آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
دنیائے فٹبال نے شان دار اور یادگار میزبانی پر روسی قوم کے دل جیت لئے

فرانس نے کروشیا کو شکست دیکر ورلڈ کپ فٹ بال کی عالمی جنگ جیت لی۔ چار سال بعد ہونے والے عالمی میلے میں شرکت کرنے والی 32 ٹیموں میں فرانس کے کھلاڑیوں نے اپنے آپ کو ممتاز ثابت کرتے ہوئے عالمی اعزاز کا حقدارثابت کیا، روس نے فیفا ورلڈ کپ فٹ بالء کا نہ صرف شاندار انعقاد کیا بلکہ فین آئی ڈی پر دنیا کے لاکھوں شائقین کو یہ ایونٹ دیکھنے کا موقع فراہم کرکے دنیا فٹ بال میں ایک نئی روایت کا آغازکیا۔ فائنل تقریب میں دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہوں ، فیفا کے عہدیداروں اور دنیا بھر کے فٹ بال لیجنڈز کو مدعو کرکے اختتامی تقریب کو چار چاند لگادیئے گئے۔ 

روس میں ہونے والا یہ ورلڈ کپ بلاشبہ ایک تاریخ ساز حیثیت اختیارکرگیا ، ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کامظاہرہ کرنے والی کروشیا کی ٹیم کی کارکردگی اور بڑی ٹیموں کا ٹورنامنٹ سے آئوٹ ہوجانے پر ٹورنامنٹ کے فائنل سے قبل فرانس اور کروشیا کی ٹیموں کے بارے میںجیت کی پیش گوئی کرنے میں ہرجانب سے احتیاط برتی جارہی تھی۔کروشین ٹیم نے سیمی فائنل تک جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ فائنل میں بھی فرانس کے خلاف اپ سیٹ کرے گی لیکن ان کے کم تجربے اور غلطیوں کا فرانس نے مکمل فائدہ اٹھایا اور میدان بآ سانی مارلیا۔فائنل سے قبل لوزنیکی فٹ بال اسٹیڈیم آنے والے تماشائیوں کی اکثریت دونوں ٹیموں میں سخت مقابلےکی توقع کررہی تھی لیکن فرانس نے پے درپے حملے کرکے کروشین کھلاڑیوں پر ایسی کاری ضربیں لگائیںکہ وہ اس سے بچ نہ سکے۔ فرانسیسی کھلاڑیوں نے کروشین ٹیم کے پہلی بار ورلڈ چیمپئن بننے کے خواب کو چکناچور کردیا۔ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیم کے کھلاڑی فائنل میں شکست کے بعد بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہے تھے۔ ورلڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے مقابلے انتہائی حیران کن رہے جن میں سب سے بڑے اپ سیٹ دفاعی چیمپئن جرمنی کو برداشت کرنا پڑا۔یہ ٹیم ابتدائی مرحلے میں ہی ایونٹ سے آئوٹ ہوگئی۔ 

دنیائے فٹبال نے شان دار اور یادگار میزبانی پر روسی قوم کے دل جیت لئے

اس کے ساتھ ساتھ دنیائے فٹ بال کی بڑی بڑی ٹیموں کے ساتھ بھی کچھ اچھا نہیں ہوا۔ ارجنٹائن، پرتگال،اسپین،برازیل کی ٹیمیں بھی بغیر سیمی فائنل کھیلے ٹورنامنٹ سے آؤٹ ہوئیں۔برازیل اور بلجیم ٹورنامنٹ کی ٹاپ فیوریٹ ٹیم سمجھی جارہی تھی لیکن بلجیم نے پہلے برازیل کو ٹورنامنٹ سے آئوٹ کیا اور پھر خود بھی سیمی فائنل میں فرانس کے ہاتھوں شکست کھا کرایونٹ سے باہر ہوئی۔ حیرت انگیز طور میزبان ملک کی حیثیت سے ٹورنامنٹ میں جگہ بنانے والی روسی ٹیم کی کارکردگی قابل تعریف رہی۔ اس ٹیم نے ہوم گرائونڈ اور ہوم کرائوڈ کے سامنے جس کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہ مدتوں یاد رکھی جائے گی۔ افتتاحی میچ میں سعودی عرب کو پانچ صفر سے شکست دیکر ایونٹ میں اپنا شاندار آغاز کیا اور اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ ٹیم کوارٹر فائنل میں پہنچی لیکن یہاں بھی سخت مقابلے کے بعد پینلٹی شوٹ آئو ٹ پرکروشیا کے ہاتھوں زیر ہوئی۔ اس ٹیم نے 54 سال بعد دوسری بار ایونٹ کے کوارٹر فائنل میں جگہ حاصل کی جس پر اس کے شائقین خوش تھے۔ روسی عوام اپنی ٹیم کی اس کارکردگی کو بہترین قرار دیتے ہیں ۔ روسی فٹ بال فیڈریشن کے صدر کا کہنا ہے کہ وہ 2022 ء ورلڈ کپ کویت میں اس سے بھی بہترکارکردگی کا مظاہرہ کریں گے اب ہمارے ملک کی فٹ بال اس ڈگر پر آگئی ہے کہ ٹورنامنٹ جیتنا ہم نے اپنا مقصد بنا لیا ہے۔ فیفا ورلڈ کپ کی فاتح فرانس کی ٹیم کو خالص سونے سے بنی ٹرافی کے ساتھ مجموعی طور پر 3کروڑ94لاکھ ڈالر سے زائد رقم انعام کے طور پر ملی جبکہ کروشین ٹیم کو 2کروڑ 95لاکھ ڈالر، تیسری پوزیشن حاصل کرنے والی بلجیم کی ٹیم کو ڈھائی کروڑ ڈالر، چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والی انگلینڈ کی ٹیم کو ٹیم سوا دوکروڑ کی انعامی رقم ملی۔کروشیا کے لوکامورڈک کو ورلڈ کپ 2018ء کا بہترین کھلاڑی قرار دیتے ہوئے گولڈن بال کا تحفہ دیا گیا۔ انگلینڈ کےکپتان ہیری کین کو ورلڈ کپ 2018ء میں سب سے زیادہ گول کرنے پر گولڈن بوٹ کا ایوارڈ دیا گیا۔ 

انگلش کپتان نے 9 میچوں میں چھ گول (سب سے زیادہ گول)کرکے یہ ایوارڈ حاصل کیا۔ فرانس کے انتونیوگریز مین دوسرے نمبر پر رہے انہوں نے سات میچوں میں چار گول کئے انہیں سلور بوٹ جبکہ بلجیم کے لوکاکو نے 9 میچوں میں چار گول کئے انہیں برانز بوٹ کا ایوارڈ دیا گیا۔ فیفا فیئر پلے ٹرافی اسپین کو دی گئی۔ فائنل کو دیکھنے کیلئے روسی صدر ولادی میرپیوتن بھی موجود تھے ان کے علاوہ خاص مہمانوں میںکروشیا کی صدر کولینڈا گریبرکیتاروک، فرانس کے صدر ایمانول میکرون،صدر فلسطین محمد عباس، صدر آرمینیا، صدر بیلاروس اور دیگر ممالک کے صدور اور سفارتکار، فیفا کے صدر گیانی انفانٹینو، مختلف ممالک کی فٹ بال فیڈرشنز کے صدور، فیفا کونسل کے اراکین، دنیا ئے فٹ بال کے لیجنڈ اور دیگر موجود تھے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں