آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیاست نام ہے جس کا
سچ ہے یا جھوٹ ہم دعویٰ تو نہیں کر سکتے مگر لگتا ہے کہ ہمارے ہاں سیاست کے نام پر کچھ اور ہوتا ہے، اور یہاں حکومت ہو یا حزب اختلاف دونوں میں چنداں فرق نہیں ہوتا ہوتا بھی ہے تو کاسمیٹک، اس طرح یہ عزیز وطن گویا بیوٹی پارلر بن چکا ہے، اللہ جانے اصل چہرہ کیا تھا نظر کیا آتا ہے، بہرحال ہم ظاہر پر ہی فیصلہ دیں تو ہم بھی خوش روپ بہروپ بیوٹی پارلر بھی خوش، ان دنوں سیاست پر کسی چینل کے مطابق گفتگو کرنے کرانے والوں کا وہ حال دیکھا کہ ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیا ہم نے، ویسے کوئی برا نہ مانے اور بچگانہ بھی نہ سمجھے تو آج انداز سیاست کچھ اس طرح کا ہے کہ باپ نے بیٹے سے کہا سگریٹ کیوں پیتے ہو اس نے کہا فلاں انکل کا بیٹا بھی تو پیتا ہے، یہ ہے طریق استدلال جس پر تمام سیاسی مناظروں کا دارومدار ہے، گندی سیاست جو بھی کرے درست نہیں اچھی سیاست پر طبیعت مائل نہیں یا اس میں بڑا خسارا دیوالیہ پن یا دیوانہ پن تو بہتر ہے کہ شادی دفتر کھول لیا جائے، اور اس پر بھلے لکھ دیا جائے وچولن پارلر، کسی سے اس کی آزادی تو نہیں چھینی جا سکتی مگر دل کرتا ہے کہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے پر عبوری پابندی لگا دی جائے، اور نیا پاکستان بنانے سے پہلے نیا الیکشن کمیشن بنایا جائے، مگر یہ سب ہماری یا ہم جیسوں کی خواہشات ہیں اور

خواہش کب قابو میں رہتی ہے بالعموم جب یہ جینوین ہو، عمران خان نے قوم کو اتنا پُر امید سے کر دیا ہے کہ ایک دوست نے کہا یار جب بڑے چاہ سے سیل فون آن کرتا ہوں ’’اوترے‘‘ سگنل نہیں آتے، ہم نے عرض کیا بس عمران کے حلف اٹھانے تک انتظار کرو پھر چوراہوں پر بھی سگنلز رہتے ہیں یا نہیں رہتے کیونکہ مولانا کو جمہوری طیش آیا ہوا ہے وہ کہتے ہیں اندر بھی احتجاج ہو گا باہر بھی احتجاج، کاش ہم ملک سے غربت، کرپشن، بیروزگاری اور مارا ماری کے خاتمے کے لئے بھی اسی شدو مد سے متحد ہوتے، چھوڑیں ہم کن تھکے ہوئے راستوں پر چل پڑے سلطان باہو کا ایک خوبصورت شعر سنیئے
منصور جیسے چک سولی دتے جیہڑے واقف سب اسراراں ہو
سجدیوں سر نہ چائے باہو توڑے کافر کہیں ہزاراں ہو
٭٭٭٭
پاکستان ریسٹورنٹ نہیں
کہنے کو تو ہم نے عنوان باندھ دیا کہ پاکستان ریسٹورنٹ نہیں مگر بھلا ہو چیف جسٹس کا کہ انہوں نے بیان دے دیا ’’پاکستان وہ ملک نہیں جہاں جو بھی آئے کھا کر چلا جائے، 70برسوں میں جہاں اور کئی ٹرینڈ سیٹ ہوئے، گریڈ 17تنخواہ گریڈ 22کی، ابھی تو میڈیا بڑی رعایت برت رہا ہے ورنہ اس کے پاس ان افراد کی بھی فہرست موجود ہے جو سی ایس ایس کئے بغیر سی ایس پی افسر ہو گئے، سیاست میں یہ نوازشات کی بھرمار اور ٹشو پیپر استعمال عام رہا ہے، آج اگر کوئی اس قابل نہیں کہ کوئی چپڑاسی رکھ لے تو کل ممکن ہے کہ وہی ’’مشکل کشا‘‘ بن جائے، جب پاکستان بنایا گیا تھا تو یہ ایک ملک تھا ریسٹورنٹ نہیں تھا اگر بعد میں جیسے سینمائوں کو شادی ہال بنا دیا گیا پاکستان کو بھی ریسٹورنٹ بنا دیا گیا کہ آئے کھا گئے چلے گئے، اور ’’بیرے‘‘ سارے کے سارے بھوکے رہ گئے، اگر ہوٹل ہی بنا لیتے تو قیام و طعام کا بندوبست ہوتا، گھر کی سونے کی دیگیں گھر میں رہ جاتیں اور ہمارے ہاں سرے سے خط غربت نہ ہوتا، نہ اس کے اوپر کوئی ہوتا نہ نیچے، ہم یہاں کہتے چلیں کہ لفظوں کا بھی بڑا عمل دخل ہوتا ہے بلکہ ان کی باڈی لینگویج بھی ہوتی ہے، اس لئے ہماری گزارش ہے کہ کرپشن کے بجائے حرام حوری کا لفظ استعمال کیا جائے، کیونکہ کرپشن اور حرام خوری میں یہ تاثر موجود ہے کہ کہا جائے فلاں اسکول بم سے اڑا دیا گیا اور یہ کہ فلاں اسکول میں بم مار کر دو سو بچے مار دیئے گئے، ہم جب بھی انگریزی بولتے ہیں اپنا کوئی عیب چھپانے کی کوشش کرتے ہیں یا اس کے مکروہ ہونے میں کمی کر کے پیش کرتے ہیں ہمارے ہاں جب محفوظ گالی دینا ہو تو انگریزی میں دیتے ہیں، اس کی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں اگر ماں بولی میں گالی دی جائے تو بندوقیں چل جاتی ہیں انگریزی میں دی جائے تو کوئی بھی گالیاں کھا کے بے مزا نہیں ہوتا، چیف جسٹس ہمارے پہلے قاضی القضاۃ ہیں جنہوں نے کہا پاکستان وہ ملک نہیں جہاں جو بھی آئے کھا کے چلا جائے، گویا اب باقاعدہ بل ادا کرنا ہو گا، یا قے کرا کے عوامی دولت برآمد کرنا ہو گی۔
٭٭٭٭
دونوں یکجا نہیں ہو سکتے
چوہدری نثار:سیاسی پیغام رسانی باتیں غلط، کسی سے رابطہ نہیں، نواز شریف سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی نہ ضمنی الیکشن لڑنے کا ارادہ، ہمیں اس بیان سے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا مگر اتنا کہہ سکتے ہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ کوئی تو کہے کہ انہوں نے دنیا ترک کر دی اور تصوف کی طرف مائل ہو گئے ہیں، اگر یہ بات ہے تو بنی گالہ ان کے لئے موزوں چلہ گاہ ہے وہاں چلے جائیں، روحانی، سیاسی، سماجی جو ڈش چاہیں تناول کر لیں، ہم نے اپنے مخصوص علم سے پتہ لگا لیا ہے کہ ایک ہی پارٹی میں دو نون اکٹھے نہیں ہو سکتے، کیونکہ دونوں کو ایک دوسرے سے خطرہ رہتا ہے، اگر کوئی اور نون بھی اس پارٹی میں ہے تو اپنا بندوبست کرے، علم الاعداد والنجوم کے ماہرین نے نون اور ف کو خطرناک قرار دیا ہے، آپ چاہیں تو تحقیق کر سکتے ہیں، چوہدری صاحب قیام کے بجائے رکوع کر لیتے تو اچھا تھا، آخر وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بھی تو بیٹھ ہی گئے تھے، چوہدری نثار صرف اپنے ساتھ چل سکتے ہیں، کسی اور کے ساتھ نہیں چل سکتے اس لئے بنی گالہ والے اس نون سے بھی محتاط رہیں، یہ جو افواہیں اڑاتے ہیں، یہ سارے افواہ ساز نہیں ہوتے بلکہ ان میں کچھ کارساز بھی ہوتے ہیں، اور افواہ دراصل زبان خلق کا ہی نام ہے، اور وہ نقارئہ خدا ہوتا ہے، ظاہر ہے جب یہ نقارہ بجتا ہے تو ستاروں پر کچھ نہ کچھ تبدیلی یا نقل و حرکت ہوتی ہے، افواہ کے پیچھے اگر ایک فیصد بھی سچ ہو تو افواہ قابل توجہ ہو سکتی ہے، لفظ افواہ دراصل عربی کے لفظ ’’فاہ‘‘ (منہ) کی جمع ہے یعنی بہت سارے منہ، اور پھر اس کی تشریح یہ ہے کہ جتنے منہ اتنی باتیں، اور غور کیا جائے تو اس میں جمہوریت کا عنصر بھی ہے، کیونکہ اگر بہت سے منہ یکجا ہو جائیں تو کوئی نہ کوئی قوم کا خیر خواہ کامیاب یا ناکام ہو جاتا ہے، اکثر کہا جاتا ہے افواہوں پر کان نہ دھریں، یہ شتر مرغ پالیسی ہے، جس میں حفاظت تو ہے مگر مکمل تحفظ نہیں مگر اچھا ہے دل کے بجائے کان کے پاس رہے پاسبان عقل۔
٭٭٭٭
جب رات ڈھلے ساقی پیمانہ بنا دینا
....Oمشرف کے خلاف آئین شکنی کیس 20؍ اگست کو سماعت کے لئے مقرر۔
پکا!
....Oپرویز خٹک نے نازیبا الفاظ پر الیکشن کمیشن کے بعد قوم سے بھی معافی مانگ لی۔
بہتر ہے کہ وہ ان سے این او سی بھی حاصل کر لیں۔
....O بختاور زرداری:دوبارہ گنتی میں پی ٹی آئی مزید نشتیں کھو دے گی۔
اگر ایسا ہوتا تو خان صاحب تقریر میں دعوت عام نہ دیتے۔ ایسی باتیں کیا نہ کریں اگر یہ سلسلہ طول پکڑ گیا تو سندھ کی حکومت کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ جب بھی کسی چیز پر نظرثانی کی جائے غلطی نکل ہی آتی ہے۔
....Oنیب نے بڑے پیمانے پر اداروں اور افراد کے خلاف انکوائریاں شروع کر دیں۔
پیمانے کا ذکر تو ہوتا ہے پیمانے بھرنے کی بات ہی نہیں کی جاتی۔
....O ہمارا خیال ہے کہ دوسروں میں ہمیشہ اپنے گناہ نظر آتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں