آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور میں دبئی جانے کے لئے میں ائیر پورٹ کی حدود میں داخل ہوا تو باہر ہی ایک مہربان دوست مل گئے۔ ان کی مہربانی کا اندازہ مجھے آنے والے چند لمحات میں ہی ہو گیا۔ جب بورڈنگ کارڈ لیتے وقت مجھے بتایا گیا کہ آپ کو LEGSPACEوالی نشست دی جا رہی ہے اور پھروہی دوست میرا ہاتھ تھامے مجھے وی آئی پی لائونج میں لے گئے اور وہاں عملے کو ہدایات دینے کے بعد انہوں نے مجھ سے اجازت چاہی میں نے ان سے الوداعی مصافحہ کیا اور پھر ان کے جانے کے بعد نرم و گداز صوفے میں دھنس گیا۔
اس وقت دوپہر کے بارے بجے تھے دوبئی کے لئے فلائٹ کی روانگی دوبجے دوپہر تھی۔ چنانچہ مجھے یہاں کافی وقت گزارنا تھا ۔ وی آئی پی لائونج کا ماحول ویسا ہی تھا جیسے وی آئی پی خود ہوتے ہیں سوشان و شوکت اور کھوکھلا پن دونوں یہاں نظر آتے تھے۔ قیمتی سازو سامان مگر انسانی حرارت سے محروم یہ ماحول کبھی مجھے پسند نہیں آیا۔ مگر گزشتہ رات کی بے خوابی اور ائیر پورٹ تک پہنچنے کے مراحل نے مجھے کافی تھکا دیا تھا چنانچہ میں نے دوست کی یہ پیشکش خصوصی حالات کے تحت قبول کر لی تھی ۔میرے سامنے والے صوفے پر کوئی بزنس ایگزیکٹو براجمان تھے ان کے روز و شب کا حساب کتاب ان کے چہرے پر لکھا تھا اور اس حساب کے لئے غالباً سر کے بالوں کو قلم کے طور پر استعمال کیا گیا تھا چنانچہ اس لکھت پڑھت

کے دوران یہ قلم پوری طرح گھس چکا تھا۔ اس معزز شخص نے لیپ ٹاپ کھولا ہوا تھا وہ یقیناً اس وقت بھی کوئی حساب کتاب ہی کر رہا تھا کیونکہ جہاز کے فرسٹ کلاس میں سفر کرنے کی منزل تک پہنچنے کے لئے جو راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے وہ سب کا سب حساب کتاب ہی سے ہو کر گزرتا ہے۔ چنانچہ اس کے پیچھے بھی حساب ہوتا ہے اور بیشتر صورتوں میں آگے جا کر بھی حساب ہی دینا پڑتا ہے ۔ پرانی بات ہے۔ یہ وی آئی پی لائونج کا اسموکنگ زون تھا ۔ چنانچہ میں نے سگریٹ سلگایا اور ویٹر کو تندوتیز کافی کا آرڈر دیا ۔ تاکہ نیند سے بوجھل آنکھیں کھل سکیں اور پھر سامنے دھرے اخبارات کے پلندے میں سے ایک ایک کر کے اخبارات پڑھنا شروع کر دئیے۔
اخبارات میں کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ وہی غربت کے ہاتھوں خود کشیاں وہی ڈاکے وہی قتل وہی مختلف معاملوں کے لئے لمبی قطاروں کی تصویریں اور وہی حکومت کا دعویٰ جمہوریت بحال ہو گئی ہے۔ میں نے ان خبروں کی تفصیلات میں جانے کے بجائے اپنے پسندیدہ کالم نگاروں کے کالم ایک ایک کر کے پڑھے اور بالآخر ان سب کے مندرجات سے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ ضروری نہیں کہ ہر بات کا کوئی نتیجہ بھی ہو۔
اخبارات سے فارغ ہو کر میں ٹی وی کی طرف متوجہ ہوا ہر دو منٹ کے بعد کوئی بریکنگ نیوز آتی تھی مگر جس نیوز کا قوم کو انتظار ہے وہ نیوز کہیں نہیں تھی۔ اس دوران ویٹر کافی کے ساتھ کھانے پینے کی بھی کافی چیزیں لایا تھا مگر میں گھر سے ڈٹ کر ناشتہ کر کے نکلا تھا چنانچہ میں نے ایک سیر چشم شخص کی طرح ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔اب میں بور ہونا شروع ہو گیا تھا بلکہ سچی بات یہ ہے کہ اس غیر فطری ماحول سے مجھ پر گھبراہٹ سی طاری ہورہی تھی ۔اس بزنس ایگزیکٹو کااور میرا ایک دوسرے کے لئے ہونا نہ ہونا ایک برابر تھا ۔ میں نے سوچا تھوڑی دیر کے لئے آرام کرتا ہوں میں نے صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں لیکن سفر کی اپنی ایک ٹینشن ہوتی ہے۔ چنانچہ مجھے نیند نہیں آئی۔ جس پر میں نے آنکھیں کھولیں اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تاہم میں نے سوچا مجھے کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہئے ۔ سو میں نے باتھ روم کا رخ کیا ایسی جگہوں کے باتھ رومز بھی اپنی صفائی ستھرائی اور ڈیکوریشن سے ڈرائنگ روم کا حصہ معلوم ہوتے ہیں میں نے وہاں منہ ہاتھ دھویا، کلی کی اور باہر آ گیا باہر پھر وہی کچھ تھا جو میں ابھی چھوڑ کر گیا تھا چنانچہ بیشتر اس کے کہ مجھے اس گھٹن زدہ ماحول میں اختلاج قلب شروع ہو جاتا میں نے اپنا ہینڈ بیگ پکڑا اور وی آئی پی لائونج سے اکانومی لائونج میں آ گیا۔
یہاں دنیا ہی دوسری تھی، وسیع و عریض ہال مسافروں سے لبالب بھرا ہوا تھا وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے ہنس کھیل رہے تھے بچوں نے الگ سے اپنی دنیا بسائی ہوئی تھی وہ کبھی قہقہے لگاتے ہوئے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے اور کبھی ایسکیلیٹر سے اوپر وی آئی پی لائونج کی طرف جاتے اور سیڑھیوں کی طرف سے واپس آتے اس دوران مسافروں کو یہ اطلاع دی گئی کہ پی آئی اے کی فلائٹ ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ ہے چنانچہ اب یہ دو بجے کی بجائے ساڑھے تین بجے روانہ ہو گی اس پر ہال میں افسردگی سی چھا گئی ۔ مگر یہ فضا بس تھوڑی دیر قائم رہی اگلے ہی چند لمحوں میں لوگ اس ’’سانحہ ‘‘ کو بھول کر دوبارہ خوش گپیوں میں مشغول ہو گئے تھے بچے جو پہلے ہی سے اودھم مچا رہے تھے اس اعلان کے بعد بھی اپنے کام میں مشغول رہے۔ کہ ان کی صحت پر اس اطلاع کا کوئی اثر نہیں تھا۔ میں اپنی نشست سے اٹھا جو خاصی تکلیف دہ قسم کی تھی اور ہال کے ایک سرے سے دوسرے سرے کی طرف سفر شروع کر دیا۔ یہاں مسافروں کی زیادہ تعداد محنت کش لوگوں پر مشتمل تھی جو دوحہ اور دبئی وغیرہ میں جا رہے تھے میں بدتہذیبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’’یملا‘‘ سا بن کر ان کے قریب جا کھڑا ہوتا اور ان کی باتیں سنتا۔ ان کی اکثریت اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لئے پردیس کی اذیت برداشت کر رہی تھی مگر اپنی اس قربانی پر انہیں کوئی ملال نہیں تھا وہ خوش تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کر رہے تھے۔ اب تین بجنے کو تھے مگر ابھی تک بورڈنگ شروع نہیں ہوئی تھی۔ میں دوبارہ لوہے کی اس نشست پر آکر بیٹھ گیا ۔ جو قطعاً آرام دہ نہیں تھی۔ اس دوران کچھ مسافر میرے پاس آئے اور مجھے ایک باخبر کالم نگار سمجھتے ہوئے ان حالات حاضرہ پر سوالات کرنے شروع کر دئیے جو گزشتہ ساٹھ برس سے حالات حاضرہ ہی چلے آ رہے ہیں وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے اب کیا ہوگا میں نے انہیں اس کے جواب میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید کے یہ دو اشعار سنائے
تم کہتے ہو سب کچھ ہو گا
میں کہتا ہوں کب کچھ ہوگا
بس اس آس پر عمر گزاری
اب کچھ ہو گا اب کچھ ہوگا
سو میں نے انہیں باقی عمر بھی اسی آس پر گزارنے کی تلقین کی اور اس کے ساتھ ہی ایک اور اعلان سنا۔ دبئی کے لئے پی آئی اے کی پرواز میں مزید تاخیر ہو گئی ہے اب یہ ساڑھے تین کے بجائے پانچ بجے روانہ ہو گی اس اعلان سے میرے حوصلے پست ہونا شروع ہو گئے کیونکہ میں صبح گیارہ بجے ائیر پورٹ کے لئے روانہ ہو ا تھا چنانچہ میں نے کسی ظالم شخص کے دل ایسی سخت نشست پر پہلو بدلنا شروع کر دئیے۔ میں جن عوام کی چاہت میں وی آئی پی لائونج چھوڑ کر ان کے درمیان آیا تھا اور جس ماحول کا دلدادہ تھا مجھے یہ دونوں کھلنے لگے تھے۔ تھکاوٹ میرے رگ وپے میں سما چکی تھی چنانچہ اب مجھے بچوں کی چہکاریں لوگوں کی زندگی سے بھرپور رویے اور اکانومی لائونج کی چہل پہل کچھ اتنی اچھی نہیں لگ رہی تھی۔
مجھے وی آئی پی لائونج یاد آنا شروع ہو گیاتھا اس کے نرم و گداز صوفے اس کی تزئین و آرائش اس کے عملے کی آئو بھگت سو میں نے دوبارہ اپنا ہینڈ بیگ ہاتھوں میں اٹھایا اور ایسکیلیٹر کے ذریعے اوپر کے فلور پر آ گیا میں نے وہاں نیچے کی طرف جھانکا جہاں عوام کا جمعہ بازار لگا ہوا تھا اور جو اس فلائٹ کے انتظار میں لوہے کی کرسیوں پر اکڑوں بیٹھے تھے جس نے انہیں ان کی منزل پر پہنچانا تھا اور پھر میں وی آئی پی لائونج میں داخل ہو گیا جہاں سہولت کا ہر سامان موجود تھا عوام کا ساتھ بس اتنا ہی دیا جاتا ہے جتنا میں نے دیا تھا !
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں