آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


 بنگلہ دیش میں بس کے حادثے میں دو نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد ڈھاکا میں طالب علموں کا احتجاج پرتشدد صورتحال اختیار کرگیا ، حکومت کی جانب سے مظاہرین کیخلاف کریک ڈائون کے فیصلے کے بعد حالات خراب ہوگئے ۔

حکومت نے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر 24 گھنٹوں کے لیے موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے اور طالب علموں سے اپیل کی ہے کہ وہ دوبارہ تعلیمی اداروں میں چلے جائیں۔

سوشل میڈیا پر جاری تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سلاخوں اور خنجروں سے مسلح عوامی لیگ کے غنڈوں نے احتجاجی طلباء اور احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں سیکڑوں طلباء اور صحافی زخمی ہوگئے ، بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق حکومت کی حامی طلباء تنظیم چھاترا لیگ کے غنڈوں نے احتجاجی طلباء اور صحافیوں پر حملے کئےجبکہ پولیس نے بھی مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کی شیلنگ کی ۔

انٹرنیٹ پر پابندیوں کے باوجود بڑے پیمانے پر ایسی تصاویر جاری کی گئیں جس میں چھاترا لیگ کے غنڈے مظاہرین پر تشدد کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں گذشتہ اتوار کو ایک تیز رفتار بس نے ایک لڑکے اور لڑکی کو کچل کر ہلاک کر دیا تھا اور اس کے بعد طالب علموں نے سڑکوں پر ٹریفک کے حفاظتی معیار کو بہتر بنانے کے لیے احتجاج شروع کیا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

بین الاقوامی خبریں سے مزید
ویڈیو رپورٹس سے مزید
دنیا بھر سے سے مزید
دنیا بھر سے سے مزید