آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جمہوریت کا ایک اور سنگ میل عبور ہوا ، تمام تر خدشات ، تحفظات اور قیاس آرائیوں کے باوجود عام انتخابات منعقد ہو چکے، پاکستان کے دشمنوں نے آخری مرحلے پر بھی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں خون کی ہولی کھیل کر وطن عزیز کی منزل کھوٹی کرنے کی ہر مذموم کوشش کی لیکن وہ اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔ جمہوری سفر کے اس تسلسل پر ملکی ادارے اورعوام مبارک باد کے مستحق ہیں۔ الیکشن کے نتائج تقریبا مکمل ہوچکے ہیں جن کیمطابق مجموعی طور پر پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور ملک میں آئندہ حکومت اس کا جمہوری استحقاق ہے۔ ماضی کی طرح پاکستان میں منعقدہ ہر انتخابات کی طرح 25جولائی 2018ءکے الیکشن کی شفافیت پر بھی ان گنت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کامیابی حاصل کرنیوالی پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ ملک کی ہر قابل ذکر سیاسی جماعت نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سی انکار کر دیا ہے۔ ان انتخابات کی مانیٹرنگ کیلئے آنے والی دولت مشترکہ کی ٹیم نے 25جولائی کے انتخابات کو مئی 2013 کے انتخابات کے مقابلے میں بہتر قرار دیتے ہوئے اطمینان ظاہر کیا ہے تاہم یورپی یونین کی ٹیم کے سربراہ مائیکل گالر کے مطابق 25 جولائی کے انتخابات کسی طور پر بھی 2013 کے

انتخابات سے بہتر نہیں تھے۔ انہوں نے پولنگ کے دن پولنگ اسٹیشنوں کے اندر سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کو بھی ناقابل فہم قرار دیا اور کہا کہ کچھ غیر جمہوری قوتوں نے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ یورپی یونین کے مبصرین نے انتخابات سے پہلے اور بعد میں میڈیا پر عائد پابندیوں کوبھی غیر ضروری قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہارکیا۔ پاکستان میں انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والی تنظیم فافن نے اپنی عبوری رپورٹ میں حالیہ انتخابات کومجموعی طور پر بڑی بے ضابطگیوں سے پاک اور گزشتہ الیکشن کے مقابلے میں پرامن اور بہتر قراردیا۔ پولنگ سے قبل اور پولنگ کے دن الیکشن کی کوریج کرنے اور متعلقہ معاملات کو انتہائی قریب سے مانیٹر کرنے والے ہمارے جیسے صحافیوں نے ذاتی مشاہدات کی روشنی میں اپنی آرا مرتب کی ہیں۔ انہی ذاتی مشاہدات کی روشنی میں پورے وثوق کیساتھ کہہ سکتا ہوں کہ انتخابی عمل کے دوران پولنگ اسٹیشنوں کا عملی طور پر کنٹرول سیکورٹی کی ذمہ داری کیلئے تعینات کئے گئے مسلح افواج کے اہلکاروں اور افسران کے ہاتھ میں تھا، الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق اگرچہ سیکورٹی اہلکاروں کی ڈیوٹی پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر تھی جن میں معمول کے پولنگ اسٹیشنوں پر ایک جوان اندر اور ایک باہر جبکہ حساس پولنگ اسٹیشنوں پر دو جوان اندر اور دو باہر تعینات کئے گئے تھے تاہم اکثر پولنگ اسٹیشنز پر تمام سیکورٹی اہلکار پولنگ اسٹیشنوں کے اندر ہی تعینات نظر آئے اور بعض جگہ ان کی تعداد متعین اہلکاروں سے کافی زیادہ تھی۔ پولیس اور دیگر اہلکاروں کو پولنگ اسٹیشنوں کے باہر کھڑا کیا گیا تھا جن میں پولیس کے افسران تک شامل تھے۔ یہ بھی اعلان کیا گیا تھا کہ تین لاکھ اکہتر ہزار جوانوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد ریٹائرڈ آرمی اہلکار ہونگے لیکن گراونڈ پر ریٹائرڈ سیکورٹی اہلکارفرائض ادا کرتے نظر نہیں آئے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ اسٹیشن کے انچارج پریزائیڈنگ افسران تھے تاہم پریزائیڈنگ افسران بالکل بے بس اور سیکورٹی افسران کیا اہلکاروں کے بھی ماتحت اورانتخابی سامان کے استعمال سے میڈیا کو داخلے کی اجازت دینے تک ان سے ہدایات لیتے دکھائی دئیے۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد سب سے بڑی بے قاعدگی جو دیکھنے میں نظر آئی وہ ووٹوں کی گنتی کے وقت متعلقہ سیاسی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال کر دروازے لاک کرنے کی صورت میں تھی حالانکہ انتخابی قوانین کی رو سے اس اہم ترین مرحلے پرہر سیاسی جماعت کے ایک پولنگ ایجنٹ کی موجودگی لازم ہے۔ بعض جگہوں پر سیاسی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹس کی طرف سے سخت احتجاج کرنے پر انہیں سادہ کاغذ پرہاتھ سے تحریر کردہ نتائج پر مہر لگاکر تھماتے ہوئے اسے ہی فارم 45تصور کرنے کی ہدایت دی گئی۔ حالیہ الیکشن نتائج کو سب سے متنازعہ الیکشن کمیشن کی طرف سے پہلی بار متعارف کرائے گئے الیکٹرانک ریزلٹس ٹرانسمیشن سسٹم ( ای آر ٹی ایس ) نے کیا۔ یہ وہ ایپلیکیشن تھی جونادرا نے برطانیہ اورامریکہ کی معاونت سے تیارکر کے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر ملک بھر کے پریزائیڈنگ افسران یا اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران کے موبائل فونوں پر انسٹال کی تھی تاکہ ووٹوں کی گنتی کے فوری بعد نتائج کو فارم 45 پر درج کر کے اس فارم کی تصویر لے کر اس ایپ کے ذریعے اسے فوری طور پرریٹرننگ افسران، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور الیکشن کمیشن کو بھیج دیا جائے۔ انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ اس ایپ کے ذریعے اسی سے نوے فیصد پولنگ اسٹیشنوں سے ریٹرننگ افسران یا الیکشن کمیشن کو صبح دو سے تین بجے تک کوئی فارم 45موصول نہیں ہوا اور یہ سسٹم بری طرح ناکامی سے دوچار ہو گیا۔ یہ نظام تکنیکی وجوہات کے باعث ناکام ہوا یا اسے دیگر ناگزیر وجوہات کے باعث جان بوجھ کر ناکام کیا گیا اسکے بارے میں چیف الیکشن کمشنر یہ گتھی سلجھا سکتے ہیں ۔ ای آر ٹی ایس سے نتیجہ بھیجنے کے بعد پریزائیڈنگ افسران کو روایتی طریقہ کار کے مطابق ریٹرننگ افسران کے دفاتر میں سیل شدہ تھیلوں میں بیلٹ پیپرز اور لفافوں میں فارم 45لیکر پہنچنا تھا لیکن ریٹرننگ افسران کے دفاتر میں انکی آمد دو بجے کے بعد شروع ہوئی بلکہ اکثر صبح چار بجے کے بعد آئے جبکہ آر اوز نے وقفے وقفے سے ملنے والے نتائج میڈیا نمائندوں کو بتانا شروع کئے تاہم چند نتائج کے بعد وہ بھی ناگزیر وجوہات کے باعث بتانا بند کر دئیے گئے۔ آر اوز کے دفاتر میں فارم 45کو ای آر ٹی ایس میں لوڈ کرنے کیساتھ ای رزلٹ مینجمنٹ سسٹم (ای آر ایم ایس ) میں ڈال کر فارم 47 بھی مرتب کئے گئے جو انتخابی قوانین کی رو سے قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔ ماضی کے برعکس آر اوزکے دفاتر کو میڈیا نمائندوں کیلئے بھی علاقہ ممنوعہ بنا دیا گیا اور ان کا تمام کنٹرول بھی سیکورٹی اہلکاروں نے سنبھال رکھا تھا۔ آر اوز کے دفاتر میں فارم 45 اور بیلٹ پیپرز کے تھیلے اور خالی
بیلٹ باکسز لانے والی گاڑیاں کس کی نگرانی میں آئیں اور پریذائیڈنگ افسران گنتی مکمل ہونے کے بعد صبح چار بجے تک کہاں رہے،ان سوالات کے جوابات دینا بھی الیکشن کمیشن پہ لازم ہے کیونکہ الیکشن میں مبینہ دھاندلی کا کھرا اسی فارم 45 سے جڑا ہوا ہی اور الیکشن نتائج میں تاخیر کی وجہ بھی یہی ہے۔ بعض حلقوں پردوبارہ گنتی کے بعد نتائج کی تبدیلی نے الیکشن کی شفافیت کو مزید گہنا دیا ہے۔ انتخابات میں پیچھے رہ جانے والی جماعتوں نے اسلام آباد میں منعقدہ اے پی سی کے بعد اعلان کیا کہ وہ قومی اسمبلی میں حلف نہیں اٹھائیں گی تاہم پیپلز پارٹی نے اس فیصلے کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا جبکہ مسلم لیگ ن بھی ان سطور کی اشاعت تک ممکنہ طور پر پیپلز پارٹی کے موقف کیساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کر لے گی۔ بعض جماعتوں کے احتجاج جبکہ تحریک انصاف اورحامیوں کی طرف سے مبارک سلامت کے شور میں عمران خان وطن عزیز کی آزادی کے مبارک مہینے میں وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے۔ یوں وہ بائیس سال قبل شروع کی گئی بے تکان اور مسلسل جدوجہد کا ثمر پا لیں گے تاہم اپنے دیرینہ خواب کی تعبیرحاصل کرنے کیلئے یہ دو ہفتے ان کیلئے انتہائی صبر آزما ثابت ہونگے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)
kk

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں