آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قوموں کی تاریخ میں انصاف و احتساب کی بڑی اہمیت ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ جن قوموں نے بھی ترقی کی انہوںنے انصاف کی حکمرانی اور احتساب کا بہتر نظام وضع کیا ہے۔انصاف کاتقاضا بھی یہی ہے کہ بہترین احتساب کیا جائے ۔انسان کی جبلت ہے کہ طاقتور کمزور پر غالب آجاتا ہے۔لہذا معاشرےمیں امن و امان قائم رکھنے او ر کمزوروں کے تحفظ کے لئے طاقتور کا احتساب ضروری ہے۔یہ احتساب کی ہی شکل تھی کہ جب حضرت عمر ؓ سے پوچھا گیا کہ آپ نے جو کرتا پہنا ہوا ہے یہ ایک کپڑے سے تو نہیں بنتا۔جس پر حضرت عمرؓنے وضاحت کی کہ یہ میرا اور میرے بیٹے کا حصہ ہے۔آج دنیا کے جو ترقی یافتہ ممالک ہیںوہاںماضی میں بادشاہت کا دور رہا ہے ۔مگر آہستہ آہستہ عوام نے ان کا احتساب شروع کیا اورا ختیارات عوام کے پاس لے آئے۔برطانیہ میں میگنا کارٹا کی مثال پوری دنیا کے سامنے ہے۔جہاں پر انسانی تاریخ میں پہلی بار بادشاہوں سے اختیارات عوامی نمائندوں کو منتقل ہوئے اور اس پر باقاعدہ ایک معاہد ہ کیا گیا۔ جو800سال بعد آج بھی برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈ میں اصلی حالت میں موجود ہے۔جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے ۔ہم نے احتساب کے مختلف طریقے اپنانے شروع کئے۔سب سے پہلے 1947میں اینٹی کرپشن ایکٹ پاس ہوا۔جس کی ذمہ داری سرکاری افسران کا احتساب کرنا تھی۔پھر1959میں ایوب خان

نے (EBDO)Elected Bodies Disqualification ordinanceمتعارف کرایا ۔جس میں منتخب نمائندوں کا احتساب شروع کیا گیا۔ایوب خان اور یحییٰ نے مل کر 1200سو سے زائد سول افسران کو گھر بھیجا۔یہ بھی احتساب کا ایک طریقہ تھا۔بھٹو صاحب نے بھی اسی سلسلے کو آگے بڑھایا۔1974میں بھٹو ایف آئی اے ایکٹ میدان میں لے آئے۔ جس کے دیگر ٹارگٹ میں سے ایک احتساب کرنا بھی تھا۔ایف آئی اے کو کرپشن کے خلاف میدان میں اتارا گیا۔پھر90کی دہائی میں احتساب کمیشن قائم ہوا۔مگر بدقسمتی سے محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف کی حکومتوں کی آئے دن آنیوں جانیوںنے اس کمیشن کو بھی متنازع بنادیا۔ جلد ہی یہ کمیشن اپنی افادیت کھو بیٹھا۔پھرنیب متعارف کرایا گیا۔شروع شروع میں تو اس ادارے کا مقصد محض سیاسی معاملات کو ٹھیک کرنا رہا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بہتری آتی رہی۔ تاہم قومی احتساب بیورو میں ایسی تبدیلی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ،جیسی موجودہ چیئرمین نیب کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ہوئی ہے۔
جب جسٹس جاوید اقبال نے چیئر مین نیب کا منصب سنبھالا اور کہا کہ" احتساب سب کے لئے" تو مجھے ان کے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کے حلف اٹھانے کا وقت یاد آگیا۔جسٹس جاوید اقبال نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد پیغام دیا تھا کہ ’’انصاف سب کے لئے‘‘۔جسٹس جاوید اقبال کی انصاف کے لئے خدمات کو سب جانتے ہیں۔اس مرد طرح دار کا ہمیشہ شیوہ رہا کہ چاہے آسمان ہی کیوں نہ گرے مگر انصاف فراہم کرنا ہے۔چالیس سال کے طویل عدالتی کیرئیر میں اس شخص کے کردار اور ساکھ پر کوئی بھی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔مجھے یاد ہے کہ جب جسٹس جاوید اقبال ایبٹ آباد کمیشن کی سربراہی کررہے تھے تو گاہے بگاہے خبر کی تلاش میں جانے کا اتفاق ہوتا تھا۔چونکہ مجھے ای او بی آئی کرپشن اسکینڈل کے از خود نوٹس کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان نے عدالتی معاونت کے لئے طلب کیا ہوا تھا۔ایک مرتبہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں سے ای او بی آئی کرپشن اسکینڈل کی سماعت میں معاونت کرنے کے بعد باہر نکلا توشاہراہ دستور پرقائم ایک اور بلڈنگ میں چلا گیا۔مجھے پتہ چلا ایبٹ آباد کمیشن کی تحقیقات کرنے والے جسٹس جاوید اقبال نے کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے 61لاکھ فیس بھی چارج کرنے سے انکار کردیااور شکریے کے ساتھ چیک واپس کردیا۔بلکہ معاملہ صرف یہیں نہیں رکتا، یہ فرشتہ صفت منصف لاپتہ افراد کمیشن کے صدر کی حیثیت سے بھی ایک روپیہ وصول نہیں کررہا۔بلکہ گزشتہ دنوں نیب ہیڈ کوارٹر جانے کا اتفاق ہوا تو ایک اہلکا ر بڑے غصے میں کہنے لگا کہ ایسا چیئر مین آیا ہے جو اپنا کھانا بھی ذاتی لنچ باکس میں ڈلوا کر گھر سے لاتا ہے، نہ خود سرکار کا ایک روپیہ خرچ کرتا ہے اور نہ کسی کو کرنے دیتا ہے۔بہر حال ہم جب کسی غلط کام پر تنقید کرتے ہیں تو کسی شریف آدمی کے بڑے عمل کی تعریف بھی کرنی چاہئے۔بہت سے لوگوں کو جسٹس جاوید اقبال سے شکوے ہونگے مگر اس آدمی نے منصب پر بیٹھ کر ثابت کیا ہے کہ انصاف ہو نہیں رہا بلکہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔
نیب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے افسران پر اس شخص نے گرفت مضبوط کی۔کئی سینئر افسران اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے آئی اوز کے خلاف محکمانہ تحقیقات جاری ہیں۔بلکہ عمومی تاثر ہے کہ جو معاملہ جسٹس جاوید اقبال تک پہنچ جائے ،اس میں ممکن ہی نہیں کہ ناانصافی ہوجائے۔یہ نیب کی بڑی کامیابی ہے کہ اس نے اب تک قوم کے تقریباً296 ارب روپے بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔یہ موجودہ چیئر مین کی کوششیں ہی ہیں کہ آج کا نیب ایک متحرک ادارہ بن چکا ہے۔ چیئر مین نیب کی ہر مہینے ہونے والی کھلی کچہری کے بھی بہت مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔مگر ابھی بہت سفر کرنا باقی ہے۔جسٹس جاوید اقبال کی دیانتداری اور محنت نے نیب کو ایک ٹریک پر تو ڈال دیا ہے۔لیکن بہتری کی گنجائش ہر وقت باقی رہتی ہے۔اگر نیب کے تمام افسران جسٹس جاوید اقبال کی روش کو اپنا لیں تو ادارے کی نیک نامی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔جسٹس جاوید اقبال دن رات اپنے حصے کا تو کام کررہے ہیں مگر کرپشن کے دائمی خاتمے اور انصاف سب کے لئے کی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہر افسر کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔بہرحال جسٹس جاوید اقبال جیسے ججز پر یہ قوم فخر کرسکتی ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں