آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مجھے جمہوریت کا حسن خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کے غلام احمد بلور کے بیان سے معلوم ہوا۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی شکست تسلیم کی اور کمال جرأت سے انتخابات 2018کو شفاف بھی کہا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے مقابلہ خوب کیا۔ اس دفعہ انتخابات میں عوام کا جوش جذبہ خوب نظر آیا۔ پاکستان کی انتخابی تاریخ میں تحریک انصاف پہلی سیاسی جماعت ہے جو کسی انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا میں دوسری دفعہ بھی اکثریت سے کامیاب نظر آرہی ہے۔ تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں عوام کی خدمت کی ہے اور عوام نے بھی ان کو مایوس نہیں کیا۔
اس دفعہ الیکشن 2018کے بارے میں سابقہ جماعت مسلم لیگ نون نے قبل از وقت ہی اندازہ لگا لیاتھا کہ عوام کا مزاج ان کے لئے اچھا نظر نہیں آ رہا۔ مگر اس کے باوجود مسلم لیگ نون کے صدر مسلسل دعویٰ کرتے رہے کہ پنجاب کے عوام 25جولائی کو ان کی خدمات کا اعتراف ضرور کریں گے مگر ان کو شدید مایوسی کا سامنا ہے۔ اگرچہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں ان کو تقریباً 50فیصد نشستوں کی نوید ہے۔ مگر عوام کا مکمل اعتماد ان کو نہ مل سکا۔ اب جوڑ توڑ کرکے اور دھاندلی کا شور مچا کر عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شہباز شریف نے کوشش تو بہت کی مگر ان کی پالیسی اور نوکر شاہی پر اندھے اعتماد نے ان کو مشکلات سے دوچار کیا۔ انہوںنے

لاہورشہر کی بڑی خدمت کرنے کی کوشش کی اور پورے پنجاب کے ترقیاتی فنڈز کو لاہور میں لگایا۔ مگر افسوس ان کی توجہ کے محور شہر کے خاص علاقے ہی رہےاور جمہوریت کو پنجاب میں شرمندگی سے دو چار کردیا ہے۔ ایسے میں دھاندلی کا شور شرابہ پراثر نظر نہیں آتا۔ ان کے ساتھ مسلم لیگ قائد اعظم سے وابستہ سینیٹر سید مشاہد حسین بڑے سرگرم عمل ہیں۔ مگر افسوس کا مقام ہے وہ ایک زمانہ میں مسلم لیگ نون میں کڑاکے نکالتے تھے پھر انہوں نے نواز شریف سے بغاوت کی۔
اس دفعہ پنجاب میں مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کو حکومت بنانے میں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے اپنے ممبران اسمبلی ان سے خوش نظر نہیں آتے اور وہ اپنے خاندان سے باہر کسی اور کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنانا پسند نہیں کرتے۔ ان کی پارٹی اور وہ خود بھی وزیر اعلیٰ بننے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ جمہوریت کے دعوے دار پارٹی میں کیسا جمہوری مزاج دیکھاتے ہیں۔ اگرچہ مسلم لیگ نون میں جمہوری اقدار کا کبھی بھی احترام نہیں کیاگیا پارٹی کے اندر آمرانہ رویہ اور خاندانی سیاست کا غلبہ نظر آتا ہےجو کہ مسلم لیگ اور اس کے صدر شہباز شریف کے لئے قابل غور ہے۔
اس دفعہ الیکشن کمیشن نے منصوبہ بندی بہت اچھی کی اور انتخابات میں کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مگر عملہ کی تربیت میں کمی ضرور نظر آئی۔ جس کی وجہ سے نتائج کا بروقت اعلان نہ ہوسکا اور نتائج کے لئے جو سوفٹ ویئر تیار کروایا گیا وہ بھی مشکلات کا باعث بنا۔ ویسا سوفٹ ویئر مقامی طور پر تیار ہوسکتا تھا اور عرصہ تک کارآمد رہتا۔ مگر چیئرمین الیکشن کمیشن مقامی ہنرمندوں پر یقین نہیں رکھتے اور نتیجہ یہ کہ ایک معمولی سی غفلت سے الیکشن کو مشکوک قرار دینے والے لوگ اب چیئرمین الیکشن کمیشن کے کردار پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔
2018ء کے منفرد اور عوامی الیکشن کے انعقاد میں سپریم کورٹ آف پاکستان کا کردار نمایاں رہا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کئی بار یہ اعلان کیا کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے اس کے باوجود سیاسی جماعتیں اور لیڈر مسلسل تشکیک کا شکار رہے اور انتخابات سے ایک دن پہلے تک غیر یقینی صورت حال کا سامنا تھا۔ پھر دہشت گردی کی لہر نے پورے ملک میں خوف کی فضا طاری کردی۔ ان انتخابات میں سب سے بڑی قربانی ہمارےبلوچستان کے عوام نے دی۔ اس کے باوجود بلوچستان میں انتخابات میں کوئی بڑی دھاندلی کا الزام سامنے نہیں آیا۔ بلوچستان سے جیتنے والے ممبران قومی اسمبلی آئندہ کے وزیراعظم کے لئے اہم ادا کرسکتے ہیں۔
2018کے انتخابات پر بیرون ملک سب سے زیادہ واویلا ہمارا ہمسایہ اور بڑے جمہوری ملک کا دعویٰ کرنے والا بھارت مچا رہا ہے۔ ان کا میڈیا ہمارے انتخابات سے خوف زدہ نظر آتا ہے۔ ان کو کپتان عمران خان کی واضح جیت کی امید تھی اور اب وہ لوگ جس طریقہ سے انتخابات کی تصویر پیش کر رہے ہیں وہ ان کی دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بھارت میں بھی الیکشن 2019میں ہونے جا رہے ہیں اور بھارتی وزیراعظم مودی کی حیثیت مسلسل مشکوک نظر آ رہی ہے۔ کشمیر میں بھارتی راج بھارتی جمہوریت کی قلعی کھول رہا ہے۔ ادھر پاکستان کشمیر کے معاملہ پر مکمل خاموش ہے۔ یہ صورتحال عالمی تناظر میں قابل فکر ہے۔ ہماری نئی سرکار کو بھارتی حکومت کے اقدامات پر نظر رکھنی ہوگی اور اقوام متحدہ میں کشمیر کے لئے اپنا کردار واضح کرنا ہوگا اور دوست ملکوں ایران، چین اور روس کے ساتھ مثبت مشاورت ضروری ہے۔
لگتا ہے کہ آئندہ کا وزیر اعظم تحریک انصاف سے ہوگا اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے فیصلہ کرنا ہے کہ کون وزیر اعظم بنے گا۔ ان انتخابات میں روحانی معاملات بھی بہت اہم رہے۔ ان میں عمران کے یقین اور وظائف نے عمران خان کی کایا ہی پلٹ دی ہے۔ عمران خان کی خود اعتمادی میں نمایاں ترقی نظر آ رہی ہے۔ عمران خان کا نئے پاکستان کا خواب پورا ہوتا نظر آتا ہے۔ عمران خان نے پاکستان کے مسائل پر خاصا کام کر رکھا ہے اور معاشی مسائل اور بین الاقوامی تعلقات پر بہت سارا ہوم ورک تیار ہے اور اگر عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کو سرکار بنانے کی دعوت دی گئی تو تحریک انصاف کا امتحان شروع ہوگا۔
ان انتخابات پر جو شک اور شبہ کیا جا رہا ہے اس میں بالکل وزن نظر نہیں آتا مگر مقام فکر ہے کہ میڈیا نے انتخابات کے حوالہ سے اپنی کارکردگی اچھی نہیں دکھائی ، اندازے لگانے میں جانبداری کا عنصر نمایاں تھا جو آزاد میڈیا کا تصور نہیں رہتا۔ پھر یہ بھی الزام لگا کہ فوج مداخلت کر رہی ہے۔ اس الزام میں بھی صداقت نظر نہیں آئی ۔ فوج نے مدد کی ہے اور غیر جانبداری سے کی ہے۔ عدلیہ نے ان معاملات پر نظر رکھی اور الیکشن وقت پر ہوسکے۔ اب ایک نئے دور کا آغاز ہے یہ جمہوریت کا انتقام ہارنے والوں کے لئے ہے اور جتنے والے پاکستان کےعوام کو عزت اور وقار دے سکتے ہیںاگر مخالف جمہوریت پر یقین رکھیں۔ یاد رکھیں حضرت موسیٰؑ نے جس راستہ سے دریاپار کیا فرعون اس راستے پر غرق ہوا۔ راستے نہیں راہبر بچاتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں