آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں نے روپے کی گرتی ہوئی قدر پر 15مئی، 17جولائی 2017ء اور 2جولائی 2018ء کو اپنے لکھے گئے کالموں میں بتایا تھا کہ قرضوں کی ادائیگیوں، اضافی امپورٹس، 31 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے اور 18 ارب ڈالر کے ریکارڈ کرنٹ اکائونٹ خسارے کی وجہ سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل کم ہورہے ہیں جس کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے پر شدید دبائو ہے جو گرکر 130 روپے کی سطح تک آسکتا ہے جبکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالر تک رہ گئے ہیں جس میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر صرف 9 ارب ڈالر ہیں جس کے باعث بالآخر 20 جولائی کو انٹربینک میں روپیہ اپنی نچلی ترین سطح 128.50 روپیہ اور اوپن مارکیٹ میں 130.50 روپے تک پہنچ گیا اور ڈالر کی قیمت بڑھنے سے راتوں رات ملکی قرضوں میں 800 ارب روپے کا اضافہ ہوا جو بڑھ کر 8120 ارب روپے ہوگئے۔ کرنٹ اکائونٹ اور تجارتی خسارے کے علاوہ اربوں ڈالر امپورٹ کیلئے کسٹم گرین چینل کا غلط استعمال اور ڈالر کی سٹے بازی بھی روپے کی قدر میں کمی کا سبب بنی جس کے بعد ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے فوری اقدامات سے صرف گزشتہ 10 دنوں میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 6 روپے یعنی 4.61 فیصد کمی ہوئی۔ پاکستان فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان ہوتی نے مجھے بتایا کہ FATF کے پاکستان کو منی لانڈرنگ روکنے کیلئے تجویز اقدامات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے

24 جولائی کو اندرون ملک کیش کرنسی کی نقل و حمل اور اوپن اکائونٹ پر پابندی لگادی ہے جو بلیک منی کے پھیلائو کو روکے گی۔ اسٹیٹ بینک کے اس اقدام سے ڈالر کی خرید اور طلب میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔ ملک بوستان نے بتایا کہ آج منی چینجر کے پاس تقریباً 5 ملین ڈالر جمع ہیں جس کو کوئی خریدنے والا نہیں ، جس کی وجہ سے ہمارے پیسے بلاک ہوگئے ہیں اور پیر کو ہم یہ ڈالر اسٹیٹ بینک کو فروخت کریں گے۔
حکومت کا حالیہ دنوں میں ڈالر کی بیرون ملک بالخصوص افغانستان اسمگلنگ روکنے کیلئے لئے گئے اقدامات اور انتخابات کے بعد سیاسی استحکام کی وجہ سے 28 جولائی کو ڈالر اوپن مارکیٹ میں 124روپے پر فروخت ہوا جو انٹربینک سے 4 روپے کم ہے۔ معیشت کے طالبعلم کی حیثیت سے میری یہ رائے ہے کہ صرف روپے کی قیمت کم کرکے ایکسپورٹس کو نہیں بڑھایا جاسکتا بلکہ ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے پیٹرولیم اور ڈیزل مصنوعات، صنعتی خام مال جیسی ضروری اشیاء مہنگی ہوجائیں گی جس سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آسکتا ہے۔ حکومت کی طرف سے غیر مستحکم روپے کی گرتی ہوئی قدر اور اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے کی اطلاعات پر اسٹاک ایکسچینج سے بیرونی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں جس کی وجہ سے ہماری اسٹاک مارکیٹ مستحکم نہیں ہوپارہی۔ عالمی مارکیٹ میں کرنسیوں کی قدر میں کمی کے موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی روپے کی قدر میں دسمبر 2017ء سے اب تک تقریباً 20 فیصد کی کمی آچکی ہے جبکہ بھارتی روپے کی قدر میں 6.9 فیصد اور ترکش لیرا کی قدر میں 22 فیصدکمی آئی ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی اہم وجوہات میں 18 ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ ہے جو 2016-17ء کے مقابلے میں 42.5فیصد زیادہ اور جی ڈی پی کا5.8فیصد ہے جسکو حکومت نے ایکسپورٹ میں اضافے اور امپورٹس میں کمی کرکے رواں مالی سال 5 سے 6 ارب ڈالر کم کرنا ہوگا جبکہ ایکسٹرنل اکائونٹ کیلئے آنیوالی حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانا ہوگا۔
گزشتہ مالی سال 25 ارب ڈالر کی ایکسپورٹس کے مقابلے میں 56 ارب ڈالر کی بے لگام امپورٹ کے باعث ملک کو تقریباً 31 ارب ڈالر تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ اس عرصے میں بیرون ملک سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر 19.5 ارب ڈالر تک رہی ہیں جبکہ بیرونی سرمایہ کاری جمود کا شکار رہی جس کی وجہ سے ملک میں ڈالر آنے کے مقابلے میں اس کا انخلاء زیادہ رہا۔ حکومت نے نہایت تاخیر سے غیر ضروری اشیاء کی امپورٹ کی حوصلہ شکنی کیلئے حال ہی میں امپورٹ پر100 فیصد ایل سی مارجن یعنی لیٹر آف کریڈٹ کی ایڈوانس ادائیگی، اضافی کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹی جیسی شرائط عائد کی ہیں۔ سابق وزیر خزانہ اور ممتاز معیشت دان ڈاکٹر حفیظ پاشا نے ملک کی موجودہ ابتر معاشی صورتحال کے پیش نظر فنانشل ایمرجنسی لگانے کی تجویز دی ہے۔ بزنس مینوں میں نہایت بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ حکومت منی بجٹ لانے پر غور کررہی ہے اور تمام درآمدی اشیاء پر ایک فیصد کسٹم ڈیوٹی یا 1550 اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی جس میں دوائیاں اور خام مال سمیت کچھ اشیاء پر استثنیٰ برقرار رہیگا، عائد کرنیکا ارادہ رکھتی ہے جس کے صنعتی شعبے پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ڈالر کی بے لگام اڑان کو دیکھتے ہوئے صنعتکار یہ اندازہ لگانے سے قاصر ہیں کہ انکی امپورٹ کی گئی اشیاکی مستقبل میں کیا لاگت ہوگی۔ انہی مسائل پر گفتگو کیلئے میں نے اپنے قریبی دوست اور نگراں وزیر تجارت و ٹیکسٹائل میاں مصباح الرحمن کو کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر عشایئے پر مدعو کیا تھا۔ میٹنگ میں ایف پی سی سی آئی کے صدر غضنفر بلور، افتخار علی ملک، مظہر ناصر، خالد تواب، عارف حبیب، زبیر طفیل، اشتیاق بیگ، عبدالسمیع خان، طارق حلیم، سہیل ملک، دارو خان، فیصل زاہد ملک، منظور احمد، منیر قریشی، انور قریشی اور دیگر بزنس مینوں نے شرکت کی۔ وزیر تجارت نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے حکومت کو پیداواری لاگت میں کمی، ایکسپورٹ سرپلس میں اضافہ اور ایکسپورٹرز کے ریفنڈز جیسے مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے ایکسپورٹ کے مراعاتی پیکیج کے بعد ایکسپورٹس میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا ہے اور ملکی ایکسپورٹس بمشکل 24.5 ارب ڈالر رہیں۔ انہوں نے ایکسپورٹرز کے سیلز اور انکم ٹیکس ریفنڈ میں حکومت کی مالی مشکلات کا ذکر کیا اور وعدہ کیا کہ کمرشل ایکسپورٹرز کو بھی ایکسپورٹ مراعاتی پیکیج میں شامل کرنے کا نوٹیفکیشن جلد جاری کیا جائے گا۔انہوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ روپے کی قدر ضرورت سے زیادہ گرگئی ہے جو ملک میں مہنگائی اور افراط زر میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
موجودہ معاشی بحران آنے والی نئی حکومت کیلئے بڑے چیلنجز ہیں جن کو نئی حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر ہینڈل کرنا ہوگا۔ نئی حکومت کو چاہئے کہ وہ پہلے 100 دن کیلئے اپنی ترجیحات بزنس کمیونٹی کے ساتھ بیٹھ کر طے کرے۔ قرضوں کی حد کے قانون (Debt Limitation Act)کے تحت حکومت جی ڈی پی کا 60 فیصد سے زیادہ قرضے نہیں لے سکتی لیکن ہمارے قرضے اس حد سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے 2.75 ارب ڈالر کے ڈالر اور سکوک بانڈز بھی جاری کئے جن کی ادائیگیاں 2019ء، 2025ء اور 2036ء میں ہیں۔ ملک کی موجودہ ابتر معاشی صورتحال کے پیش نظر 100 ڈالر کا 2025 کا بانڈ کم ہوکر 90 ڈالر اور 2036 کا بانڈ کم ہوکر 85 ڈالر کی قدر پر آگیا ہے جبکہ کچھ سال پہلے یہ بانڈ پریمیم پر ٹریڈ ہورہے تھے۔ پاور سیکٹر کے گردشی قرضے دوبارہ بڑھ کر 1000ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں اور حال ہی میں حکومت نے عالمی مصالحتی عدالت کے فیصلے پر پاکستان کے کچھ آئی پی پیز (IPPs) کو کروڑوں روپے جرمانہ ادا کیا ہے جبکہ نقصان میں چلنے والے حکومتی اداروں پی آئی اے، اسٹیل ملز اور واپڈا کی نجکاری نہ کرنے کی وجہ سے ان اداروں کو چلانے کیلئے ہر سال حکومت کو 500 ارب روپے سالانہ قومی خزانے سے ادا کرنے پڑتے ہیں اور اب تک حکومت 980 ارب روپے ادا کرچکی ہے۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کیلئے حکومت نے حال ہی میں چینی بینکوں سے 4 ارب ڈالر کے قرضے حاصل کئے ہیں۔ معاشی پنڈتوں کا خیال ہے کہ پاکستان کو 8 سے 10 ارب ڈالر قرضے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا یا پھر دوست ممالک چین اور سعودی عرب، پاکستان کو اتنی رقم کرنٹ اکائونٹ خسارے کو پورا کرنے کیلئے دیں۔پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال باعث تشویش ہے، بزنس کمیونٹی اور عوام عمران خان کی نئی آنے والی حکومت سے ضرورت سے زیادہ توقعات لگارہے ہیں کہ وہ ملک کو جلد ہی اس معاشی بحران سے نکال لیں گے لیکن ہمیں نئی حکومت کو وقت دینا ہوگا کہ وہ وزراء کی ایک باصلاحیت ٹیم منتخب کرکے ترجیحی بنیادوں پر ان معاشی مسائل کو حل کرے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں