آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میاں محمد نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو جیل میں گئے ہوئے آج16دن ہو چکے ہیں۔ جیل جانے کے بعد بڑے میاں صاحب کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی ۔پمز کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے معائنہ کیا۔ کسی نے کہا کہ اسپتال میں شفٹ کردو، کسی نے کہا کہ یہاں رہ کر علاج ہو سکتا ہے۔ البتہ آج کل جیل میں گرمی بہت ہے انہیں اے سی فراہم کردیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے اور جیل کی شکل کسی دشمن کو بھی نہ دکھائے۔ خصوصاً پاکستانی جیلیں، جہاں سہولت تو دور کی بات دنیا کاکم سے کم معیار بھی نہیںہوتا۔ کاش بڑے میاں صاحب اور چھوٹے میاں صاحب غیرملکی دوروں کی بجائے کسی جیل کا بھی کبھی اچانک دورہ کرلیتے تو آج جیلوں کی صورت حال بہتر ہوتی۔ آصف زرداری جو ہر وقت یہ فرماتے رہتے ہیں کہ میں نے آٹھ برس جیل کاٹی۔ تو عرض یہ ہے کہ اگر کسی نے نیلسن منڈیلا، مولانا حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، احمد سعید کرمانی، آغا شورش کاشمیری اور حبیب جالب کی طرح جیل کاٹی ہو تو بات ہے۔ ہمارے کئی لیڈروں خصوصاً ن لیگ کے رہنمائوں کو نیلسن منڈیلا اور حبیب جالب بننے کا بہت شوق ہے۔ چھوٹے میاں صاحب تو اٹھتے، بیٹھتے حبیب جالب کے وہ مشہور اشعار ’’ میں نہیں مانتا، ظلم کے ضابطے‘‘ پڑھتے رہے ہیں ۔تیس سال پنجاب میں

حکمرانی کرنے کے دوران انہوں نےکئی مرتبہ حبیب جالب کے یہ اشعار پڑھے۔ سوال یہ ہے کہ آپ خود ہی حکمراں، خود ہی حکومت، خود ہی حکم دینے والے اور ظلم کے ضابطوں کے خلاف آوازبھی خود ہی بلند کرتے رہے، یہ بات ہماری سمجھ سے باہر رہی۔بڑے میاں صاحب نیلسن منڈیلا کی شخصیت سے متاثر اور ان جیسا لیڈر بننے کی خواہش جبکہ مختلف ممالک میں اربوں، کھربوں روپے کی جائیدادیں رکھتے ہیں۔ کیا نیلسن منڈیلا نے کسی غیرملک میں کاروبار کیا؟ کیا باہر کے ممالک میںجائیدادیں بنائیں؟ جبکہ نیلسن منڈیلا نے 27برس قید کاٹی، ہر ظلم سہا۔ آغا شورش کاشمیری کی ایک لازوال تحریر ہے۔
’’ہمارے لیڈر بنتے ہیں دولت کی فراوانی سے، سرکاری خوشنودی سے، وزارت کے راستے سے، کرسی کے فضل سے، غنڈوں کی رفاقت سے، اخباروں کی پبلسٹی سے، ورکنگ جرنلسٹوں کے قلم سے، حکام کی چاپلوسی سے جبکہ دوسرے ملکوں میں لیڈر بنتے ہیں نفس کی قربانی سے، ایثار سے، جان کے زیاں سے، خدمت کی راہ سے، علم کے کمال سے، نگاہ کی بصیرت سے، عوام کی رفاقت سے، عقائد کی پختگی سے ، اصولوں کی پیروی، نصب العین کی محبت اور قیدخانوں کی ضرب سے۔‘‘
کیا وہ لیڈر جو آج زوال پذیر ہو چکے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی خوبی موجود تھی؟۔ ہمارے بعض لیڈروں کو جیل جانے کا بہت شوق ہے۔ اب نام کیالینا؟ مگر جیل میں بھی وہ اپنے گھروں کی طرح رہتے ہیں، برینڈیڈ کپڑے اور پرس لے کر۔لاکھوں روپے کے کپڑے پہن کر بھی کبھی کوئی جیل گیا ہے؟
عزیز قارئین!مولانا حسرت موہانی کو جب انگریزوں نے جیل کی سزا دی تو یہ حکم ہوا کہ روزانہ ایک من گندم چکی پر پیسیں گے۔ آج ہمارے کسی سیاستدان کو کمرہ عدالت میں یہ سزا سنا دی جائے تو وہ وہیںپر فوت ہو جائےگا۔مولانا حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خان، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، سید احمد سعید کرمانی، عطاء اللہ شاہ بخاری، ملک غلام نبی اور میاں محمود علی قصوری نے اپنے مفادات کے لئے جیلیں نہیں کاٹی تھیں بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کے لئے ان کے پاس لندن میں فلیٹس اور جائیدادیں نہیں تھیں وہ بے چارے تو فاقہ کشی کا شکار تھے۔ وہ کس کی جنگ لڑ رہے تھے؟ تاریخ میں ان کے نام آج بھی زندہ ہیں کیوں نا ہوں؟ صرف اس وجہ سے کہ وہ قومی ہیرو اور لیڈر تھے۔ کیا وہ انگریزوں سے سودے بازی نہیں کرسکتے تھے؟ آج جو لیڈربھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں ان کو کچھ شرم آنی چاہئے۔ 80ہزار عورتوں کو سکھ 1947میں اٹھا کرلے گئے تھے جن کا آج تک پتہ نہیں چل سکا۔ پاکستان نےیو این او میں اس حوالےسے اپنی شکایت بھی درج کرائی تھی۔ بڑے میاں صاحب اگر آپ اس ملک و قومسے مخلص ہوتے تو یقین کریں اس قوم کا بچہ بچہ آپ پر جان نثار کرتا۔ آپ کے وہ نعرے باز جاں نثار کہاں ہیں؟ جو بات بات پر نعرہ لگایا کرتےتھے ’’میاں تیرے جانثار، بے شمار بے شمار‘‘۔
مولانا ابوالکلام آزاد تحریر کرتے ہیں کہ جب انہیں جیل ہوئی تو انہیں چکی میں بند کردیا گیا ۔ چکی میں انسان صرف کھڑا رہتا ہے یابیٹھ سکتا ہے، لیٹ نہیں سکتا۔ ہم یہ انگریزوں کے دور کی بات کر رہے ہیں آج کل کاپتہ نہیں کہ چکی کس طرح کی ہوتی ہے۔ مولانا تحریر کرتے ہیں کہ ’’ایک چڑیا اکثر ان کے کندھے پر آکر بیٹھ جاتی تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ یہ کوئی پتھر ہے اور بڑی دیر تک وہ بیٹھی رہتی تھی۔‘‘ اسی حوالے سے تو آغا شورش کاشمیری نے ایک مرتبہ تحریر کیا تھا۔’’اپنی مرضی کے ختم ہونے کا نام قید ہے۔‘‘ یہ قید نہیں کہ گھر سے بہترین کھانے بھی آئیں، لوگ رات کے اندھیرے میں جیل سے چلے جائیں، اے سی بھی لگے ہوئے ہیں اور پھر عوام سے کہا جائے کہ کوئی تمہارے حقوق کی جنگ لڑنے آیا ہے۔ یہ منطق سمجھ میں نہیں آئی۔ آغا شورش کاشمیری نے بارہ سال جیل کاٹی ہے اور کئی کئی دن کی بھوک ہڑتال بھی کی ہے۔ انگریز تو مسلمانوں کو جب جیل بھیجتے تھے تو ان کے منہ پر گندگی بھی باندھ دیا کرتےتھے۔ وطن کی خاطر تو لوگ جان دیا کرتے ہیں، آپ نے فیس بک پر سپاہی مقبول حسین کے بارے میں پڑھا ہوگا کہ وطن کی خاطر زبان کٹوا دی، ہندوئوں کی جیل میں رہا مگر زبان نہ کھولی۔ ریسٹ ہائوسز میں جیل نہیں ہوتی، یا گھروں میں نظربندی جیل نہیں ہوتی۔ آصف زرداری نے جس شاہانہ انداز میں جیل کاٹی ہے اس کا ہر ایک کو علم ہے۔ صد افسوس نیلسن منڈیلا 27برس تک جیل میں رہا اور اپنی قوم اور ملک کے حقوق کی جنگ لڑتا رہا، مگر ذرا پیچھے نہیں ہٹا، کہیں لرزش نہ آئی، جیل میں کوئی سہولت نہ مانگی۔ آج بڑے میاں صاحب اور مریم نواز جیل میں ہیں، کیا ان کی جنگ پاکستانی قوم کے مسائل کو حل کرنے کی تھی؟ کیا پاکستانی قوم کی آزادی کو کسی نے سلب کر رکھا تھا؟ کیا وہ کشمیر کی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے؟ اس طرح کے بہت سارے سوال ہیں جن کا مسلم لیگ (ن)، بڑے میاں صاحب اور چھوٹے میاں کے پاس کوئی جواب نہیں؟
تحریک انصاف کے چیئرمین نے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کےبعد اپنی پہلی پریس کانفرنس کی۔ اس پریس کانفرنس کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ انہوں نے قومی زبان یعنی اردو میں بات کی۔ الیکشن بڑے پرسکون اورشفاف انداز میں ہوئے جس کے لئے فوج اور الیکشن کمیشن لائق تحسین ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں جب مسلم لیگ (ن) نے کامیابی حاصل کی تھی اور دیگر جماعتوں نے الیکشن پر تحفظات کا اظہار کیا تھا تو مسلم لیگ (ن) نے سب کے اعتراض مسترد کر دئیے تھے۔ آج اگر تحریک انصاف نے برتری حاصل کی ہے تو (ن) لیگ کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ ایک سابق وفاقی وزیر ہر مرتبہ الیکشن میں دوبارہ گنتی کا شور مچا دیتے ہیں حالانکہ زندگی میں جو لوگ شکست کو دل سے قبول کرتےہیں وہ اسپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
عمران خان نے وزیر اعظم ہائوس اور گورنر ہائوسز کو تعلیمی مقاصد کے استعمال کے لئے قوم سے وعدہ کیا ہے۔ اللہ کرے یہ وعدہ پورا ہو۔ ویسے ہمارا مشورہ ہے کہ وزیر اعظم ہائوس کو جدید ترین اسپتال میں تبدیل کردینا چاہئے جہاں غریب اور امیر دونوں کا علاج دنیا کی بہترین طبی سہولتوں کے ساتھ ہو۔ گورنر ہائوسز کو پلاٹ مافیا سے بچایا جائے اور یہاں معیاری کالج کی طرز کے تعلیمی ادارے بنائے جائیں جہاں غریب کا بچہ بھی تعلیم حاصل کر سکے۔ اس قوم کو اورنج ٹرین اور میٹرو بس کی ضرورت نہیں بلکہ پینے کے لئے صاف پانی، بہترین علاج گاہیں اور معیاری تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے۔ آخر میں اتنی بات ضرور کہیں گے کہ جولوگ بھارت کی طرف نظریں لگائے بیٹھے ہیں ان کو تھوڑی سی شرم آنی چاہئے۔ آخر بھارت کو کیا تکلیف ہے کہ وہ ہمارے انتخابات پر زہر افشانی کر رہا ہے، سوچنے والے بات ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں