آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان. . . ’’بلیک لسٹ‘‘ کا خطرہ

’’پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ چھ ماہ پیشتر ہی ہوگیا تھا جب ملک میں پاکستان مسلم لیگ (نـ) کی حکومت تھی اور اس بارے میں حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا تھا، جون میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا جائے گا تاہم تنظیم نے یہ موقع بھی فراہم کیا تھا کہ اس عرصے میں وہ اپنے معاملات کو بہتر کریں ۔ پاکستان کو دہشت گردی کے لیے مالی مسائل کی روک تھام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں اور ان مطلوبہ اقدامات پر عملدرآمد کے ذریعے اگر ٹاسک فورس کو مطمئن کرایا گیا تو اس بات کی گنجائش پیدا ہوسکے گی کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل نہ کیا جاسکے۔ اپنی آئینی مدت ختم ہوجانے کی صورت میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے پیرس میں ہونے والے اجلاس میں نگران حکومت کے ایک وفد نے وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد کی سربراہی میں اجلاس میں شرکت کی اور پاکستان کا مؤقف پیش کیا لیکن کچھ ہی دن پہلے حکومتی اُمور سنبھالنے والی اس ٹیم میں شامل افراد ٹاسک فورس کے ارکان کو قائل کرنے میں ناکام رہی۔ ایف۔اے۔ٹی۔ایف کا اگلا اجلاس رواں سال ستمبر میں ہوگا اور خدشے کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اگر پاکستان نے مؤثر اقدامات نہ کیے تو اُسے بلیک لسٹ میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے‘‘

پاکستان. . . ’’بلیک لسٹ‘‘ کا خطرہ

امریکہ میں متعین پاکستان کے سفیر نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ حکومت پاکستان منی لانڈرنگ کے خلاف قوانین کو سخت اور مؤثر کرنے کے ساتھ ساتھ مزید ایسے اقدامات بھی کرنے کے لیے پُرعزم ہے جن پر عملدرآمد سے پاکستان کا نام پندرہ ماہ میں گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔ پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی نے اس حوالے سے امریکی انتظامیہ سے اپنی دیرینہ شناسائی اور ذاتی تعلقات کا تو کوئی تذکرہ نہیں کیا لیکن وہ اس حوالے سے پُریقین ہیں کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان حل طلب تنازعات میں ہونے والی پیش رفت میں بھی ایسے اُمور شامل ہیں جن پر عملدرآمد سے این۔ اے۔ ٹی۔ ایف (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) اطمینان کا اظہار کرسکتا ہے۔ واشنگٹن میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی نے اس حوالے سے اُنہیں بعض تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ ابھی چند روز پیشتر ہی نگران وزیراعظم کی صدارت میں اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کا ایک اجلاس بھی ہوا جس میں اُس پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلی غوروخوض کیا گیا جو ایف۔ اے۔ ٹی۔ ایف نے پاکستان کے ساتھ مل کر طے کیا ہے۔ اگرپاکستان اس پلان پر پوری طرح (ایف۔ اے۔ ٹی۔ ایف کے نکتہ نظر سے) عمل کرتا ہے تو پھر اسے گرے لسٹ سے نکالا جاسکتا ہے ۔ اب حکومت کی کوشش اپنی جگہ پاکستانی سفیر علی جہانگیر صدیقی کا عزم، ارادے اور سفارتی رابطے اپنی جگہ لیکن ان تمام کوششوں کے باوجودکیا پاکستان گرے لسٹ سے اخراج اور بلیک لسٹ میں نام شامل کیے جانے کے خدشات سے بچنے کے لیے ایف۔اے۔ٹی۔ ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرنے کی پوزیشن میں ہے یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کیونکہ ایسا ناممکن تو نہیں لیکن مشکل اور پیچیدہ ضرور ہے۔ یہ مشکلات اور پیچیدگیاں کیا ہیں ان پر آگے چل کر بات کرتے ہیں تاہم اس سے قبل ایک مختصر سا پس منظر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کا۔

گزشتہ دنوں پیرس میں ہونے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے پاکستان کو اس لسٹ میں شامل کیے جانے کے حق میں جہاں عالمی طاقتوں میں شمار ہونے والے ممالک امریکہ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی نے ووٹ دیئے وہیں سعودی عرب چین اور ترکی جنہیں پاکستان کا قابل اعتماد دوست سمجھا جاتا ہے اور یہ ممالک ہر بین الاقوامی فورم میں اہم ایشوز پر پاکستان کے اور پاکستان ان ممالک کا ہم خیال رہا ہےپھرعالمگیریت کے حامل تنازعات کے حل میں بھی ان کی سوچ میں ہم آہنگی پائی گئی لیکن انہوں نے بھی پاکستان کی حمایت نہیں کی۔ اطلاعات کے مطابق ترکی نے پاکستان کا نام گرے لسٹ میں ڈالنے کے حوالے سے قدرے مختلف رویہ اختیار کیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کیا گیا ہے اس سے قبل 2012 سے 2015 تک پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں رہ چکا ہے۔ واضح رہے کہ ایف ۔اے۔ٹی۔ ایف ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جسے 1989 میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سے منسلک مالی معاونت کی روک تھام اور بین الاقوامی مالیاتی نظام کو اس سلسلے میں درپیش خطرات سے بچانے کے لیے قائم کیا تھا۔ اس مرتبہ پاکستان کا نام اس لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ چھ ماہ پیشتر ہی ہوگیا تھا جب ملک میں پاکستان مسلم لیگ (نـ) کی حکومت تھی اور اس بارے میں حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا تھا کہ جون میں پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا جائے گا تاہم تنظیم نے یہ موقع بھی فراہم کیا تھا کہ اس عرصے میں وہ اپنے معاملات کو بہتر کریں ۔ پاکستان کو دہشت گردی کے لیے مالی مسائل کی روک تھام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں اور ان مطلوبہ اقدامات پر عملدرآمد کے ذریعے اگر ٹاسک فورس کو مطمئن کرایا گیا تو اس بات کی گنجائش پیدا ہوسکے گی کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل نہ کیا جاسکے۔ اپنی آئینی مدت ختم ہوجانے کی صورت میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے پیرس میں ہونے والے اجلاس میں نگران حکومت کے ایک وفد نے وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد کی سربراہی میں اجلاس میں شرکت کی اور پاکستان کا مؤقف پیش کیا لیکن کچھ ہی دن پہلے حکومتی اُمور سنبھالنے والی اس ٹیم میں شامل افراد ٹاسک فورس کے ارکان کو قائل کرنے میں ناکام رہی۔ ایف۔اے۔ٹی۔ایف کا اگلا اجلاس رواں سال ستمبر میں ہوگا اور خدشے کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اگر پاکستان نے مؤثر اقدامات نہ کیے تو اُسے بلیک لسٹ میں بھی شامل کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم پہلا مرحلہ تو یہ ہے کہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ٹاسک فورس نے جو ایکشن پلان دیا ہے اُس پر عملدرآمد ہو۔ امریکی محکمہٴ خارجہ بھی پاکستان کی جانب سے اعلیٰ سطحی سیاسی عزم پراظہار اطمینان کرچکا ہے کہ دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی ترسیل کے معاملے پر نظر رکھنے کےحوالے سے نشاندہی کردہ کمزوریاں دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ محکمہٴ خارجہ کی خاتون ترجمان ہیدر نوئرٹ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ ’’ایف اے ٹی ایف‘ ‘اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرے تاکہ دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی ترسیل پر نظر رکھنے والے ادارے کی شرائط پوری کی جا سکیں، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کی شقوں کو پورا کرنا شامل ہے۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ اُن فنڈز کو منجمد کیا جائے، اُنھیں اکٹھا کرنے سے روکا جائے اور جن رقوم کا تعلق کالعدم نہ قرار دیے گئے دہشت گرد گروپوں سے ہو اُن کی ترسیل روکی جائے۔ پاکستان میں امریکی سفیر کا یہ کہنا درست ہے کہ گرے لسٹ میں پاکستان کا نام شامل کیے جانے سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔چونکہ پاکستانی سفیر اکنامکس کے حوالے سے معاملات کو دوسرے سفارتکار وں سے زیادہ بہتر سمجھتے اور جانتے ہیں جس کی وجہ پاکستان میں اُن کا شعبہ ہی اقتصادی اُمور تھا۔ دیکھا جائے تو تکنیکی اعتبار سے گرے لسٹ پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی رابطوں کو متاثر نہیں کرتی۔ پاکستان ماضی میں بھی 2012 سے 2015 تک گرے لسٹ میں رہ چکا ہے اور اس دوران پاکستان کو کوئی بہت خاص مالی نقصان نہیں پہنچا۔ لیکن دوسری جانب گرے لسٹ میں شمولیت کی وجہ سے پاکستان ایک غیر ملکی سرمایہ کار کی نظر میں ’’ہائی رسک‘ ‘ملک بن جاتا ہے اور ساتھ یہ خدشہ بھی رہتا ہےکہ کہیں مزید دباؤ سے پاکستان کو’ ’بلیک لسٹ‘ ‘میں نہ شامل کر دیا جائے۔ اس وجہ سے کچھ حد تک پاکستان کے اقتصادی امکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اس صورتحال کو محض یہ کہہ کر اطمینان دلادینا کافی نہیں کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کے لئے دوسرے ملکوں بالخصوص بھارت کا بہت دباؤ تھا۔ یہ بھی درست ہے کہ بھارت نے اس مقصد کے لئے خاصی کوششیں کیں اور جب پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کردیا گیا تو اُنہوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم بھی کیا ۔ لیکن ہمیں اپنے معاملات کو درست رکھنے کے لئے اپنی ترجیحات کا تعین کرکے اُن پر اپنی توجہ مرکوز کرنی ہے ۔

اب آئیے موجودہ صورتحال کی طرف پیرس کانفرنس میں پاکستانی وفد کو ایف۔ اے۔ ٹی۔ ایف کی جانب سے 26 نکات پر مشتمل ایک لسٹ دی گئی ہے جس میں اُن اقدامات کی تفصیل شامل ہے جن پر عملدرآمد سے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا جاسکتا ہے اس کے سب سے اہم اور پیچیدہ نکات کا ہی جائزہ لیا جائے تو پاکستان کو پیش آنے والی مشکلات کا اندازہ با آسانی لگایا جاسکتا ہے ۔ ان نکات کے مطابق دہشت گرد گروپوں یا کسی بھی دہشت گرد کے تمام مالی وسائل کو قطعی طور پر منقطع کرنا اور وہ ذرائع جن سے یہ وسائل فراہم کیے جاتے ہیں اُن کے خلاف بھی کاروائی کرنا شامل ہے۔ وہ افراد جن کے نام شیڈول فور میں شامل رہ چکے ہیں یا اب بھی ہیں اُن کی سرگرمیوں کو اب بھی اُس طرح مانیٹرکرنا جس طرح مغربی ممالک تقاضا کرتے ہیں۔ شیڈول فور میں ان افراد کے نام شامل کئے جاتے ہیں جو مبینہ طور پر انتہا پسندی، شدت پسندی یا دیگر ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے آسانی سے ایسے افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکیں۔ایف ۔اے۔ٹی۔ایف کی لسٹ کے تناظر میں اگر ملک میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے حوالے سے ہی ایک جائزہ لیا جائے تو یہی صورتحال اُن کے لئے ناپسندیدہ ہونے کی حد تک قابل اعتراض ہے کیونکہ جن تنظیموں اور شخصیات پر وہ الزامات عائد کرکے اُن کی سرگرمیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں وہی ان انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ پھر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مذہبی جماعتوں نے بھی ان انتخابات میں بھرپور انداز سے حصہ لینے کے لئے اپنے اُمیدواروں کی بہت بڑی تعداد کو ٹکٹ دیئے ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 37خواتین کو پاکستان پیپلزپارٹی نے 73خواتین کو ،پاکستان تحریک انصاف نے 42، متحدہ مجلس عمل نے 33 اور چند ماہ پیشتر منظر عام پر آنے والی تحریک لبیک پاکستان نے 35 خواتین کو انتخابات میں حصہ لینے کے لئے ٹکٹ دیئے ہیں ۔ یہ وہی جماعت ہے جس نے گزشتہ نومبر پیغمبر ﷺ کی شان میں گستاخی سے متعلق قوانین میں تبدیلیوں کی مخالفت کرتے ہوئے اسلام آباد کو عملاً مفلوج کردیا تھا اور اب اُس نے آنے والے عام انتخابات کے لئےتقریباً150 امیدوار انتخابی میدان میں اُتارے ہیں ۔یہ نکتہ قابل غور ہے کہ تحریک لبیک پاکستان جس کی تشکیل اہانت اسلام کا انسداد یقینی بنانے کے لئے 2015 ء میں ہوئی ہے، اُس نے 152 امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ تقابل کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں جو پارٹیاں کئی دہائیوں سے سر گرم ہیں اُنھوں نے تحریک لبیک پاکستان کے مقابل محض 40 تا 75 امیدوار زیادہ کھڑے کئے ہیں۔علاوہ ازیں اللہ اکبر تحریک (اے اے ٹی) بھی ہے۔ یہ پلیٹ فارم کوئی غیر معروف شخصیت نہیں بلکہ دنیا کے کئی گوشوں میں دہشت گرد سمجھے جانے والے حافظ سعید کی ملّی مسلم لیگ کو بھی سمائے ہوئے ہیں جسے پاکستان کے الیکشن کمیشن نے رجسٹریشن سے محروم رکھا ہے کیوں کہ اِس کے روابط ممنوعہ حافظ سعید زیرقیادت جماعت الدعوۃ کے ساتھ ہیں۔

الیکشن کمیشن نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سابقہ حکومت کے اعتراضات پر ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کیلئے درخواست مسترد کردی تھی، اب یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں وزارت داخلہ کی جانب سے الیکشن کمیشن پاکستان کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ ایم ایم ایل کی سیاسی سرگرمیوں پر سفارتی سطح پر باضابطہ اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے خط میں انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے خدشات کا بھی اظہار کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا کہ کالعدم اور زیر نگرانی جماعت کا مقصد خود کو پابندیوں سے آزاد کرنا ہے، ایسی جماعت کا عملی سیاست میں حصہ لینا انتہائی تشویشناک ہے، جس سے سیاست میں انتہاء پسندی اور تشدد کو فروغ ملنے کا خدشہ ہے۔ حافظ سعید گزشتہ برس باضابطہ طور پر پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے کا عندیہ دے چکے ہیں۔یادر ہے کہ رواں برس اپریل میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ملی مسلم لیگ اور تحریک آزادی کشمیر کو لشکر طیبہ سے منسلک تنظیمیں قرار دیا تھا، اس کے علاوہ امریکی محکمہ خزانہ نے ملی مسلم لیگ کے 7 رہنماؤں کو لشکر طیبہ کے کارندوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ اگست 2017ء میں حافظ محمد سعید نے ملی مسلم لیگ کو لشکر طیبہ کے سیاسی گروپ کے طور پر بنایا تھا، لشکر طیبہ کے لوگ ملی مسلم لیگ کی قیادت میں شامل ہیں جو کھلے عام حافظ سعید کیلئے پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے بینرز پر ان کی تصاویر اور سوچ کو فروغ دیتے ہیں۔

اے اے ٹی نے پنجاب میں 43 اور خیبر پختونخواہ میں 7 امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان اور ایم ایم اے نے کئی دہائیوں سے عملی سیاست میں سرگرم بڑی پارٹیوں کے مقابل زیادہ امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک بھر کے 248 حلقوں میں 225 امیدوار نامزد کئے ہیں۔ اسی طرح ملک بھر کے اعتبار سے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ(ن) نے ترتیب وار 218 اور 193 امیدواروں کو انتخابات میں نامزد کیا ہے۔یہ تاثر موجود ہے کہ مذہبی حلقوں میں تحریک لبیک پاکستان کا اثرونفوذ سیاسی سطح پر بھی بڑھتا ہی جارہا ہےاور اس وقت وہ مذہبی جماعتیں جو سیاست اور اب انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں اُن میں تحریک لبیک پاکستان کا فروغ خاصا نمایاں ہے۔ 2015 ء کے اواخر میں تشکیل پانے کے بعد سی ایل پی گزشتہ نومبر میں ہی شہ سرخیوں میں آگئی جب اِس کےلگ بھگ دو ہزار ارکان اور حامیوں نے جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر 3 ہفتے طویل دھرنا منظم کیا تھا۔

اب ایک ایسی صورتحال میں پاکستان ایف ۔ اے۔ ٹی۔ ایف کے مطلوبہ اہداف کیسے پورے کرسکے گا کیونکہ اُس کی نظر میں ’’خطرناک اور انتہاپسند‘‘شخصیات اور مذہبی جماعتوں کے جو ارکان انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گے ایک طرف تو اُن کی سیاسی طاقت کی وجہ سے ملکی اُمور میں اُن کا کردار بڑھے گا اور دوسری طرف وہ پارلیمانی ایوانوں میں اپنی خواہش کے مطابق قانون سازی کرانے میں کردار ادا کریں گے۔ پاکستان نے انسداد دہشت گردی کیلئے جو قربانیاں دیں اُس کی نظیر نہیں ملتی اور جس طرح دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کررہا ہے اُس کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر زبانی تو کیا جاتا ہے لیکن جہاں اس حوالے سے کسی عملی کردار کی ضرورت پیش آتی ہے وہاں ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ سامنے آجاتا ہے ۔ بہرحال پاکستان کو اس ساری صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنے پڑیں گے ، چونکہ تاخیر کیے جانے والے صحیح فیصلے بھی بسا اوقات اپنی اہمیت اور افادیت کھوکر بے مقصد ہوجاتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ’’گرے لسٹ ‘‘سے نام نکالے جانے کی روایتی انداز میں کی جانے والی کوششوں کے دوران پاکستان کا نام’’بلیک لسٹ ‘‘کی فہرست کے قریب تر ہوتا جائے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں