آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سب سے پہلے آج ہم نئے پاکستان میں نومنتخب وزیراعظم جناب عمران خان کو ان کی شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں یقیناً یہ ان کی پیہم جدوجہد، زمینی حقائق کی مطابقت میں منصوبہ بندی، موقع شناسی، عزم، جوش، ولولے، لگن اور محنت کا ثمر ہے۔ اس کا کریڈٹ بالخصوص نوجوان نسل کے جذبہ جنوں کو جاتا ہے جنہوں نے یہ ٹھان لیا تھا کہ ہم عمران خان کو وزیراعظم بنا کر دم لیں گے۔ دنیا میں اچھے یا برُے کرشمے ہمیشہ اہل عزم و ہمت ہی دکھاتے ہیں جو اپنے مشن کے حصول کی خاطر جان کی بازی لگا دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ’’سچی لگن ہو تو پربت بھی دھول ہے‘‘۔
ن کے بالمقابل جنون کے جو انتخابی نتائج آئے ہیں وہ اس قدر ہوشربا ہیں کہ خود اہل جنون بھی حیران ہیں کیونکہ خود ان کو بھی اتنی بڑی کامیابی کی امید نہیں تھی کوئی بھی سیاسی پنڈت اس نوع کی واضح پیش گوئی کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا کہ ن لیگ سے وفاق چھوڑ پنجاب حکومت بھی ہاتھوں میں پکڑی مچھلی کی طرح اچھل رہی ہوگی۔ ہم اس میں ن لیگ کی اپنی کوتاہیوں پر بھی اظہارِ خیال کریں گے کیونکہ اختلاف رائے ہی جمہوریت کا حسن ہے مگر PTI کے خوش کن لمحات میں درویش قطعاً کسی کا مزا کرکرا نہیں کرنا چاہتا بلکہ انتخابی نتائج آنے کے فوری بعد PTI کے چیئرمین نے براہ راست قوم سے جو فتح مندی

کا خطاب کیا ہے یہ اتنا قابلِ ستائش ہے کہ آج کا کالم اسی پر ہونا چاہیے۔ نئے منتخب ہونے والے وزیراعظم عمران خان نے پانچ بہت خوبصورت باتیں قوم کے گوش گزار کی ہیں۔
سب سے پہلے تو یہ کہ دھاندلی کی شکایات پر تمام حلقے کھلوانے کو تیار ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو انتخابات میں دھاندلی کی مبینہ شکایات کی تحقیقات میں مدد کی جائے گی۔ یعنی وہ چار یا آٹھ حلقوں کو کھولنے کی نہیں تمام قومی و صوبائی حلقوں کو کھولنے کی پیشکش کر رہے ہیں اس پر اگرچہ ن لیگ کی طرف سے یہ آواز آئی ہے کہ ہمیں یہ حق قانون نے دے رکھا ہے آپ ہمد ردی نہ کریں مگر اصولی طور پر یہ پیشکش مثبت طرز عمل ہے اگرچہ دوسری طرف مسئلہ حلقوں سے کہیں آگے تک پہنچا ہوا ہے اور اس میں ن لیگ تنہا نہیں کھڑی ہے پانچ دیگر جماعتیں بھی اسی ڈھب میں چیخ چلا رہی ہیں یہ اتنا حساس ایشو ہے کہ اگر اسے ہوشمندی اور بالغ نظری سے نہ سلجھایا جا سکا تو خدشہ ہے کہ تصوراتی ایجنڈے کی مطابقت میں مسائل حل کرنا یا میعاد پوری کرنا تو ایک طرف کہیں احتجاج اور دھرنے مستقل ہماری تقدیر میں نہ لکھ دیے جائیں۔
اپنی تقریر میں دوسری قابلِ ستائش بات انہوں نے یہ کہی ہے کہ میری حکومت کے کسی بھی اقدام میں انتقام یا انتقامی جذبے کی بوُ نہیں آئے گی۔ میرا مقصد میری ذات سے بڑا ہے۔ یہ پہلی حکومت ہو گی جو کسی سیاسی مخالف کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کرے گی۔ قانون سب کے لیے برابر ہوگا کوئی ہمارا اپنا بھی غلط کرے گا تو قانون اُسے بھی پکڑے گا یہ سنتے ہوئے ہمارے منہ سے نکلا آپ کی آواز مکے اور مدینے۔ اگر منتخب معزز شخصیات کو قانون کی گرفت میں لایا جا سکتا ہے تو کوئی بھی ہو بلا تمیز ہر ادارے سے منسلک لوگوں کو قانون کے شکنجے میں لائے جانے کا اہتمام ہونا چاہیے نیز اپنے سیاسی حریفوں سے متعلق کاروائی کرتے ہوئے خصوصی اہتمام ہونا چاہیے کہ اس میں جذبہ انتقام نہ ہو۔
تیسری بات انہوں نے احتساب کے حوالے سے یہ کہی ہے کہ اس کا آغاز خود مجھ سے اور میری کابینہ کے ممبران سے ہو گا اور یہ اوپر سے نیچے کو جائے گا۔ گڈگورننس اس کے بغیر ممکن نہیں ہے نتیجتاً کرپشن کی وجہ سے سرمایہ کاری یہاں نہیں آرہی بلکہ یہاں کے سرمایہ کار اپنا پیسہ لگانے کے لیے بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ اس اعلان سے ہم جیسے لکھاریوں کو بھی اطمینان محسوس کرنا چاہیے کہ اُن کی مثبت تنقید کو کھلے بندوں نہ صرف قبول کیا جائے گا بلکہ درستی بھی کی جائے گی میڈیا پر لگی مختلف النوع قدغنیں اب فوری ختم ہو جائیں گی۔ قانون کی عملداری میں امیر غریب یا چھوٹے بڑے کا امتیاز یا تضاد روا نہیں رکھا جائے گا۔ کاش ان کے اس اعلان پر اس کی روح کے مطابق عمل بھی ہو سکے۔
عمران خان نے چوتھی بات سادگی کے حوالے سے کی ہے یہ کہ وہ کوئی پروٹوکول نہیں لیں گے محلات میں نہیں رہیں گے۔ تاریخ اسلام بھی ہمیں یہی ازبر کرواتی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ جب حکمرانی پر فائز ہوئے تو انہوں نے اپنی نازو نعمت والی تمام زندگی کو فوری طور پر تج دیا اور درویشانہ زندگی اختیار کر لی حتیٰ کہ ویسا ہی کھاتے تھے اور ویسے ہی بستر پر سوتے تھے جو اُس سلطنت کے عام شہری کو میسر تھا۔ ہمارے قاضی القضا بھی ان دنوں یہی فرماتے پائے جا رہے ہیں کہ ’’میں حضرت عمر ؒ جیسا کوئی حکمران اس قوم کو دے کر جاؤں گا‘‘۔ اس حوالے سے ہم امید کرتے ہیں کہ عمران خان اب اپنی ذاتی زندگی میں بھی اس معیار کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے 300کینال کی بجائے محض ایک دو کینال کے گھر پر اکتفا کریں گے باقی زمین اُن بے گھر غریب ورکروں میں بانٹ دیں گے جنہیں پانچ مرلے کی چھت بھی میسر نہیں۔ اُن کے الفاظ کی خوبصورتی قابل ملاحظہ ہے ’’میرے لیے شرم کی بات ہوگی کہ وزیراعظم ہاؤس میں جا کر رہوں جو ایک بہت بڑا محل ہے‘‘۔ سابقہ حکمران پیسہ اپنے اوپر اور اپنے محلات پر خرچ کرتے تھے بیرونی دوروں پر خرچ کرتے تھے اب ایسے نہیں ہو گا۔ اب وزیراعظم ہاؤس اور تمام گورنر ہاوسز عوام کے لیے استعمال ہو نگے تمام ریسٹ ہاؤسز کا کمرشل استعمال ہوگا۔ قصہ مختصر عمران خان صاحب قوم کو سادگی و کفایت شعاری کا عملی نمونہ بن کر دکھائیں گے اور اپنے تمام ساتھیوں پر بھی یہ سب اصول لاگو کریں گے۔ خدشہ یہ ہے کہ کہیں الٹا بنی گالہ پر وزیراعظم ہائوس کا ڈبل خرچہ شروع نہ ہو جائے۔
پانچویں سب سے خوبصورت بات انہوں نے اپنے ہمسایہ ممالک بالخصوص ہندوستان کے حوالے سے کہی ہے ’’انڈیا بہتر تعلقات کی خاطر ہماری جانب ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم بڑھائیں گے۔ ہم ہر وقت بات چیت کے لیے تیار ہیں مسئلہ کشمیر بھی صرف بات چیت سے حل ہونا چاہیے، پاک بھارت تجارت میں اضافہ ہونا چاہیے، بھارتی میڈیا نے میرے خلاف خواہ مخواہ ایسی مہم چلائی جس سے لگا کہ میں بالی ووڈ کی فلموں کا ولن ہوں حالانکہ میں پاک بھارت تعلقات میں بہتری لانا چاہتا ہوں بالخصوص تجارتی تعلقات بڑھانا چاہتا ہوں‘‘۔ ہماری نظروں میں اگر واقعی وہ یہ سب چاہتے ہیں اور یہ کر گزرتے ہیں تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ عمران خان کی کھل کر وکالت نہ کی جائے اصل مسئلہ ہی خطے میں امن و سلامتی اور تعمیر و ترقی کا ہے ہم ہمیشہ سے یہی کہتے آرہے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ پراکسی بھیجنے یا طاقت کے استعمال سے حل نہیں ہوسکتا صرف اور صرف مذاکرات سے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں اور بہتر تعلقات کے ذریعے ہی پورے خطے سے غربت و افلاس کا خاتمہ ممکن ہے نواز شریف نے بھی جب یہ بات کی تھی تو اُسے مودی کا یار کہہ کر تمسخر اڑایا گیا امیدہے کہ اب نو منتخب وزیراعظم عمران خان کی ہمسایوں کے متعلق پالیسی کو قبول کیا جائے گا۔ انہوں نے افغانستان کے متعلق تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ میں ایسے تعلقات چاہتا ہوں جن میں باہمی سرحدیں بھی کھل جائیں یعنی باڑ لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی اور امید ہے کہ یہ سوچ آگے چل کر پورے سارک ممالک تک پہنچ سکتی ہے۔
درویش یہاں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادیوں پر یقین رکھنے والا کوئی بھی شخص کسی کی ذات کا نہیں اصولوں کا وفادار ہوتا ہے۔ نوازشریف یا اُن کے ساتھیوں کے خلاف دھرا معیار یا انتقامی انصاف ہرگز نہیں ہونا چاہیے جس انصاف یا احتساب کو آپ دیگر تمام شہریوں کے لیے، چاہے وہ کسی بھی ادارے میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں، روا رکھتے ہیں وہی آپ نواز شریف یا دیگر سیاسی مخالفین کے لیے بھی رکھیے بس امتیازی سلوک کا خاتمہ کیجیے۔ امید ہے اب آپ پارلیمنٹ پر کبھی لعنت نہیں بھیجیں گے بلکہ عوامی امنگوں کے ترجمان اس بالادست ادارے کا وقار و تقدس ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے آئینی حوالے سے بالخصوص یہ اہتمام فرمائیں گے کہ دیگر تمام ادارے پارلیمنٹ کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہوجائیں
کیونکہ پارلیمنٹ کی عظمت، بالادستی اور تقدس و احترام ہی دراصل 20کروڑ عوام کی عظمت و ناموس کا مظہر ہے انسانوں سے محبت کرنے والا کوئی بھی جمہوری الذہن شخص اس کے برعکس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس اصول کو اپنی پالیسی بنا کر عمل پیرا ہونگے تو وطنِ عزیز کے تمام لبرل طبقات آپ کے دست و بازو بنیں گے بصورتِ دیگر اصولی تنقیدمیں بھی پس و پیش یا حیل و حجت نہیں کریں گے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں