آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صبح انتخاب کا تسلسل
ہم بے خبری کے عالم میں یہ کالم صبح انتخاب کو لکھ رہے ہیں، آج جو ہوگا وہ موجودہ آج کو آپ کے سامنے ہے، یہ تحریر ایک امید، ایک خیر اور ایک اچھے دور کے آغاز کے ساتھ پیش ہے۔ آج وہ کچھ سامنے ہے جو ہم نے بویا ہے، اب بہتر یہی ہے کہ سب اپنی دعائوں کے اثر پر کلمۂ شکر ادا کریں۔ انتخابات میں کسی کی ہار جیت نہیں ہوتی، یہ قوم کی جیت ہے کہ انتخابات بروقت ہو گئے جو بھی جیتا وہ ہارے ہوئے ہی کا بازو رہے۔ مقصد تو نیا پار لگانا ہے اور اس میں سب کی کوشش ہی اصل جیت ہے، جسے اکثر نے چاہا اسے اب سب چاہیں، کہ بات افراد کی نہیں پاکستان کے آگے بڑھنے کی ہے، جمہوری عمل کی ہما ہمی، رونقیں، دوڑیں، نعرے، جلسے ووٹ ڈالنے سے ایک روز پہلے تھم گئے، دشمن نے اپنی چند ایک کوششیں کیں مگر قوم نے ثابت قدمی دکھائی۔ انتخابات ہو گئے، اب سب مل کر ان کو تسلیم کریں کہ یہ جمہوری مسابقت آپس کی ذاتی لڑائی نہیں، اس لئے کچھ ہار کے جیتے اور کچھ ہارے ہوئے امیدواروں کی جیت بن گئے، سب کی منزل ایک خوشحال پاکستان ہے اس کی جانب ذاتیات سے بالاتر ہو کر آگے بڑھنا ہو گا، اگرٹھہرگئے تو جمہوری فتح کو گزند پہنچے گا، ہم تادم تحریر صبح انتخاب کی روشنی میں بیٹھے یہ سطریں لکھ رہے ہیں، ہمیں اتنا معلوم ہے کہ نتائج ہم سب کی فتح پر مبنی ہوں گے، ہم میں

سے کوئی بھی اس ملک کے بھلے کے لئے حکمران بنے۔ ہم سب ملکی مفاد میں اس کے سپاہی ہیں، سب معاملات کو سلجھانے کی طرف قدم بڑھائیں فضول کی بحثوں مقابلوں اور عناد میں بہت وقت ضائع کیا، ان انتخابات کا انعقاد ہی ہم سب کی فتح ہے اور اس کا تسلسل برقرار رہنا چاہئے۔
٭٭٭٭
حقیقی نیوٹرل
الیکشن میں پہلی بار خواجہ سرائوں کو آبزرور کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں، خواجہ سرا نہایت کامیاب غیر جانبدار آبزرور ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کی تعیناتی ماحول کو نارمل رکھنے میں ممد و معاون ثابت ہو گی۔ نتائج جو بھی ہیں نتائج تو ہیں، اب انہیں خوشدلی سے تسلیم کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔ جمہوریت کا سفر جاری رہنا ہی قوم کی جیت ہے، کیونکہ ہمارے مستقبل سے بہت زیادہ ’’پیار کرنے والے‘‘ اس سفر کو ناکام کرنے کے درپے ہیں، بہرحال خواجہ سرا طبقے کو قومی دھارے میں شامل کرنا ان انتخابات کی پہلی کامیابی ہے، جب ہم نے خواجہ سرائوں کو عضوِ معطل سمجھ کر دیوار سے لگا دیا تو انہوں نے ڈھولکی گھنگرو سنبھال لئے، حالانکہ وہ اتنے ہی کارآمد، طاقتور اور ذہین ہوتے ہیں جتنا کہ غیر خواجہ سرا۔ خواجہ سرا مرد ہوتے ہیں نہ عورت مگر وہ ایک مکمل انسان ہوتے ہیں، اور کسی طرح بھی انسانی صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں ہوتے، اگر ان کو کسی طرح بھی الگ نہ سمجھا جائے اور ان کی تعلیم و تربیت پر بھی برابر توجہ دی جائے تو یہ بہترین شہری ثابت ہو سکتے ہیں، ہمیں ان والدین سے شکوہ ہے کہ آخر وہ کس بنیاد پر اپنے خواجہ سرا بچوں کو گھر سے بے گھر کر دیتے ہیں، اب ظاہر ہے کہ انہوں نے جینے کے لئے کچھ تو کرنا ہے، میڈیا اس موضوع پر بھی آ گہی پیدا کرے اور والدین کو سمجھائے کہ خواجہ سرا کو جنم دینا کوئی شرم کی بات نہیں وہ انہیں اپنی اولاد کیوں نہیں سمجھتے ماں ایک ایسی ہستی ہے کہ وہ اپنے بچے کو چاہے وہ معذور ہو یا غیر معذور برابر کا پیار دیتی ہے مگر خواجہ سرائوں کے حوالے سے کیا ماں کی ممتا بھی معذور ہو جاتی ہے؟
٭٭٭٭
میڈیا کو خراج تحسین
یوں تو میڈیا نے قومی آگہی میں شروع دن سے جب اس کے پاس آج جیسے وسائل نہیں تھے اپنا کلیدی کردار ادا کیا مگر آج میڈیا نے اپنی کارکردگی سے سیاہ رات کوبھی دن بنا دیا اور سیاہ و سفید سب کچھ واضح نظر آنے لگا جرم کے لئے میڈیا نے چھپنے کی کوئی جگہ ہی نہیں چھوڑی، ہماری پست ترین شرح خواندگی کو بھی اتنا باخبر کر دیا کہ کوئی چاہے اپنا نام نہ لکھ سکے مگر اسے پوری دنیا بارے اتنی معلومات ہیں کہ جو گریجوایشن کر کے بھی حاصل نہیں ہو پاتیں۔ آج اگر وطن عزیز میں تعلیم بھی عام ہوتی، بے دام ہوتی تو میڈیا اس سونے پر سہاگے کا کام دیتا، اور نتائج ایک مہذب ترقی یافتہ معاشرے کی صورت ہمارے سامنے ہوتے، ہم توقع رکھتے ہیں کہ نئی منتخب حکومت اس سلسلے میں گزشتہ ادوار کی تلافی کرے گی اور جو کروڑوں بچے اسکول سے باہر ہیں انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کرے گی، آج ہم بہت سی خرابیوں اور دیگر خرافات میں اس لئے بھی ملوث ہیں کہ تعلیم عام کرنے اور ہر کسی کی دسترس میں ہونے پر کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا، کسی کو مالی امداد یا بھیک دینے سے بہتر ہے کہ اسے تعلیم دی جائے، اور اس کے مصائب ریاست اٹھائے جیسا کہ ترقی یافتہ معاشروں میں ایسا نظام رائج ہے ہم نے علم و تعلیم کی ناقدری کی ہے جس کی سزا تمام تر وسائل رکھنے کے باوجود بھگت رہے ہیں۔ چند خانوادوں اور موروثی سیاست کرنے والوں کی پہلی ترجیح یہ رہی کہ تعلیم کو عام نہ کیا جائے، سرکاری اسکول ویران کر دیئے جائیں اور پرائیویٹ سیکٹر میں تعلیم کو اس قدر مہنگا کر دیا جائے کہ غریب کا بچہ تعلیم سے محروم رہے، کیونکہ غریب اور تعلیم سے محروم لوگوں کی دولت ہی لوٹی جا سکتی ہے۔
٭٭٭٭
انتخابی نتائج مبارک ہوں
....Oوسیم اکرم:تبدیلی کےلئے انگلینڈ سے ووٹ ڈالنے آیا ہوں۔
یہ جذبہ لائق تحسین ہے۔
....Oاین اے 60سے الیکشن ملتوی، شیخ رشید کی اپیل پھر مسترد، چیف جسٹس نے ان سے کہا :آپ چاہتے ہیں حنیف عباسی نہ ہو۔
ہائے اس چار گرہ سیاست کی قسمت یارو
جس کی قسمت میں تھا شیخ کا امیدوار ہونا
....O اعتزاز احسن:پنجاب میں پی ٹی آئی کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے۔
آپ ہی کو معلوم ہوگا کہ اس کے پلڑےمیں اتنے ’’وٹے‘‘ کس نے ڈالے؟
....Oچیف جسٹس:ریلوے کو بھاری نقصان ہوا چنے والا کہاں ہے۔
اس نے لوہے کے چنے کچھ زیادہ چبا لئے۔
....Oکسی کا تخت، کسی کا دھڑن تختہ۔
تخت کے زمانے تولد چکے جمہوری دور میں تو تختے پر ہی کرتب دکھانا پڑتے ہیں۔
....O بجلی 50پیسے یونٹ مہنگی۔
بجلی بار بار کرنٹ مارتی ہے، غریب کے بدن میں کاٹو تو لہو نہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں