آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
امریکہ پاکستان کی طرح حالت جنگ میں ہے، بلکہ حالت جنگ میں صرف امریکہ ہے ہم تو امریکہ کا بویا کاٹ رہے ہیں اور یہ سن کر کان پک گئے ہیں کہ حالت جنگ میں گھوڑے تبدیل نہیں کئے جاتے مگر صدر باراک حسین اوباما نے ڈیوڈ پیٹریاس کو ایک جنسی سیکنڈل میں ملوث ہونے پر سی آئی اے کی سربراہی سے ہٹا کر اس تاثر کی نفی کی ہے۔
جنرل ایلن بھی شایدزیادہ دن اپنے منصب پربرقرار نہ رہ سکیں کیونکہ یہ دونوں کسی اعلیٰ منصب پر فائز شخصیات کے لئے مقرر کردہ امریکی معیار پر پورے نہیں اترے۔ عام امریکی شہری کے مقابلے میں سیاسی، فوجی اور عدالتی قائدین کو بلند تر اخلاقی کردار کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے کیونکہ وہ قوم اور نوجوان نسل کے لئے رول ماڈل ہوتے ہیں ورنہ امریکہ میں نہ تو معاشقہ جرم ہے نہ عورت مرد کے تعلقات پر کوئی قدغن۔
پاکستان میں اخلاقیات ،مشرقی اقدار اور پاکبازی کا ڈھنڈورا بہت پیٹا جاتا ہے، عام پاکستانی حتی المقدور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا، رسول اکرم کے اسوہ رسول پر عمل کرتا اور کبائرسے دور رہتا ہے مگر ہماری سیاسی، فوجی اور حکمران اشرافیہ کا باوا آدم نرالا ہے وہ اخلاقی اور مالی حوالے سے سنگین ترین جرائم کو اپنا پیدائشی حق اور آبائی ورثہ سمجھتی ہے۔ ڈسپلن اور میرٹ کے حوالے سے پاک فوج اپنے شاندار ریکارڈ پر فخر کرتی ہے مگر اس کی سربراہی

جنرل یحییٰ خان اور جنرل پرویز مشرف کے حصے میں آئی جن کی حلف شکنی اپنی جگہ مگر اس دور میں ایوان صدر بازاری عورتوں کا گڑھ رہا اور کئی مونیکا لیونسکی، پاؤلا براڈویل اور جل کیلی خواتین اول بن کر راج کرتی رہیں۔ یہ بدنام زمانہ عورتیں اعلیٰ سرکاری عہدیداروں پر حکم چلاتیں اور کئی بار عب بیوروکریٹس ان کے سامنے تھر تھر کانپتے۔
ایک بار چودھری شجاعت حسین نے ہمارے سامنے یہ جملہ کہا”اسمبلی تو معلوم نہیں چلے نہ چلے مگر ان چہیتی خواتین ارکان اسمبلی کی وجہ سے کئی گھر ضرور اجڑیں گے“۔
بھٹو صاحب کے ایک گورنر کو بازار حسن کا داماد قرار دیا جاتا تھا اور گورنر ہاؤس کی رنگین راتوں کے قصے تہمینہ درانی کی کتاب”مینڈا سائیں“ میں تفصیل سے درج ہیں۔ شوکت عزیز کے دور حکمرانی میں یہ بات زبان زد عام تھی کہ پارلیمنٹ کے اجلاسوں کے دوران اسلام آباد میں شراب کی کھپت اور کال گرلز کی مصروفیت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ صرف شراب و شباب نہیں ہماری حکمران اشرافیہ نے قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ، اختیارات کے ناجائز استعمال، اقربا پروری اور قومی اداروں کی تباہی میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ فراڈ ،دھوکہ دہی، خیانت مجرمانہ اور سیاست میں کرپشن کی آبیاری کونسا ایسا جرم ہے جس میں اوپر سے نیچے تک ہماری حکمران اشرافیہ کے ہاتھوں اور چہروں پر کالک صاف نظر نہ آتی ہو مگر چونکہ سب حمام میں ننگے ہیں اس لئے عدالتی فیصلوں کے باوجود کسی کو ڈیوڈ پیٹریاس کے انجام سے دوچار نہیں ہونا پڑا۔
بڑے مگر مچھوں کی دیکھا دیکھی چھوٹے موٹے سنپولیے بھی قومی جسم پر زخم لگارہے ہیں اور آئین ،قانون، عدالتیں، سماج ان کے سامنے بے بس ہے۔ اصغر خان کیس کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد تاویل اور حیل و حجت کا بازار گرم ہے۔ شرم و حیا نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آتی۔لگتا یوں ہے کہ اس ملک میں جرم صرف آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی پر اصرار ہے، اسٹیبلشمنٹ اور سٹیٹس کو سے بغاوت ہے، ملک کو کرپشن اور دیگر اخلاقی برائیوں سے پاک کرنے اور اقبال و قائد کے ا وصولوں پر چلنے کا نعرہ ہے ورنہ کسی آئین شکن ،لیٹرے، قومی ڈاکو کو کبھی سزا تو ملتی، کسی کو عبرت کا نشان تو بنایا جاتا۔
1950 کے عشرے سے جنرل پرویز مشرف کے دور تک بلا مبالغہ ہزاروں سیاسی، مذہبی اور سماجی کارکنوں کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا رہا، کوڑے لگے، شاہی قلعے کی سیر کرائی گئی، کال کوٹھریوں میں ڈالا گیا اور ان میں سے بعض جاں سے گزر گئے ۔ان میں سے ہر ایک کا قصور جبر و استبداد کے موجودہ نظام کو چیلنج کرنا اور ملک میں منصفانہ سیاسی، سماجی اور اقتصادی تبدیلیوں کی راہ ہموار کرنا تھا ان میں سے کچھ دائیں بازو کے مثالیت پسند کار کن تھے اور کچھ بائیں بازو کے انقلابی سب کے سب اقراری مجرم؟ مگر مجال ہے کہ آج تک کسی آئین توڑنے، وفاداری تبدیل کرنے، قومی وسائل لوٹنے ،ملکی معیشت کو گھن کی طرح چاٹنے اور انسانی ضمیر کی خرید و فروخت کا کاروبار کرنے والا کوئی بے شرم، بے حیا، بدکردار رہنما کارکن احتساب کی بھٹی میں ڈالا گیا ہو۔ سب حاجی ثناء اللہ بنے قوم کے کندھوں پر سوار ہیں۔
صدر باراک حسین اوباما نے میدان جنگ میں کردار کے اعتبار سے لنگڑے گھوڑے تبدیل کرکے اپنے ملک، قومی ادارے اور فوجی مناصب کو بدنامی سے بچالیا۔ ہم اسلام کے علمبردار ،مشرقی اقدار و روایات کے دعویدار اور صادق امین رسول اکرم کے پیروکار ہیں مگر ایسا کچھ نہیں کرسکتے۔ کیوں؟شاید اس لئے کہ دنیا بھر میں جمہوریت تین ستونوں پر استوار ہے۔ مقننہ ،عدلیہ، انتظامیہ ،ہمارے ہاں جمہوریت کو کرپشن کے بیل نے اپنے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے اور ہماری اشرافیہ کا خیال ہے کہ بیل نے سینگ ہلایا تو9ء8رچرڈ سکیل کا زلزلہ آئیگا اور سب کچھ تلپٹ کردے گا، گلشن کا کاروبار چل نہیں پائیگا اس لئے
تم بھی چلے چلو جہاں تک چلی چلے

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں