آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حج کیا ہے؟ آئیے! پہلے حج پر بات کرتے ہیں۔ قدیم تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کا نقطۂ آغاز یہی بیت اللہ کا مقام تھا۔ قدیم معتبر روایات سے پتا چلتا ہے ’’بیت اللہ‘‘ کی پہلی بِنا اور تعمیر باوا آدمؑ کے زمین پر اْتارنے سے کچھ عرصہ پہلے ہوئی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’’بیت اللہ‘‘ کی پہلی تعمیر فرشتوں نے کی۔ اس کے بعد حضرت آدمؑ نے کی۔ باوا آدمؑ بیت اللہ کا طواف کیا کرتے تھے۔ جب حضرت نوحؑ کے زمانے میں طوفانِ نوح آیا تو اس میں ’’بیت اللہ‘‘ کی دیواروں کو بھی نقصان پہنچا۔ حضرت نوحؑ نے اسی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر اْٹھائی۔ لوگ بیت اللہ کا طواف کرتے رہے۔ باوا آدمؑ سے لے کر حضرت نوحؑ تک تمام انبیائے کرامؑ نے بیت اللہ کا طواف کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سفر میں تھے۔ دوران سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرامؓ سے پوچھا: ’’یہ کون سی وادی ہے؟‘‘ صحابہ کرامؓ نے بتایا: ’’یہ فلاں وادی ہے، اس کا نام یہ ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں دیکھ رہا ہوں جیسے حضرت موسٰیؑ اور دیگر انبیائے کرام یہاں سے حج کرنے جارہے ہیں اور وہ تمام لبیک لبیک پکار رہے ہیں۔‘‘ حضرت ابراہیمؑ کو لاکر اسی وادی میں آباد کیا گیا۔ حضرت ابراہیمؑ کو کئی احکامات دیے گئے۔ ایک حکم یہ بھی دیا گیا تھا کہ

’’بیت اللہ‘‘ کی تعمیرنو کریں۔ اسی طرح حضرت ابراہیمؑ کو یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ میرے گھر کو بتوں سے پاک کریں، کیونکہ اس وقت قوم جْرہم اور عمالقہ کے لوگوں نے یہاں کچھ بت رکھے ہوئے تھے جس کی وہ پوجا پاٹ کیا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ کو ایک حکم یہ بھی دیا گیا تھا کہ بیت اللہ کا حج تم پر فرض کیا گیا ہے۔ حج کرنے کے فضائل پربے شمار احادیث وارد ہوئی ہیں۔ اسی طرح حج فرض ہوتے ہوئے نہ کرنے پر سخت ترین وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں۔یہاں پر صرف ایک ایک حدیث لکھی جارہی ہے۔ حج نہ کرنے والے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کے اوپر حج فرض ہوگیا، اْس کو استطاعت حاصل ہے اور پھر وہ حج نہیں کرتا تو چاہے وہ یہودی ہوکر مرے، چاہے وہ نصرانی ہوکر مرے… اللہ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ ‘‘ حج کی فضیلت کے بارے میں کئی حادیث ہیں اْن میں سے ایک یہ ہے: حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں بے حیائی کی باتوں سے اور گناہوں کے کاموں سے بچتا رہا تو وہ حج سے ایسی حالت میں واپس آئے گا گویا اپنی ماں کے پیٹ سے آج برآمد ہوا ہے، یعنی جیسے ابتدائے ولادت میں بچہ بے گناہ اور معصوم ہوتا ہے، یہ بھی ایسا ہی ہوجائے گا۔ حج کے مقبول ہونے کی کئی علامات بتائی جاتی ہیں۔ حج کے مقبول ہونے کی ایک علامت حدیث میں یہ آئی ہے کہ جمرات پر شیطان کو جو کنکریاں ماری جاتی ہیں، اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جن کا حج قبول ہوجاتا ہے، ان کی کنکریاں اْٹھالی جاتی ہیں۔‘‘ جو کنکریاں پڑی رہ جاتی ہیں یہ ان لوگوں کی ہوتی ہیں جن کا حج قبول نہیں ہوتا، اس لیے علما نے لکھا ہے وہاں کی کنکریاں اْٹھاکر رمی نہ کی جائے، کیونکہ یہ ان لوگوں کی کنکریاں ہیں، جن کا حج مقبول نہیں ہوا۔ دوسری علامت یہ ہے کہ حج سے واپس آنے کے بعد حاجی کے اعمال اور اقوال میں بہتری پیدا ہوجائے۔ فرائض، واجبات اور حقوق کی ادائیگی میں جتنا اہتمام پہلے ہوتا تھا، اب اس سے زیادہ ہونے لگے۔ گناہوں سے بچنے کی پہلے جتنی کوشش کی جاتی تھی، اب اس سے زیادہ ہونے لگے۔ اگر کسی کے اندر یہ بات پیدا ہوجائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ حجِ مقبول اور حجِ مبرور کرکے آیا ہے۔ حج کی بہت سی حکمتیں اور مقاصد ہوتے ہیں۔ سب سے اہم مقصد مسلمانوں کی اجتماعیت کا اظہار ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان جو رنگ و نسل میں مختلف ہیں اور اپنے قومی اور علاقائی جذبات بھی مختلف رکھتے ہیں، اس کے باوجود بھی وہ صرف ’’لبیک اللہم لبیک‘‘ کے ترانے کے ذریعے سے ایک ہوجاتے ہیں۔ ایک جیسی عبادت کرتے ہیں اور ایک جیسے مقصد کے لیے ایک دوسرے سے تحمل اور برداشت کا معاملہ کرتے ہیں۔ ایک امام کی اقتدا میں مختلف مسالک کے لوگ عبادات ادا کرتے ہیں اور دنیا کو پیغام دیتے ہیں مسلمانوں کے اندر مکاتب فکر کے اختلاف کے باوجود اتنی وسعت اور گنجائش ہے کہ ہم سب ایک نظر آسکتے ہیں، ہم سب اتحاد کا مظاہرہ کرسکتے ہیں اور ہمارے ہاں تحمل اور برداشت غیرمعمولی طور پر پائی جاتی ہے۔ اسی طرح حج کے موقع پر ایک بائی پروڈکٹ کے طور پرمسلمانوں کی شان و شوکت اور طاقت کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے، کیونکہ مسلمان جو آج کی اس اکیسویں صدی کی سیاسی تقسیم کے تحت چھوٹے چھوٹے ملکوں میں منتشر ہوکر دنیا کی مظلوم ترین قوم بنے ہوئے ہیں۔ ان چھوٹے چھوٹے ممالک کے انفرادی عمل سے طاقت کا وہ اظہار نہیں ہوتا جو کہ ایک مقدس سرزمین پر سب کی جانب سے آئے ہوئے چالیس پچاس لاکھ کے مجمع سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ مسلمانوں کی مذہبی عبادت بھی ہے اور سیاسی قوت کا مظاہرہ بھی اورخوبی یہ کہ انتہائی پْرامن بھی ہے، کیونکہ اس میں ہتھیار تو ہتھیار لباس بھی معمول کا نہیں پہنا جاتا۔ دیوانوں کی شکل بنائی جاتی ہے اور دیوانوں کا لباس پہنا جاتا ہے۔ خوشبو، بال تراشنا، ناخن کاٹنا اور اس جیسے مہذب طرزِ زندگی سے کسی قدر وحشت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہوتا ہے جیسے کوئی دنیاوی عشق میں مبتلا انسان اپنے محبوب کی فکر میں کھانے پینے اور سنوانے سجنے سے غافل ہوجاتا ہے۔ اللہ کی محبت میں اس قسم کی غفلت کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اللہ اس محبت کو قبول کرلیں۔ یہ پْرامن مظاہرہ ہوتا ہے اور اس پْرامن مظاہرہ میں اسلام کی وہ شان و شوکت ظاہر ہوتی ہے جس سے اْس کے دْشمنوں کے دل اپنے علاقوں میں ہی دہل کر رہ جاتے ہیں۔ ایسے موقع پر اللہ کی ہدایات پر عمل کے ذریعے ایک ایسی طاقت کا مظاہرہ ہوجاتا ہے جو بہت سے لوگوں کو اسلام کے بارے میں اپنی تدبیریں کرنے سے باز رکھتے ہیں۔ امت مسلمہ کو اس عبادت کے اجتماعی فوائد سے بھرپور طور پر مستفید ہونا چاہیے۔ حج کی تربیت حاصل کرکے حج کرنا بھی اس عبادت سے متعلق ایک اہم پہلو ہے، کیونکہ حج کی سعادت عام طور پر زندگی میں ایک یا دو دفعہ ہی حاصل ہوتی ہے۔ انسان کو ساری زندگی افسوس رہتا ہے اگر میں اس کو مزید بہتر کرسکتا تو بہت اچھا ہوتا۔ اگر حج حلال مال سے کیا جائے اور سنت کے مطابق کیا جائے تو قبول ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ سب کو رزق حلال کی توفیق دیں اور سب حجاج کا حج قبول فرمائیں، آمین!
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں