آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ روز شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں برادرم خواجہ آصف کی شکست خوردہ گفتگو سنی اورمحسوس ہوا کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات کے نتائج کے حوالے سے کوئی واضح موقف نہیں رکھتی۔ اگرچہ میاں شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ ہم ان نتائج کو مسترد کرتے ہیں۔ مجھے یہ بیان بھی ایک رسمی سا لگا۔ حالانکہ شہباز شریف نے پنجاب کی ترقی کے لئے جتنی جان ماری اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے خود پر راتوں کی نیند حرام کردی، اسی طرح اپنے قائد میاں نوازشریف کے جیل جانے کے بعد جس زور شور سے انتخابی مہم چلائی، ایک دن میں تین تین جلسے کئے۔ اس حوالے سے ان کا بیان اس سے کہیں سوا ہونا چاہئے تھا، مگر انہوں نے بھی محض ایک رسمی بیان پر اکتفا کیا، مسلم لیگ یہ رویہ کیوں اختیار کئے ہوئے ہے اور مستقبل میں ان کا کیا لائحہ عمل ہے؟ یہ تو وہی جانتی ہے لیکن مسلم لیگ کا ووٹر بہت مایوس ہے اور اس کی مایوسی کو امید میں بدلنے کے لئے ایک مثبت پلان کی ضرورت ہے اورجب میں مثبت کہتا ہوں تو ظاہر ہے کہ اس میں دھرنوں اور اس طرح کے دوسرے اقدامات کی کوئی گنجائش نہیں جو پاکستان اور اس کی معیشت کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہوں!
یہ سطور لکھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے سوال کرنے کے بجائے اپنے سہیل وڑائچ سے کیوں نہ پوچھا جائے کہ یہ سب کیا ہوا، کیسے ہوا

اور آگے چل کر کیا ہوگا۔ دل میں یہ خیال اس لئے آیا کہ سہیل وڑائچ واحد تجزیہ نگار تھے جنہوں نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ ’’پارٹی از اوور‘‘۔ اور ان کی بات رزلٹ کے حوالے سے بالکل صحیح نکلی، لیکن ان سے ابھی یہ پوچھنا باقی ہے کہ انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے ہیں کیا آپ کے ذہن میں بھی یہی تقریباً یک طرفہ نتائج تھے یا ان میں ’’شاعرانہ مبالغہ آرائی‘‘ نظر آتی ہے؟ ایک سوال یہ بھی پوچھنے کا ہے کہ جب آپ نے ’’دی پارٹی از اوور‘‘ کہا تھا تو اس سے آپ کی مراد ن لیگ کی مکمل شکست تھی یا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست سے ہی مسلم لیگ آئوٹ ہوگئی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو ایک ٹھنڈے مزاج کے شخص ہی سے پوچھے جاسکتے ہیں، تاہم اس ٹھنڈے مزاج کے شخص کا جواب آنے سے پہلے مجھ ایسے گرم مزاج شخص کو بھی ’’حق رائے دہی‘‘ دیا جائے جو سمجھتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اب ایک جماعت نہیں رہی۔ نوازشریف نے اسے ایک نظریہ بنا دیاہے، ترقی پسند، جس کا جمہوریت پسند ہوناضروری ہے، وہ اب مسلم لیگ (ن) اور اس کےقائد کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے نظر آتے اور جبر کے خلاف عملی کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا مزاج ایسا ہے کہ وہ شاید اتنی ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کرسکیں جو اس مسند نشین کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ جو وعدے انہوں نے عوام سے کئے ہیں، وہ پورے ہونا ممکن ہی نہیں ہیں، کروڑوں پاکستانیوں کو ملازمتیں فراہم کرنا، ڈالر کو واپس 64روپے پر لانا، پٹرول کی قیمتوں میں کمی کرنا اور سب سے بڑی بات یہ کہ داخلہ، خارجہ اور دوسری پالیسیاں جمہوری حکومت کا کام ہوتا ہے اور یہ حق جمہوری حکومت کو واپس دلانا ایک کڑے امتحان سے کم نہیں۔ نوازشریف اسی جرم کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ایک بات اس کے علاوہ بھی ہے اور وہ یہ کہ عمران خان نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو ان کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ چنانچہ مجھے یقین ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایک سال کے اندر ان کے خلاف کچھ ایسے محاذ بنیں لگے جو انہی کی طرح کسی انگلی کے اشارے کے منتظر ہوں گے۔ مگر یہ انگلی اٹھے گی بھی نہیں اور وہ کام بھی نہیں کرسکیں گے۔
میں مکمل طور پر ایک غیر سیاسی ذہن رکھتا ہوں چنانچہ میں نے ابھی جو کچھ لکھا ہے میں اسے حتمی نہیں سمجھتا، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ میں نے سہیل وڑائچ سے درخواست کی ہے کہ وہ آنے والے دنوں کی روئداد بیان کریں۔ ان کے ’’دی پارٹی از اوور‘‘ والا کالم لکھنے اور انتخابی نتائج کی حد تک اس ’’پیش گوئی‘‘ کے صحیح نکلنے کی وجہ سے میں انہیں پیر ہی ماننے لگا ہوں۔ کاش موصوف عورت ہوتے اور یوں اس ’’پیرنی‘‘ کے لئے سیاست دانوں کے اتنے رشتے آتے کہ ان کے لئے انتخاب مشکل ہو جاتا۔ ویسے ’’انتخاب‘‘ تو یہ بھی مشکل ہے جس کے نتائج تین دن گزرنے کے بعد بھی ابھی تک آرہے ہیں۔
پبلک کے افادہ کے لئے یہ اطلاع عام دے رہا ہوں کہ میں نے 2018ء کے انتخابات کے بعد سیاست میں آنے کا ارادہ کرلیا ہے اور سوچ رہا ہوں کہ کون سی جماعت جوائن کروں۔ سب سے پہلے ایک مذہبی گھرانے کا فرد ہونے کے ناتے میرے ذہن میں تحریک لبیک جوائن کرنے کا خیال آیا تھا مگر انتخابات میں انہیں جتنے ووٹ ملے ہیں اس سے مجھے لگا کہ ہمارے عوام کے دلوں میں اتنے وسوسوں نے جنم لے لیا ہے کہ وہ عشق رسولؐ کے نعرے کو بھی سیاسی نعرہ سمجھنے لگے ہیں۔ اس کے باوجود تحریک کے امیر علامہ خادم حسین رضوی سے میری عقیدت قائم و دائم ہے کہ میری اور برادرم حسن نثار دونوں کی وکیبلری علامہ صاحب جیسی ہے۔ بہرحال مجھے اس معاملے میں بھی سہیل وڑائچ سے رہنمائی کی ضرورت ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں