آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکشن کی گرما گرمی میں ہر اُمیدوارکو اپنی کامیابی پر یقین ہوتا ہے لیکن جب مقابلہ ہوتا ہے تو ایک ہی جیتتا ہے اور باقی ایک یا زیادہ اُمیدوار شکست کا شکار ہوجاتے ہیں۔ الیکشن اور کرکٹ غیریقینی کھیل ہوتے ہیں آپ کو شاید یاد ہو کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ میں الیکشن ہوئے تو تمام اخبارات نے پیشین گوئی کردی تھی Dewey (غالباً یہی نام تھا) لیکن مخالف امیدوار ہیری ٹرومین کامیاب رہے تھے۔ ایک اخبار نے تو اپر ہیڈلائن لگا دی تھی کہ ڈیوی جیت گئے۔ ابھی پچھلے الیکشن میں پورا میڈیا اور مبصرین اس بات پر متفق تھے کہ ہیلری کلنٹن بڑی مارجن سے شکست دے دینگی۔ جس دن ری پبلکین پارٹی نے ٹرمپ کو صدارت کیلئے منتخب کیا تھا میں نے اپنے دوستو ں سے کہہ دیا تھا کہ ٹرمپ جیتے گا۔ لوگ یقین نہ کرتے تھے مگر نتیجہ وہی نکلا۔ میں امریکی نفسیات سے کسی حد تک واقف ہوں یقین کیجئے کہ اگر لاہور میں بے گناہ نوجوانوں کا قاتل ریمنڈ ڈیوس وہاں کسی اسٹیٹ سے گورنری کیلئے کھڑا ہوجائے تو اسکی کامیابی کے روشن مواقع ہیں۔ ہمارے ہاں الیکشن کے نتائج بھی یقیناً غیرمتوقع ہیں چند لوگوں کی سیاسی زندگی کا خاتمہ ہوگیا اور پھر رگنگ اور بے ایمانی کے الزامات لگنا شروع ہوگئے۔ صرف ایک بات نظر آرہی تھی کہ اس الیکشن میں کسی پارٹی کو مکمل اکثریت نہیں ملے گی کہ وہ حکومت

بنا سکے، زرداری صاحب نے تو پہلےہی ان خیالات کااظہار کیا تھا۔ آئیے اب چند دلچسپ کتب پر تبصرہ کرتے ہیں۔
(1)پہلی کتاب ’’احوال آخرت ‘‘ ہے۔ اسکے مصنف جناب محمد تصدق حسین صاحب ہیں جو جامعہ المرکز الاسلامی لاہور کے سرگرم کارکن ہیں آپ کئی کتب کے مصنف ہیں اور اس سے پیشتر میں نے ان کی نہایت معلوماتی کتاب’’ توہین رسالت کا علمی و تاریخی جائزہ‘‘پر تبصرہ کیا تھا۔ موجودہ کتاب ’’احوال آخرت‘‘ بہت دلچسپ اورمعلوماتی کتاب ہے اس میں آپ نے موت، بیماری و عیادت، وصیت، نماز جنازہ، قبر، عذاب قبر، قیامت، جنگ، دوزخ کے بارے میں گہری تحقیق کرکے اہم معلومات مہیا کی ہیں۔ اس کتاب کو بھی پچھلی کتابوں کی طرح انکے اپنے ادارے نے شائع کیا ہے جو لاہور کینٹ میں واقع ہے۔ اللہ پاک تصدق حسین صاحب کو اس اہم دینی خدمت کا اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔
(2)دوسری کتاب ’’طب نبوی صلی اللہ و علیہ وسلم ‘ ہے اس کی مصنفہ ڈاکٹر غزالی علیم ہیں اور اسکو شعور صحت کونسل کراچی نے شائع کی ہے۔ آپ پہلے ہمدرد یونیورسٹی میں ’طب مشرقی و مغربی ‘ رسالہ کی ایڈیٹر تھیں اور وہاں اسی موضوع پر درس و تدریس کا کام بھی کرتی تھیں آجکل نذیر حسین یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ دیکھئے طب نبویؐ سے تقریباً تمام مسلم دنیا واقف ہے یہ علم تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پرانا ہے اور آج بھی اس کی بہت اہمیت ہے اور لوگ ’’انگریزی‘‘ دوائوں پر اس علاج کو ترجیح دیتے ہیں۔ دیکھئے ’’انگریزی‘‘ دوائوں کیساتھ یہ مسئلہ ہے کہ اگر آپ مثلاً گُردے کےعلاج کی دوا لیتے ہیں تو اسکی ہدایت کے پرچہ پر لکھا ہوتا ہے کہ اس کا جگر پر نقصان دہ اثر ہوسکتا ہے یعنی آپ ایک چیز کا علاج کرکے دوسری بیماری پالتے ہیں۔ اس وجہ سے ’’پرانے زمانہ‘‘ کے لوگ حکیمی، یونانی اور طبّ نبویؐ کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔محترمہ پروفیسر ڈاکٹر غزالہ علیم نے بے حد جدّوجہد اور گہری تحقیق سے یہ انمول کتاب تحریر کی ہے ۔ اللہ پاک ان کو جزائے خیر دے اور ان کے علم میں زیادہ وسعت دے۔ آمین۔
(3)تیسری دلچسپ اور مفید شاعری کی دو کتب ’’کبھی دیکھ پلٹ کر‘‘ اور میرا ’’محرم راز‘‘ محترمہ ثوبیہ خان نیازی کی لکھی ہوئی ہیں۔میرے دوست ڈاکٹر اجمل خان نیازی کے توسط سے ان سے رابطہ ہوا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہیرا تو تھیں مگر ڈاکٹر صاحب نے اس کو تراش کر بے بہا بنا دیا ہے۔ آپ کی کتابوں پر جناب ضیاء شاہد، جناب ڈاکٹر اجمل خان نیازی، علامہ عبدالستار عاضِم، خالد شریف صاحب اور میرے پیارے دوست اور مشہور کتاب مضامین قرآن کے مصنف جناب سعید الظفر صدیقی کے قیمتی تبصرے موجود ہیں۔ قطعہ ملاحظہ فرمائیں۔
اس ہجر کے آشوب کا درماں نہیں کرتے
اِک ترے سوا کوئی بھی ارماں نہیں کرتے
جو جس کے مقدر میں ہے ملتا ہے اُسی کو
اس ذات سے شکوہ دل ناداں نہیں کرتے
غم ہو تو بسا لیتے ہیں بس دل میں اُسے ہم
اے نور اسے درد کا عنواں نہیں کرتے
ثوبیہ خان نیازی تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ ڈبل ایم اے (اردو، اسلامیات) ہیں اورشکرگڑھ کے اسلامیہ کالج میں لیکچرار ہیں۔ تعلیم دینے کیساتھ ساتھ مزید تعلیم جاری رکھیں ڈاکٹریٹ کرلیں تو وسیع میدا ن سامنے آجائے گا اور قارئین کا حلقہ طویل ہوجائیگا۔ انکو داغؔ کی زبان میں یہ دُعا دیتا ہوں۔
خط ان کا بہت خوب تحریر بھی اچھی
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
(4)چوتھی نہایت مفید، اہم، معلومات سے پُر کتاب ’’مُسلم حکومتیں ۔ کیسی بلندی، کیسی پستی‘‘ ہے اس کو جناب رضی الدین سیّد نے بہت تحقیق اور مشقت سے تحریر کی ہے، اس کو جناح تھنکرز فورم کراچی نے شائع کیا ہے۔ جناب رضی الدین سید نے ان تمام کتابوں کے نام بمعہ پبلشرز دیئے ہیں جن سے انھوں نے استفادہ کیا ہے اور خاص طور پر What went wrong مصنف برنارڈ لیوس اور History of the fall and decline of Roman Empire مصنف ایڈورڈ گبن، History of the Arabs مصنف فلپ کے ہِٹّی، Rise and Fall of great Powers مصنف پال کینیڈی اور ایک اور کتاب شامل کرلیں جس کا نام اس میں نہیں ہے وہ یہ ہے Why Nations Fail - The origin of Power, Prosperity & Poverty مصنفین کے نام Acemoglu & Robinson ہیں ۔ آپ کو تمام حکومتوں کے زوال کے پیچھے نااہل حکمراں اور ان کے پسندیدہ نااہل، کرپٹ مشیر ملیں گے۔ حکمراں چاپلوسی، خوشامد پسند کرتے ہیںاور مشیر ایک دوسرے سے بازی لیجانے میں دوڑ لگاتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے مخلص، ایماندار اور محنتی کارکنوں اور مشیروں کا پتہ کاٹ دیں۔ اس کتاب کے آخر میں نظامِ خلافت کا ایک وصف نامی مضمون ہے وہ قابل مطالعہ اور قابل سوچ ہے اس کو سنجیدگی سے پڑھئے۔
نظامِ خلافت کا ایک وصف
’’مقدس عہدِ رسالت میں تمام تر توجہ انسانوں کی روحانیت پر دی گئی تھی۔ لوگوں کو احساس دلایا گیا تھا کہ زمین پر وہ آزاد نہیں بلکہ خدا کے خلیفہ اور اس کے آگے جواب دہ ہیں۔ بعدمیں زیادہ توجہ اقتدار پر مرکوز کی جانے لگی تھی جسے بعد کے عباسی خلفاء بھی بغداد میں مزید پروان چڑھاتے رہے۔ یوں نظامِ خلافت پہلے رفتہ رفتہ، اور بعد ازاں تیزی کے ساتھ، خوفِ خدا کی جگہ دنیاوی شان وشوکت کی جانب ڈھلتا چلا گیا۔ بس ساری خرابیاں یہیں سے پیدا ہوئیں۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس کے باوجود عام معاشرتی زندگی میں اسلام کی ہدایات و تعلیمات ہی کا غلبہ رہا اور اسی باعث اسلامی تہذیب و تمدن اپنی جگہ مسلسل پروان چڑھتے رہے۔ بے شک بے شمار خرابیاں مستحکم ہوچکی تھیں، لیکن اس کے باوجود مملکت میں بڑی حد تک اسلامی قوانین ہی کا چلن رائج تھا۔ کامل زوالِ خلافت (1924۔عثمانیہ) تک بھی مملکت کے بیشتر قوانین کا سرچشمہ اسلامی فقہ ہی رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اس دور تک ترک حکومت کا نام ’’خلافت‘‘ ہی تھا اور ایک مفتی اعظم کا سرکاری تقرر مسلسل ہوتا رہا تھا جس کا عہدہ کسی وزیر کے برابر تھا۔ ترکی کے نئے جدید حکمراں مصطفیٰ کمال پاشا نے سب سے پہلے مفتیء اعظم ہی کا عہدہ ختم کیا تھا اور اسلامی قوانین تبدیل کرکے نئے مغربی قوانین کو ملک بھر میں متعارف کیا تھا۔‘‘
ہم کمال اتاترک کی پالیسی سے کچھ اِختلاف کرسکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ ترک قوم کو یہ شاک نہ دیتے تو وہ بھی یعنی ترکی دوسرے اسلامی ممالک کی طرح ایک بوسیدہ ورق تاریخ بن جاتا۔ یاد رکھیں کہ خلافت بنوعباس کے دور (680 سال) میں مسلمان سائنس، ٹیکنالوجی میں دنیا میں اوّل تھے اور اس کے اَثرات خلافت ہسپانیہ تک پہنچ گئے تھے۔ ہماری موجودہ قیادت ملک کو ترقی نہیں زوال کی طرف لے جارہی ہے۔ اللہ رحم کرے۔ آمین۔
جناب رضی الدین سیّد20 سے زیادہ کتب کے مصنف ہیں۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں