آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کیاقائدمحترم35 لاکھ روپے کے نرغے میں ہیں؟ہمارے حکمران اوراُن کے لواحقین ”سچائی“ میں تو بانجھ تھے ہی‘ توازن بھی کھو بیٹھے۔ ہرزہ سرائی محض ایک ضمنی عمل ٹھہرا۔ دنیا کی تاریخ میں جتنی اقسام کے جرائم ہیں۔ اگر ہمارے سیاسی قبیلے کو اکھٹا کیا جائے تو تمام کے تمام استعمال کر چکے ۔ پچھلے 2 دنوں میں چوہدری نثار صاحب نے زبان کا ٹانکا توڑا۔ میڈیا کواقوالِ زریں سے مستفید فرمایا ۔ مزید تڑکہ صاحب ِ عرفان کالم نویس نے لگایا یقیناان کی تحر یر ان کی نئی پوزیشن کے تقاضوں کے عین مطابق ہے حضور جب آپ کوئلے کے کاروبار کی میڈیا مہم چلائیں گے تو صاف گوئی سب سے پہلے موت کی بھینٹ چڑھے گی۔آپ کا ایسی قربان گاہ کی نذر ہونا میرا ذاتی سانحہ ہے ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ مجبوری آڑے ہے ۔
برادرم آپ ISI کی بیلنس شیٹ پیش کریں یا یونس حبیب کی یا ٹھیکیداروں کی‘ سر فہرست نام میاں صاحب کا ہی نظر آئے گا ۔ اور یہ دن دہاڑے 35 لاکھ کی واردات پر رنگے ہاتھوں پکڑے جانا۔فقط Tip of the Ice Burg ہی سمجھئے۔ دوسری طرف چکری والے کوتاہ نظری‘ ISI کے جرنیل کا بیان ِحلفی نظر انداز کر کے خلجان اورہیجان جاوید ہاشمی پر ٹوٹا۔ جھوٹ نے بھی تو کہیں نازل ہونا تھا ۔حضور جاوید ہاشمی کے معاملات روشن اور عیاں۔ ترسیلات بذریعہ بینک اور معاملہ خالصتاََ کاروباری ۔ عرصہ 91/92 ۔ اس پر

مستزادپرویز مشرف اور نیب نے سارے جتن کیے کچھ نہ پایا۔ جب جاوید ہاشمی گلو خلاصی کروا رہے تھے ۔ قائدین تو سرور محل میں مسروراور خودچوہدری نثار فوج کے پچھواڑے میں۔ جاوید ہاشمی توآج بھی تفتیشی اداروں کے پیچھے سر پٹ بھا گ رہا ہے اور کاروباری معاملات کے میرٹ کو زیر ِ بحث لانے کا متمنی۔ مت بھولیں کہ ISI کی واردات ‘الیکشن چرانے کا عمل اور رقوم کی منتقلی بحقداراں 1990 کے واقعات ہیں۔ یہ 35 لاکھ سے توجہ ہٹاؤ مہم تو نہیں۔ حضور معاملہ ISI کی طرف سے رقوم بانٹنے کا ہے۔ دور کی کوڑی کے لیے جاوید ہاشمی ہی کیوں؟ ”مارو گھٹناپھوٹے آنکھ“
اگرپھر بھی آ پ مصر ہیں کہ جاوید ہاشمی پرایسا کوئی الزام بنتاہے توآپ نواز شریف کو سیاست سے ریٹائر کروائیں جاوید ہاشمی اپنا سر پیش کرنے کے لیے تیار۔کیا آپ کے قائد ایسی آشفتہ سری کے قائل ہیں ؟۔ ISI سے پیسہ پکڑنا ایک قبیح فعل۔ رشوت خور اخلاقی طور پر بانجھ اور قومی مجرم ٹھہرے۔قاسمی صاحب کی دعوت میں جمع افراد سے معلوم کر لیں کہ نواز شریف نے کس دھڑلے سے جرنیلوں سے پیسہ پکڑنے کا اعتراف کیا ۔عارف نظامی صاحب پکار پکارکر گواہی دے رہے ہیں ۔ برادرم کالم نویس کو میاں صاحب کی جرات اور عظمت کو سلام پیش کرنا چاہیے تھا جنہوں نے ببانگ ِ دہل اعتراف کیا ۔زندگی میں ایک ہی نیکی کی اور آپ نے پانی پھیر دیا۔چوہدری صاحب کو بھی کریڈٹ ۔ وہ جانتے ہیں کہ تفتیش کروانا سیاسی موت کو گلے لگاناہے۔آپ کے قائدنے منتخب روزگار گروپ کے سامنے ISI سے پیسے لینے کا اقبال ِ جرم کیا اور پھر قومی میڈیا پر انکار۔ ہمارے انتہائی معتبر دانشور کیا سوچتے ہوں گے۔ قومی قیادت کا دعویدار جو ISI، اسامہ بن لادن، غیرملکی آقاؤں اور کاروباری ٹھیکیداروں سے کروڑوں اینٹھے پھرمکر جائے اور وہ بھی 35 لاکھ کی حقیر رقم کو چھپانے کے لیے ۔ یا اللہ قائدین کس اجزائے ترکیبی سے بنے ہیں۔شوق ہے‘ مسند ِاقتدار پر کمند ڈالنے کا اور حالات سب سے بدتر۔اقوال زریں ملاحظہ فرمائیں” یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ایک نابالغ دماغ اور بھگوڑے کی قیادت میں اپنی سیاست کو جاری رکھوں“۔ ” میں شہباز شریف کے ساتھ تو کام کر لوں گا لیکن میاں نواز شریف کے ساتھ کام کرنے کی بجائے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لوں گا“۔
یہ الفاظ ”ق“ لیگ جوائن کرنے والے سابق قریبی ساتھی سید مشاہد حسین کے نہیں یہ ”ہدیہ تبریک“ تھا چوہدری نثار کااپنے قائد کے حضور۔ اب ذرا چوہدری صاحب کے بارے میں میاں صاحب کے کیمپ کی رائے بھی پرکھ لیں ”چوہدری فوج کا ٹاؤٹ ہے اور انتہائی ناقابلِ بھروسہ ہے“۔ ”چوہدری ہماری صفوں میں فوج کا گماشتہ ہے“۔یاد رہے فی زمانہ شہباز شریف کی فوجی حکام سے راتوں کی ملاقاتیں کروانے والا چوہدری ہی ہے۔ بیان ِ حلفی موجود ۔
ہمارے کئی دانشور پورے اخلاص سے Truth Commission قائم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ سچ بولنے کے بعد تطہیر اورپاکی کا عمل شروع ہو سکے ۔یہ بات راسخ ‘ سچ نہیں اُگلیں گے ۔ سپریم کورٹ پر حملہ ا ور ISI سے 35 لاکھ کا حقیر بیعانہ تو منوالیں۔ انہیں کیا معلوم تھایہ رقم آج کی تاریخ میں سوہانِ روح اور ا ن صاحبان ن کے گلے کی ہڈی بن جائے گی ۔ جاوید ہاشمی سے معاصرانہ چشمک اور حسد سمجھ آتا ہے لیکن حضور ہاشمی صاحب کی قدرومنزلت اور مقبولیت میں اُن کا کیا قصور۔ قربانی اُن کی سرِ شت ۔ اور باقی سارا تیرا کر م ہے آقا ۔
جاوید ہاشمی کا پورا حلقہ احباب جانتا ہے یوسف میمن سے باقاعدہ تحریری کاروباری معاہدہ ہو ا ۔ جب کاروباری رنجش پیدا ہوئی تو باقاعدہ ثالثی ہوئی اور معتبر نام ثالثی میں شامل تھے ۔جناب ِ والا! ذرا جلدی سے 35 لاکھ کا حساب دیں یہ قوم کی خوش بختی کہ آپ 35 لاکھ کے نرغے میں آگئے اور اب اگر نقد معافی نہ مانگی تو رسوائی اور ہزیمت ایسی کہ کئی نسلیں جدہ اور لندن میں مقید ہو کر یاد رکھیں گی۔
آج انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کا یومِ تاسیس بھی ہے میں خود 70 کے عشرہ میں طلبہ سیاست کا حصہ رہا ہوں۔ دوران طالب علمی میرا اوڑھنا بچھونا اسلامی جمعیت طلبہ تھا ۔ جہاں بہت کچھ سیکھا۔ بہت کچھ پایا۔ دوران طالب علمی میرا گھمنڈمیرا آئیڈیالزم اور میری دینی اقدار تھیں اگر میں یہ کہوں کہ ہمارے دور کا لیفٹ بھی آئیڈیلسٹ تھا۔تو عین قرین انصاف ہو گا۔ میر ی پہلی توقع تو آپ نوجوانوں سے فقط اتنی ہے کہ ستاروں پر ہی نظر رکھو پیرو مرشد نے ستاروں پر ہی کمند ڈالنے کی تلقین کی ۔جب تک حُبِ اللہ ، حُبِ رسول اور نظریہ پاکستان اپنی زندگیوں کا مرجع و منبع نہیں بناؤ گے شرمندگی ، بد نظمی اور ناکامی کے سوا کچھ نہیں پاؤ گے آپ لوگ عمران خان اور تحریک انصاف کا ہر اول دستہ ہو۔ 5 سالوں میں جنون اور جوش کے ہوتے ہوئے بھی اس کواپنے اعصاب پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ وقار، لگاؤ، امن اور عدم ِتشددآپ کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ آپ کے اوپر کئی لکھاریوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے جھوٹے اور لغو الزامات لگائے لیکن آپ ثابت قدمی سے اپنے گول کی طرف یکسو اور رواں دواں رہے۔ طلبہ سیاست کی ایک ریت رہی ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کے رحم وکرم پر نہیں رہ سکتی ۔ آپ کوبھی اپنا تشخص تحریک انصاف کے اثرورسوخ سے الگ ہو کر بنانا ہو گا تحریک انصاف آپ کے نظریہ کی سچائی اور بڑائی سے ہی مستفید ہو گی تو دونوں کے لیے بہتر ہے ۔ بغل بچہ بننا طلبہ سیاست کی توہین ہے ۔
یہ آپ ہی کی طاقت تھی جس نے پنجاب حکومت کو 4 سال کی گہری نیند سے جگایا اور دوڑتے بھاگتے انہوں نے قومی سرمائے کو تھوک لگائی۔ نوجوانوں پر ان کی نظر ِ کرم آپ کی جیت ہے۔ آج یہ بازیگر یوتھ کنونشن ، لیپ ٹاپ ، ان ٹرن شپ کے نام پر اربوں کی رشوت دینے پر مجبورہوئے اور اپنے اخلاقی دیوالئے کا ثبوت دینے پر بھی۔آج ان کا یوتھ اور طلبہ کے ساتھ لگاؤ کی گانٹھ لگانا ایک مزاحیہ پروگرام ضرور ہے لیکن اصلاََآپ کا جوجادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اس کے توڑ کی سر توڑ کوشش بھی ۔ آپ اپنا سفر جاری رکھیں پورے ملک کی یوتھ آپ کے چراغوں میں تیل ڈالنے کی متمنی ہے۔ کیونکہ یہی چراغ جلیں گے تو روشنیاں ہوں گی ۔آج عمران خان اور تحریک انصاف کوجو سیاسی جلا ملی ہے اورجس طرح جرائم پیشہ سیاستدانوں کی نیندیں حرام ہوئیں اس کا سہرا آپ کے سر۔ مبارک ہو‘ سلامت رہو۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں