اس پر دوست کے ساتھ گھومتا پھرتا ہوں۔

س:آپ کی کوئی انفرادیت، اپنی شخصیت کو ایک جملے میں بیان کریں؟

ج:منفی باتوں کے بھی، مثبت پہلو تلاش کرنا میری انفرادیت ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں