آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سوال بہت اہم ہے کہ کیا صرف مخلص ہونا قوم کے مسائل میں اپنی رائے کو مسلط کر دینے کا حق کسی انسان یا ادارے کو عطا کر دیتا ہے ؟ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کو شکست ہو گئی ہٹلر اور چرچل کامیابی اور ناکامی کی دو علامتوں کے طور پر دنیا کی تاریخ اور سیاست پر غیر معمولی نقوش چھوڑ گئے ۔ کیا ہٹلر کی اپنے وطن سے محبت اس کے ساتھ مخلص ہونے کے آگے کبھی کوئی سوالیہ نشان لگایا جا سکتا ہے ہر گزنہیں لیکن پھر بھی جرمنی کی تباہی کا باعث ٹھہرایا گیا چرچل کی مثال ابتدا میں اسلئے دی گئی کہ جرمنی نے ترقی کے دوبارہ سفر کا آغاز ہٹلر کے راستے کو قابل نفرت اور چرچل کی جمہوری روایات کو اختیار کرتے ہوئے طے کیا ہٹلر اپنے تمام اخلاص کیساتھ یہ گمان کرتا تھا کہ وہ جرمنی کے لیے سب سے بہتر سوچتا ہے اس پر عمل کر سکتا ہے اور اپنی سوچ اور عمل کے برخلاف جرمنی سے اُٹھتی ہر آواز کو طاقت کے زور پر دبانا اس کا حق ہے وہ دبا سکتا ہے ۔ اور وہ دباتا چلا گیا۔ نتیجتاً جرمنی نے شکست کے بعد عشروں تک دو حصوں میں تقسیم بھی رہا صرف ہٹلر کے غیر معمولی اخلاص اور ضرورت سے زیادہ طاقت رکھنے اور اس کے استعمال کے سبب سے جرمنی کو وہ دن دیکھنے پڑے ۔ جب کبھی بھی معاشرے پرجبر کا سایہ پڑنے لگا تو چاہے اس جبر کے تحت سیاسی نظام قائم کرنے کی کوشش بھی کی گئی مگر دن بہ دن شہری

سیاسی نظام کی اُن خوبیوں سے لاتعلق ہوتے چلے گئے کہ جن کی بنیاد پر سیاسی نظام اور اس کے چلانے والوں کو منتخب یا مسترد کر دیا جاتا ۔ اگر ایک طبقہ ووٹ کا استعمال کرتا بھی ہے تو اس تصور کے ساتھ کہ ہمارے ووٹ چاہے کسی کے بھی حق میں ہوں نتیجہ زور آور کی مرضی کا ہی ہو چنانچہ سیاسی عمل اپنے ماحول معاشرے اس میں موجود روز مرہ کے مسائل سے عدم وابستگی کی بنیاد پر موجود ہوتا ہے ایک فالج زدہ سیاسی نظام جو افراد کو ریاست سے دور کر دینے کا باعث بنتا چلا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر علی شریعتی نے اپنے لیکچر میں کہا تھا کہ انسان کا سیاسی ہونا ہی اسکی خاص پہچان ہے ۔ نا کہ اس کا سماجی ہونا۔ البتہ سیاست کا اس کے رائج مفہوم میں نہیں لینا چاہیے بلکہ سیاست اس ماحول اس معاشرے اس مشترک سرنوشت اس مشترک دکھ اور اس مشترک زندگی سے انسان کی خود آگاہی جس میں وہ رہتا ہے اور جس سے اس کی وابستگی ہے البتہ ایسے انسان بھی ہے جو اس خود آگاہی کو محسوس نہیں کرتے یہ لوگ عام انسان نہیں مفلوج ہیں اور جب طاقت کے زور پر عوام کو ان تمام عوامل سے دورکھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ اس سے عملاً دور ہونے بھی لگتے ہیں نتیجتاً ایک فالج زدہ سیاسی نظام ہمارے سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور وطن عزیز میں تو یہ کہانی بار بار دہرائی جاتی ہے ۔ یہاں پر عوام سے آزادانہ ماحول میں اپنی رائے کے اظہار کے حق کو چھینا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ واضح ہے کہ بار بار طاقت کے استعمال کے باوجود پاکستان میں عوام اور ان کی قیادتوں نے جبر کے سائے سے نکل کر آزادانہ رائے قائم کرنےکےلئے استعمال کیا ہے اور وہ بھی فالج زدہ نظام کو ایک جاری عمل میں ڈھالنے کی طرف بڑھتے رہنا چاہتے ہیں کہ جن میں عوامی رائے سے حکومتوں کا قیام عمل میں آئے۔ اس کشمکش کا آغاز لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد سے آج تک بار بار ہو رہا ہے اور آزادانہ فیصلے کا حق ہمارا حق ہے اس سے دستبردار ہوانہیں جا سکتا ۔ اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ نظریات کبھی قتل نہیں ہوتے چاہے نظریہ رکھنے والوں کے ساتھ جیسا مرضی سلوک روا رکھا گیا ہو۔ اور اگر ایک موقعے پر نظریہ سچا ہو تو عوام بھی تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں ایک زمانے میں ایتھنزاور مگاراکے درمیان جزیرہ سیلمس کی ملکیت پر جھگڑا ہو گیا جو مدتوں چلتا رہا ایتھنز والوں کو برابر شکستیں ہوتی رہیں اور وہ ہمیشہ کے لیے لڑائی سے دستبردار ہو گئے اور اس بات پر اتفاق کر لیا کہ جو شخص اس لڑائی کا ذکر کرے یا دوبارہ لڑنے کی تحریک دے وہ قتل کیا جائے ۔ احساس شکست اس حد تک تھا ایسے موقعے پر ایتھنز میں فنون لطیفہ سے وابستہ سولن زندہ تھا اس نے دیوانے کا روپ دھارا اور یہ اشعار پڑھنے لگا " کاش میں ایتھنز میں پیدا نہ ہوتا بلکہ عجم یا بربر یا کسی اور ملک میں پیدا ہوتا جہاں کے باشندے یونان کے علم وحکمت سے بے خبر ہوتے وہ حالت میرے لیے بہتر تھی کہ لوگ مجھے دیکھ کر ایکدوسرے سے کہیں کہ یہ شخص اس ایتھنز کا رہنے والا ہے ۔ جو سیلمس کی لڑائی سے بھاگ گئے یہ سُن سُن کر شکستہ دل پھر جُڑ گئے موت کا خوف رفع ہو گیا سولن کی قیادت میں ہی ایتھنز نے مگارا کو شکست دے ڈالی مسئلہ ہمارا بھی یہی ہے ۔ سولن یونان کے علم وحکمت کو نہ بھلا سکا تو ہم بانی پاکستان ؒ اور ان کی جدوجہد کی جگہ محدود جمہوریت یا نام نہاد انتخابی عمل کو کیسے تسلیم کر لیں حالانکہ ہم اس قسم کے ڈراموں کو بار بار بھگت بھی چکے ہیں اور ڈرامہ اسٹیج کرنے والے کو بار بار دیکھ چکے ہیں۔ اگر وطن عزیز میں بھی زبان طاقت کے زور پر چپ کروادی گئی تو پھر عوام نہیں رکے گی کیونکہ ہم ہٹلر کو بھگت چکے اور ہٹلر کی واپسی کسی صورت قابل قبول نہیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں