آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سیاست جو کہتی ہے سو تو کہتی ہے اور جو نہیں کہتی سو بھی کہتی ہے۔ برصغیر میں کیا کچھ ہورہا ہے یا ہوتا رہا ہے اس کی ایک جھلک دکھانے کے لئے آپ کو سرحد پار لئے چلتا ہوں۔
جے پرکاش نرائن اپنے علم اور صلاحیت کے اعتبار سے بھارت کے چوٹی کے لیڈروں میں سے تھے۔ اُن کو عام طور پر مخلص اور سنجیدہ انسان سمجھا جاتا تھا اور ہر طبقہ کے لوگ ان کا احترام کرتے تھے پٹنہ میں ان کی رہائش تھی کہتے ہیں ان کے مکان کے سونے کے کمرے میں دیوار پر یہ شعر لگا ہوا تھا:
مالک تیری رضا رہے اور تو ہی تو رہے
باقی نہ میں رہوں نہ میری آرزو رہے
وہ اپنے دل میں سماجی اصلاح کا جذبہ رکھتے تھے اور اپنے الفاظ میں ”مکمل انقلاب“کے عَلم بردار تھے۔ انہوں نے سمجھا کہ بھارت کے لوگ ان کا مطلوبہ مکمل انقلاب لانے کے لئے بے قرار ہیں، صرف اندرا گاندھی کی حکومت راستے کی رکاوٹ ہے،اندرا حکومت ختم ہوجائے تو اس کے بعد مطلوبہ سماجی نظام نہایت آسانی سے قائم ہوجائے گا۔ ان کواپنے اس اندازہ پر اتنا یقین تھا کہ وہ اس اعلیٰ مقصد کے حصول کی خاطر فوج اور پولیس کو بغاوت پر ابھارنے کو بھی جائز سمجھتے لگے۔ اندرا گاندھی کی بعض غلطیوں نے ان کو موقع فراہم کیا اور وہ 1977ء میں اس حکومت کو ختم کرنے میں شاندار طور پر کامیاب ہوگئے، تاہم اس ”کامیابی“ کے معنی صرف یہ تھے کہ اقتدار

اندرا کی ہاتھوں سے نکل کر مرار جی ڈیسائی کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ جیسے پاکستان کی 19 سیاسی پارٹیوں کے ہاتھ میں آنے کے بجائے فوج کے ہاتھ میں چلاجاتا ہے۔ جے پرکاش نرائن کے لئے مطلوبہ سماجی نظام کا قیام پھر بھی خیالی امید ہی بنارہا۔ اقتدار کی تبدیلی کے بعد اگرچہ ذاتی طور پر جے پرکاش کا مقام اتنا بلند ہوا کہ ان کو کئی خطابوں سے نوازہ گیا، تاہم اپنی تمام ترکامیابی کے باوجود اکتوبر 1979ء کو وہ دنیا سے اس احساس کے ساتھ چلے گئے کہ ان کا ”مکمل انقلاب“ اپنی تمام تر دھوم کے باوجود جزئی انقلاب بھی نہ بن سکا۔ مزید یہ کہ جنتا پارٹی بہت جلد پھوٹ پڑگئی اور صرف 28ماہ بعد جنتا حکومت ٹوٹ گئی اپنی محبوب جنتا پارتی کا یہ انجام جب ان کے علم میں آیا تو کہتے ہیں ان کی زبان سے نکلا ”باغ اجڑ گیا“۔ آخر آخر میں وہ اتنے دل شکستہ ہوگئے تھے کہ موت سے ایک دن پہلے ایک دوست نے ان کی خریت پوچھی تو انہوں نے کہا ”میں کس طرح جی رہا ہوں بس موت کا انتظار کررہا ہوں“۔ جے پرکاش نرائن کا یہ واقعہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ وہ عبرت کا آئینہ ہے جس میں آپ اسی قسم کی بہت سی تصویریں بھی دیکھ سکتے ہیں، ایک مصلح جب ”ظالم حکومت“ کو ہٹانے کا نعرہ لگاتے ہوئے زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو مشترک دشمن کا جذبہ بہت سے مختلف الخیال اور بھانت بھانت کے عناصر کو اکٹھا کردیتا ہے اس طرح کوئی بھی جماعت یا پارٹی اقلیت میں ہونے کے باوجود متحدہ محاذ میں شامل ہوکر اکثریت حاصل کرلیتی ہے۔ مگرجب، ”ظالم حکومت“ ہٹ جاتی تو سب کا مفاد الگ الگ ہوجاتاہے اور مصلح اگر طاقتور ہو تو وہ متحدہ محاذ کو گھاس نہیں ڈالتا اور لوگ ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں۔ اب مصلح چونکہ مسلح بھی ہے اس لئے بلا شرکت غیرے اُسے حکومت کرنے کا حق حاصل ہوجاتا ہے اور اگر وہ سیاسی جماعت ہے تو اکیلی ہو کر دوبارہ اسی اقلیت کے مقام پر چلی جاتی ہے جہاں وہ متحدہ محاذ بننے سے پہلے تھی، یہی وجہ ہے کہ وہ ”ظالم“ کو ہٹاکر بھی عادل کو اقتدار کی گدی پر بٹھا نہیں پاتی۔ جے پرکاش نرائن اور ان کی قسم کے دوسرے مصلح او رمسلح افراد کی شاندار کامیابی کے بعد عبرتناک ناکامی کا سبب یہی ہے۔ سوئی کے کارخانے میں لوہے کے ایک ٹکڑے کو تقریباً 20 مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے تب وہ سوئی بن کر تیار ہوتی ہے جس کو ایک آدمی سلائی کے کام میں استعمال کرتا ہے۔ اب اگر ایک جلدباز آدمی ہتھوڑے کی پہلی ہی ضرب سے سوئی بنانا چاہے تو مطلوبہ سوئی تو نہ بنے گی البتہ لوہے کا ٹکڑا ٹوٹ پھوٹ کر بے کار ہوجائے گا ایسا ہی کچھ معاملہ ملک عزیز میں تعمیر ملک و قوم کی کوششوں کا ہوا ہے آدھی صدی سے بھی زیادہ مدت کے پُرشور ہنگاموں کے باوجود آج بھی ہمارا قافلہ اسی مقام پر ہے جہاں وہ آدھی صدی پہلے تھا بلکہ شاید کچھ اور پیچھے۔ اس کی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے مصلح یا مسلح لیڈر پہلی ہی ضرب میں ایک عمدہ چمکدار سوئی تیار کرلینا چاہتے ہیں۔ وہ ”20 مرحلوں“ کے صبر آزما دور سے گزرنا نہیں چاہتے۔ انیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں برصغیر کے مسلمانوں نے دیکھا کہ مغربی قوم جو ہندوستان پر قابض ہوگئی ہے سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ انہوں نے سوچا کہ لڑبھڑ کر لو تو اس کے بعد اسلام کی عظمت کا دور دوبارہ شروع ہوجائے گا اور اچھے دن آجائیں گے بے شمار جانی و مالی نقصان کے بعد یہ مہم کامیاب ہوگئی مگر اسلام اور مسلمان جس مغلوبیت کی حالت میں پہلے تھے وہی اب بھی باقی ہے۔ پاکستان میں جس جدید دنیا کو پیدا کرنے کے لئے علمی و عملی تیاریوں کی ضرورت تھی اس کے لئے ہمارے لیڈروں نے کچھ نہیں کیا۔ پاکستان میں مذہبی اور سیاسی پارٹیوں کے قائدین نے دیکھا کہ جو مسلم شخصیت یا پارٹی ملک پر حکومت کررہی ہے اس کے زیر حکومت بہت سی ”غیر اسلامی“ چیزیں رائج ہورہی ہیں انہوں نے سمجھا کہ بس اس شخص کو اتار پھینکو یا مار ڈالو یا اس کی جماعت کو اقتدار کی گدی سے نیچے کھینچ لو تو اس کے بعد ہرطرف نظام اسلام اور نظام مصطفی کی ہوائیں چلنے لگیں گی۔ مختلف اندرونی و بیرونی عناصر کے اشتراک سے یہ مہم کامیاب ہوگئی سب سے بڑے ”مخالف اسلام“ کو ختم کردیا گیا مگر اس کے بعد جو دوسرا یا تیسرا نظام آیا وہ بھی پہلے ہی کی طرح ”غیر اسلامی“ تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ حکومت کو چلانے والے افراد ہمیشہ اپنے معاشرے اور سماج سے نکل کر آتے ہیں نہ کہ آسمان سے۔ اور جس سماج اور معاشرہ بڑی طرح بگڑا ہوا ہو تو محض کسی فرد یا کسی سیاسی پارٹی کے بدلنے سے نظام نہیں بدل سکتا:
ہر مصیبت میں جسے میں باخبر کرتا رہا
میری ہر اک بات کو وہ بے اثر کرتا رہا

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں