آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کے کالم میں، میں نے جو بات آخر میں کہنی ہے وہ میں شروع میں ہی کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ 25جولائی کو انتخابات کے روز خواہ موسلادھار بارش ہو، آندھی چلے، طوفان آئے مگر آپ نے ووٹ ڈالنے ضرور جانا ہے اور صرف خود نہیں جانا اپنے عزیز و اقارب، دوستوں اور ہمسایوں کو بھی اصرار کرنا ہے کہ وہ ووٹنگ میں حصہ ضرور لیں۔ اگر آپ ووٹ ڈالیں گے تو کسی پر نہیں خود پر اور آنے والی نسلوں پر بھی احسان کریں گے۔ آپ کے ووٹوں سے نئی حکومت نے وجود میں آنا ہے جس کی مدت پانچ سال ہو گی۔ ان پانچ برسوں میں یہ حکومت مختلف پالیسیاں بنائے گی۔ یہ پالیسیاں پاکستان کو مضبوط بھی کر سکتی ہیں۔ عوام میں خوشحالی بھی لا سکتی ہیں۔ انصاف بلاتاخیر کا خواب بھی پورا کر سکتی ہیں۔ بشرطیکہ آپ نے کسی ایسی جماعت کا انتخاب کیا جس نے گزشتہ پانچ برسوں میں بہتر کارکردگی دکھائی ہو۔ لیکن اگر آپ اپنے انتخاب میں غلطی کرتے ہیں اور کسی ایسی جماعت کو ووٹ کاسٹ کر دیتے ہیں جو گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان کو آگے لے جانے کی بجائے پیچھے لے جانے کا باعث بنی ہو تو ظاہر ہے اس کے بھیانک نتائج آپ ہی نہیں آپ کی آئندہ نسلیں بھی بھگتیں گی۔ 25جولائی کو آپ نے زندگی یا مردنی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔
آپ نے جلسے جلوس کر لئے۔ ’’آوے گا بھئی آوے گا‘‘ کے

نعرے بھی لگا لئے، زندہ باد، مردہ باد کے نعرے بھی لگا لئے۔ بھنگڑوں کا شوق بھی پورا کر لیا۔ اپنے رہنمائوں پر پھولوں کی پتیاں بھی نچھاور کر لیں۔ یہ سب کچھ کر لیا۔ بہت اچھا کیا۔ مگر اب آپ نے اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے اس جماعت کو ووٹ بھی ڈالنا ہے جس نے گزشتہ پانچ برسوں میں آپ کے لئے بہت کچھ کیا۔ تاہم اس کا فیصلہ میں نے یا کسی اور نے نہیں آپ نے خود کرنا ہے اور کم از کم پرچی ڈالتے وقت تھوڑی دیر کے لئے اپنی وابستگیاں بھول کر غیر جانبدار ہو جانا ہے اور پھر اسی غیر جانبداری کے نتیجے میں آپ جس فیصلے پر پہنچیں اس کے مطابق اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔ مجھے علم ہے میں آپ کو بچوں کی طرح سمجھا رہا ہوں اور کوئی پتہ نہیں کہ آپ مجھے سمجھانے کی پوزیشن میں ہوں۔ مگر میں رائے دہی کے حوالے سے بہت جذباتی ہو رہا ہوں۔ اس لئے مجھے معاف کر دیجئے۔ بس ووٹ ڈالنےضرور چلے جایئے۔
25جولائی بروز بدھ سارے ملک میں عام تعطیل ہو گی۔ مجھے خدشہ ہے کہ ملک و قوم کے غم میں مستقل نڈھال رہنے والے بعض دانشور اس روز چھٹی منائیں گے اور ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھ کر رزلٹ دیکھتے ہوئے تبصرہ آرائی کر رہے ہوں گے۔ یہاں ان کا ذکر غیر ضروری طور پر آ گیا۔ مجھے یقین ہے ایسے لوگ بہت کم ہوں گے۔ بہرحال جن دوستوں کے ووٹ ان کے آبائی شہروں میں ہیں وہ ایک دن پہلے وہاں پہنچنے کی کوشش کریں اگر کسی کے نیشنل آئی ڈی کارڈ کی ڈیٹ ایکسپائر ہو گئی ہے۔ میری اطلاع کے مطابق اسے بھی ووٹ ڈالنے کی اجازت ہے البتہ فوٹو کاپی پر ووٹ نہیں ڈالا جا سکے گا۔
ایک ضروری بات یہ کہ اگر کوئی شخص پولنگ بوتھ پر یا پولنگ اسٹیشن کے باہر آپ کو آپ کی مرضی کے خلاف کسی اور کو ووٹ کاسٹ کروانے کی کوشش کرے تو آپ فوری طور پر اپنی جماعت کے نمائندے یا کسی غیر جانبدار سرکاری اہلکار کو مطلع کریں اور یہ دھاندلی نہ ہونے دیں۔ ایک اہم بات اس کے علاوہ بھی ہے اور وہ یہ کہ عموماً ہارنے والا امیدوار مار دھاڑ سے ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے اس حلقے کے انتخابات ملتوی ہو جائیں اور اگر کسی جماعت کو اپنے حوالے سے ملک بھر سے یا کسی صوبے سے مسلسل منفی نتائج کی اطلاع مل رہی ہو تو پھر ہر جگہ ایسا ہی منظر نظر آتا ہے۔ پاکستان سے محبت کرنے والے کسی بھی جماعت کے فرد کو اس ہلڑ بازی کا نہ صرف حصہ نہیں بننا چاہئے بلکہ حالات کو پُر امن بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔ موجودہ انتخابات (خصوصاً) بچوں کا کھیل نہیں ہیں بلکہ آپ کے بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے ہیں۔ لہٰذا براہ کرم پُرامن ماحول پیدا کرنے میں اپنی تمام تر کاوشیں بروئے کار لائیں۔
پس نوشت میں یہ سطور ابھی یہیں تک لکھ پایا تھا کہ ٹی وی اسکرین پر نظر پڑی۔ جس پر یہ خبر چل رہی تھی کہ جیل میں ڈاکٹروں کے بورڈ نے میاں نواز شریف کو فوری طور پر راولپنڈی کارڈیالوجی اسپتال میں داخل کرنے کی سفارش کی ہے اور کہا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ان کے گردے فیل ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ خبر کل ہی سامنے آ گئی تھی مگر انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ایک بہت بڑے قومی رہنما جو تین بار ملک کے وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی پاکستان بنا کر ہمارے بدترین دشمن انڈیا کے خطرات سے اپنے ملک کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا، اس کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ میاں صاحب ہارٹ کے مریض بھی ہیں۔ ان کے ساتھ ایک مستقل ڈاکٹر ہوتا ہے مگر اسے ہفتے میں صرف ایک دن میاں صاحب سے ملنے کی اجازت دی گئی جس کی وجہ سے نوبت یہاں تک پہنچی۔ابھی خبر آئی ہے کہ میاں صاحب نے اسپتال میں ایڈمٹ ہونے سے انکار کر دیا ہے اور جیل ہی میں رہتے ہوئے علاج معالجہ کی سہولتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں