آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گزشتہ کالم ”اعصابی بیماری میں مبتلا قوم“ کا رسپانس حیران کن ہے متعدد سویلین اور خاکی پوش دوستوں نے اپنے اپنے انداز سے تبصرے کئے۔ تلخ بھی، ترش بھی اور کہیں کہیں ستائش کی چاشنی بھی۔ سب کی باتیں دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ وزنی بھی ہیں۔ عرض کیا، یہ نکات میرے ذہن میں بھی آئے تھے مگر سب کو ایک محدود کالم میں سمو دینا ناممکن تھا۔ سو یار زندہ صحبت باقی، اس پر بات بعد میں کریں گے۔ آیئے آج آپ کو آپ کے پرائمری اسکول لے چلوں، جہاں دانش کی بنیادی باتیں سکھائی جاتی تھیں مثلاً میری ابتدائی درسگاہ کی ایک دیوار پر نہایت خوش خط لکھا تھا ”پہلے تولو پھر بولو“ اور ہمارے ایک ہم درس نے بڑی معصومیت سے استاد سے پوچھا تھا ”منشی جی! بات کو تولا کیسے جاتا ہے؟“ اور منشی جی کی وضاحت نے ذہن کو ایسا منور کیا تھا کہ روشنی کی رمق آج تک موجود ہے۔ ہائی اسکول میں گئے تو دانش کے ان ٹوٹکوں کی تعداد بڑھ گئی اور زبان بھی بدیسی ہوگئی۔ اب Think before you speak کے ساتھLook before you leap کا اضافہ بھی ہوگیا۔ ایک دن کلاس ٹیچر نے ایک اور عجب کہہ سنائی کہ قدرت نے ہمیں دوکانوں کے ساتھ ایک زبان اس لئے عطا کی ہے کہ دوسنو تو جواب میں صرف ایک کہو بلکہ اگر ایک بھی نہ کہو تو اور بھی اچھا ہے کیونکہ انسان کا بھرم بنا رہتا ہے۔ بھرم والی بات کا عقدہ بھی جلد ہی کھل گیا، جب فارسی کے

استاد نے شیخ سعدی کا معروف زمانہ قول کہہ سنایا”تا مرد سخن نگفتہ باشد، عیب و ہندش نہفتہ باشد“ یعنی جب تک انسان بات نہیں کرتا، اس کی خامیاں اور خوبیاں چھپی رہتی ہیں۔
دسویں جماعت میں آئے تو درس کے بعد کی گپ شپ میں استاد نے دانش کا ایک ایسا خزینہ لٹا دیا کہ آج تک توانگری محسوس ہو رہی ہے فرمایا ”آدمی کہہ کر پچھتا سکتا ہے، نہ کہہ کر کبھی نہیں پچھتاتا اور اس کے برعکس خرچ کرکے کوئی کبھی نہیں پچھتایا، البتہ نہ کرکے پچھتاوا ہوسکتا ہے کہ کاش میں اس وقت چند ٹکوں کی بچت نہ کرتا۔ کالج میں آئے تو پولیٹکل سائنس کے پروفیسر نے بتایا ہی نہیں، نوٹ کرنے کو بھی کہا کہ Judges speak through their judgements یعنی جج اپنے فیصلوں کے ذریعے بولتے ہیں اور یہ بھی کہ اعلیٰ عدالتوں کے جج بالعموم مقامی اخبار نہیں پڑھتے۔ مبادا کوئی خبر کسی مقدمے کے بارے میں اعلیٰ سوچ پر اثر انداز ہو جائے۔
جب فیصلہ صادر ہوگیا کہ مجرم قبیح فعل کا مرتکب ہوا ہے اور سنگساری کا مستوجب ہے تو ہجوم کی طرف منہ کرکے اس نے بلند آواز میں کہا تھا۔ ضرور، ضرور میری ہڈیوں کو ریزہ ریزہ کردو اور گوشت کا قیمہ بنا دو مگر پہلا پتھر وہ پھینکے جو خود کبھی اس گناہ کا مرتکب نہ ہوا ہو اور مجمع کو گویا سانپ سونگھ گیا تھا۔ وطن عزیز کے چاروں موقر ادارے، جنہیں ریاست کے ستون ہونے کا دعویٰ بھی ہے، ایک دوسرے پر پتھر اٹھانے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیا کریں کہ پروہت کوئی بھی نہیں ہے، غلطیاں سب سے ہوئی ہیں تو باہم طعن و تشنع چہ معنی دارد؟ ستونوں کیلئے ویسے بھی اپنی جگہ پر جم کر رہنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ عمارت کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں اور اپنی حدود سے باہر نکل کر اوپر ہٹ کرنا ایفورڈ نہیں کرسکتے۔ ماضی میں اگر ایسا ہوتا رہا تو نتائج سب کے سامنے ہیں اور اگر خدا نخواستہ آئندہ بھی ایسا ہوا تو اجتماعی خود کشی کے مترادف ہوگا کیونکہ بریدنگ سپیس (breathing space) ختم ہو چکی اور مزید غلطیوں کی گنجائش نہیں رہی۔دو نسلیں تو اس مارا ماری کی نذر ہوچکیں۔ کیا یہ سلسلہ کہیں روکنا ہے یا نہیں؟کیا، ماضی پر ؟؟؟ کہنا ہے یا نہیں؟ کیا نئے سفر کا آغاز کرنا ہے یا نہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے جو کہ یقیناً ہے تو پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے ایک کلین سلیٹ اور مشاورت کے ساتھ سب کو مل کر آگے بڑھنا ہے۔ رینک اور پروفائل میں ٹکراؤ کی باتیں بچگانہ ہیں۔ کیا کبھی ناخنوں سے ماس بھی الگ ہوا ہے؟ فوج کا نظام ہی کچھ ایسا ہے کہ ہر کوئی ٹاپ تک نہیں پہنچ سکتا۔ آدھے سے زیادہ میجر تک ہی فارغ ہو جاتے ہیں مگر فوج کے ساتھ وفاداری، اپنائیت اور اونرشپ کے معاملے میں وہ کسی جنرل سے کم نہیں ہوتے اور اس قسم کے بچگانہ تجزیات کہ اصل لوٹ مار تو سینئر افسر کرتے ہیں جن کے شہروں میں ولاز اور پلازے ہوتے ہیں جبکہ جونیئر افسر بیچارے تو ریٹائرمنٹ کے بعد آبائی گاؤں سدھار جاتے ہیں، وہیں روکھی سوکھی کھاتے ہیں، مرتے ہیں اور دفن ہوجاتے ہیں، جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ ایسے تجزیات کرنے والوں کا دھیان سویلین بیورو کریسی کی طرف کیوں نہیں جاتا؟ اور وہ کیوں نہیں سوچتے کہ ادھر بھی تو وہی کچھ ہو رہا ہے۔ گریڈ بیس سے اوپر کے کم و بیش سبھی افسران بھی تو ریٹائرمنٹ کے بعد آبائی علاقوں کو نہیں لوٹتے اور ان کی اکثریت بھی تو اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں سما جاتی ہے۔
فی الواقع اس میں جونیئر، سینئر یا سول اور خاکی کی تفریق نہیں۔ یہ سب مواقع اور وسائل کا کھیل ہے۔ جس کو میسر آگئے، اس کے وارے نیارے ہوگئے۔ بعض کپتان اورمیجر بھی اسلام آباد راولپنڈی کے پوش علاقوں کے مکین ہیں اور بعض جنرل بھی آبائی جگہوں کی جانب لوٹ چکے یا پھر یہ درفطنی کہ سپاہی اور جے سی اوز تو اچھے ہیں اور ہمارے اپنے لوگ ہیں، اصل مسئلہ کمیشنڈ افسروں کا ہے، اس قدر بودی ہے کہ سرے سے لائق توجہ ہی نہیں۔ ایک صاحب نے منطق جھاڑی کہ بستی بستی شہیدوں کی جو نعشیں آ رہی ہیں وہ ہمارے اپنوں کی ہیں، جن کی قربانیاں بے مثل ہیں، ان کا سینئر افسروں سے کیا تعلق؟ اس فضول استدلال کو ربش (Rubbish) کے سوا اور کیا نام دیا جاسکتا ہے؟ اس قبیل کے لوگ چند برس پیشتر ساری توانائیاں جمہوری حکومت اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کرنے اور اسے وسعت دینے میں رات دن ایک کئے ہوئے تھے کہ فوج تو بہت اچھی ہے، ملکی تعمیر و ترقی میں رات دن ایک کئے ہوئے ہے جبکہ سول حکومت کو اللوں تللوں سے فرصت نہیں۔
دو سابقہ آرمی چیفس سمیت درجن بھر اعلیٰ فوجی افسروں کی مبینہ بدعنوانیوں کی داستانوں نے ملک کے اندر ہیجانی کیفیت پیدا کررکھی ہے۔ این ایل سی کیس میں تین سابقہ جرنیلوں کے کورٹ مارشل کی کارروائی شروع ہوئی اور انہیں وردی پہنا کر آرمی رول پر لیا گیا تو ضابطہ سے نابلد حلقوں کی طرف سے طعن ہوئی کہ اپنوں کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔ بات سیدھی سی ہے کہ ضوابط کی بندی سپاہ کو وہی کچھ کرنا ہے جو قانون کہتا ہے اور قانون پارلیمنٹ بناتی ہے۔جسے چاہئے کہ آرمی ایکٹ کو ری وزٹ کرے۔ مناسب قانون سازی کرکے ریٹائرڈ فوجیوں کو سویلینز قرار دیا جاسکتا ہے۔ اصغر خان کیس میں سیاستدانوں کو فنڈز کی تقسیم کو سپریم کورٹ پہلے ہی سابقہ جرنیلوں کا انفرادی فعل قرار دے چکی۔ سو سویلین کھاتے سے پنشن پانے والے ریٹائرڈ فوجیوں کو دیگر سب مقاصد کیلئے بھی سویلین قرار دینا مشکل نہیں رہا۔
آرمی چیف کے حالیہ بیان کے حوالے سے عجب صورت حال سامنے آئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے ریلیز کے باوجود ہر کوئی اس کی اپنی تاویل کررہا ہے۔ سو جتنے منہ اتنی باتیں، اور ایسی ایسی دور کی کوڑی لائی جا رہی ہے کہ دوستوں کی ذہنی پرواز پر رشک آتا ہے اور تو اور جنرل (ر) اسلم بیگ نے بھی گہرے خطرات کی بو سونگھتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ فوری اپنا کردار ادا کرے ورنہ سیاسی بساط الٹ دی جائے گی۔ افواج پاکستان اور سپریم کورٹ کے مابین بدگمانیوں نے خطرناک صورت حال پیدا کر رکھی ہے اور جو کچھ پچھلے پانچ برسوں میں حاصل کیا، یک لخت ختم ہوسکتا ہے۔ جنرل کیانی قوم پر رحم فرمائیں، مذکورہ بیان کو خود ہی ڈی کوڈ کردیں ورنہ اندھے، ہاتھی کے جسم و جثہ کی تفصیل اپنے اپنے انداز میں بیان کرتے رہیں گے۔ جس کے ہاتھ جو عضو آیا، ظاہر ہے اس کے لئے تو وہی مکمل ہاتھی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں