آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جمہوریت نے ایک اور منزل طے کرلی ہے۔۔عام انتخابات 2018کے انعقاد سے جمہوری ادارے مضبوط ہونگے۔ملکی تاریخ کے اہم ترین انتخابات آخری وقت تک غیر یقینی کی صورتحال کا شکار رہے مگر کچھ لوگوں کی خواہشات کے باوجود انتخابات تاخیر کا شکار نہ ہوسکے۔ جب پورے ملک میں پولنگ کا وقت شروع ہوا تو ووٹرز کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشنوں پر امڈ آئی۔ہر الیکشن کے ساتھ ہی ووٹر کی آگاہی میں اضافہ ہورہا ہے۔پاکستان کےعوام کو اپنے ووٹ کی اہمیت کا اندازہ ہے۔یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ لوگ ووٹ دینے کے لئے نکلے۔مگر افسوس کہ جن حالات میں انتخابات کرائے گئے ، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کبھی بھی بین الاقوامی میڈیا نے اس طرح کھل کر انتظامیہ کے کردار پر تنقید نہیں کی،جیسا اس مرتبہ ہوا ہے۔حتیٰ کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید کی پھانسی کے بعد کے اخبارات انٹرنیشنل لائبریریز سے منگوا کر دیکھ لیں۔ریاست کا ایسا چہرہ کبھی نہیں دکھایا گیا۔جو کچھ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہوا ہے۔اس کا احساس تو منتخب حکومت اور اداروں کو آئندہ چند ماہ میں ہوگا۔جب دنیا کے جس ملک میں بھی جائیں گے تو انتخابات کی شفافیت اور انتخابات سے قبل ہونے والے اقدامات پر سوالات کئے جائیں گے۔کسی نے عمران خان کے سیاست میں آنے پر کہا تھا کہ قوم کو اور تو کچھ

نہیں ملا البتہ ہم نے اپنا ایک قومی ہیرو ضرور کھو دیا ہے۔
عام انتخابات کے حتمی اور سرکاری نتائج آنےکے بعدہی کچھ کہاجاسکتاہے۔لاہور میں مسلم لیگ ن کو کوئی بڑا اپ سیٹ نظر نہیں آیا۔مسلم لیگ ن کی مرکز میں70سے زائد سیٹیں باآسانی نظر آرہی ہیں۔پنجاب حکومت بنانے میں بظاہر کوئی مشکل نظر نہیں آرہی مگر کسی نہ کسی سے اتحاد کرنا پڑے گا۔مسلم لیگ ن کا ووٹر پہلی مرتبہ صبح صبح پولنگ اسٹیشن پر پہنچا ۔اسی وجہ سے پولنگ عملے کی سستی کی شکایات بھی سامنے آئیںکیونکہ عام طور پر مسلم لیگ ن کا ووٹر 12بجے کے بعد باہر نکلتا تھا اور انتخابی وقت ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے شکایات سامنے آتی تھیں کہ ووٹر زیادہ ہیںاو ر پولنگ کا عمل انتہائی سست ہے مگر ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ مسلم لیگ ن کا ووٹر پولنگ کے آغاز سے ہی پولنگ اسٹیشن پہنچا ۔لاہورکے کئی علاقوں میں گھومنے کا اتفاق ہو ا ،تحریک انصاف کا ووٹر اس طرح چارج نہیںتھا،جیسا 2013کے انتخابات میں تھا۔حالیہ انتخابات میں تحریک انصاف کی مضبوطی صرف اس کے الیکٹیبلز ہیں۔نظریہ کہیں نظر نہیں آرہا۔لاہور کو فتح کرنے کے لئے تحریک انصاف نے پیسے کا بے دریغ استعمال کیا ہے مگر حالات بتارہے ہیں کہ اس مرتبہ بھی لاہور ناقابل تسخیر ہی رہے گا۔لاہو ر کی 90فیصد سیٹیں مسلم لیگ ن ہی حاصل کرے گی۔
جنوبی پنجاب کی بات کی جائے تو جنوبی پنجاب کا ووٹر بھی بہت چارج تھا۔لوگ جذبے سے ووٹ ڈالنے گئے۔گزشتہ چند ماہ کے دوران مسلم لیگ ن کو جنوبی پنجاب سے شدید ڈینٹ پڑا ہے۔مگر کچھ سیٹوںپر ابھی بھی مسلم لیگ ن کا تسلط برقرار ہے۔امیدکی جا رہی ہے کہ ڈیرہ غازی خان سے شہباز شریف اپنی سیٹ باآسانی نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گےجبکہ اویس لغاری کا مقابلہ بہت سخت رہا۔ خیال ہے کہ آزاد لڑنے والے امجد فاروق کھوسہ تحریک انصاف کے ذوالفقار کھوسہ کو مات دے دیں گے۔جبکہ تونسہ کی ہوا تحریک انصاف کے امیدوار خواجہ شیراز کے حق میں لگی۔راجن پور سے تحریک انصاف کے جعفر لغاری کو کوئی مشکل نظر نہیں آئی،البتہ تحریک انصاف کے سردار نصر اللہ دریشک اور ڈاکٹر حفیظ دریشک میں کانٹے دار مقابلہ ہواہے۔ امید ہے کہ روجھان مزاری سے بھی مزاری صاحبان سیٹ نکال لیں گے۔اس طرح اگر پورے جنوبی پنجاب کی بات کی جائے تو خیال کیا جاتا ہے کہ مسلم لیگ ن یہاں سے 35سے40فیصد تک سیٹیں نکالنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ جبکہ یہاں سے بڑی تعداد آزاد امیدواروں کی کامیاب ہوگی۔انتخابات کے حتمی نتائج جو بھی آئیں۔یہ ایسے انتخابات ہورہے ہیں کہ نتیجہ کچھ بھی ہو مگر ملک میں عدم استحکام اور غیر یقینی کی کیفیت میں اضافے کاخدشہ ہے۔
آنے والی حکومت کے لئے ایک بڑا معاشی بحران تیار کھڑا ہے۔ہم یہ ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ حالیہ انتخابات کے بعد ہر چیز نارمل ہوجائے گی۔میری ذاتی رائے میں حالات مزید پیچیدگی کی طرف جائیں گے۔جیل میں بیٹھے ہوئے نوازشریف ایک لمبی سیاسی جدوجہد کی کال بھی دے سکتے ہیں۔جبکہ مسلم لیگ ن کے جیتنے کی صورت میں ایک کمزور حکومت تمام مسائل سے نہیں نپٹ سکے گی۔عام انتخابات کے بعد آنے والے نتائج سیاسی گہما گہمی میں مزید اضافے کا سبب بنیں گے۔جو کچھ ہم نے چند ماہ میں بویا ہے،اسے کاٹنا بہت کٹھن مرحلہ ہوگا۔ان تمام اقدامات کے ری ایکشن کا سامناآنے والی حکومت کرے گی۔دعاہے کہ جو بھی حتمی نتیجہ سامنے آئے،اس سے پاکستان میں ایک سکون کا ماحول پیدا ہو۔معاشی طور پر سسکیاں لیتا ہوا پاکستان سنبھل جائے۔غیر فطری طریقے سے کئے گئے اقدامات کو زیادہ عرصے تک کنٹرول نہیں کیا جاسکتا اور غیر فطری ایکشنز کا ردعمل بھی غیر فطری ہی ہوتا ہے۔خدا کرے کہ وطن عزیز پر مزید ایسی کوئی آزمائش نہ آئے،جس کی قیمت ہم آئندہ چند سال تک ادا کرتے رہیں۔میری دعا ہے کہ پاکستان میں اداروں کی ساکھ بحال ہوجائے اور ہم ایک مضبوط پاکستان کے لئے مل کر سفر کاآغاز کریں۔
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فضل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں