آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روسی میڈیا کی یہ خبرفروغ پذیر پاک روس تعلقات میں ایک اہم پیشرفت کی نشاندہی کرتی ہے کہ روس نے پاکستان کو ایس یو 35لڑاکا طیاروں کی پیشکش کی ہے۔ اس سے قبل روس پاکستان سے ایم آئی 8اور ایم آئی 17ہیلی کاپٹروں کی فراہمی میں تعاون کر رہا ہے۔ پاکستان کے فوجی طیاروں کا بیڑا اس وقت زیادہ تر امریکی اور چینی طیاروں پر مشتمل ہے جبکہ اس کے اردگرد کے حالات خصوصاًافغانستان میں جاری خانہ جنگی اور بھارت کی اندھا دھند اسلحہ اندوزی اس امرکا تقاضا کرتی ہے کہ وہ نہ صرف خود اسلحہ سازی پر بھرپور توجہ دے بلکہ قابل اعتماد غیر ملکی ذرائع کو بھی بروئے کار لائے۔بین الاقوامی تعلقات اور سٹریٹیجک سٹڈیز کے ماہرین کے مطابق پاکستان نے اپنے قیام کے فوری بعد روس کو نظر انداز اور امریکہ پر تکیہ کرکے بہت بڑی غلطی کی تھی تاہم چین سے تعلقات کی صورت میں اس کا ازالہ کر کے اپنی خارجہ پالیسی کو بہتر سمت دی۔ امریکہ سے دوستی روس کی قیمت پر کی گئی جس کا نتیجہ 1971میں ملک کے دولخت ہونے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ امریکہ ہمارے کسی کام نہ آیا۔ آج امریکہ پاکستان کو دولخت کرنے والے ملک بھارت کا سب سے بڑا سرپرست ہے اور پاکستان کو مختلف حوالوں سے زک پہنچانے کی کوششوں میں سب سے آگے ہے۔ جبکہ پاکستان اور روس ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ لیکن بھارت اب بھی

روسی اسلحہ کا سب سے بڑا خریدارہے۔ اس کے اسلحہ کے انبار میں 75فیصد ہتھیار روس ہی کےفراہم کردہ ہیں۔ باقی 25 فیصد اسلحہ وہ امریکہ اسرائیل اور یورپی یونین سے حاصل کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کو اسلحہ کا سب سے بڑا سپلائر چین ہے جبکہ امریکہ دوسرے نمبر پر ہے۔ تاہم جب سے امریکہ نے بھارت سے پینگیں بڑھائی ہیں،اس نے پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد میں مسلسل کٹوتی شروع کردی ہے اور اب یہ امداد زیادہ ترعلامتی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ بھارت سے قربت کی وجہ سے ماضی میں روس نے اکثر پاکستان کے ساتھ منافع بخش سودوں کو رد کیا مگر بھارت کی طوطا چشمی کی وجہ سے اب اس نے پاکستان سے تعلقات کو اہمیت دینا شروع کی ہے جو اس خطے کے امن و خوشحالی کے لئے ناگزیر ہیں۔ اس کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر اس نے پاکستان سے تعاون نہ بڑھایا تو اس کی مارکیٹ پر چین جنوبی کوریا،ترکی اور بعض دوسرے صنعتی ملکوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ اس کی یہ سوچ اس تجارتی جنگ کا حصہ ہے جو اس وقت امریکہ اور چین میں زور شور سے جاری ہے اور دوسرے ممالک بھی اس کی لپیٹ میں آرہے ہیں ۔ ایسے وقت میں جب ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سرتوڑ کوشش کے باوجود افغانستان میں دہشت گردی ختم نہیں ہو پائی اور ہزاروں جانوں کی قربانی اور اربوں ڈالر کے مالی نقصانات کے باوجود پاکستان اب بھی کے اس کے منفی اثرات سے پوری طرح محفوظ نہیں ہو سکا اور دوسری طرف بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی اور کنٹرول لائن پر مسلسل جارحیت کے ساتھ ساتھ سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے گلگت بلتستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے،پاکستان کی نئی حکومت کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ ملک کی بے جان خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرے اور آزمائے ہوئے دوستوں پر زیادہ انحصار کرنے کی بجائے قوموں کی برادری میں ایک امن پسند ایٹمی قوت کے طور پر پاکستان کی شناخت کرائے اور ماضی میں جن ممالک کے ساتھ کسی نہ کسی سبب باہمی رشتے زیادہ مضبوط نہ ہو سکے ان پر خصوصی توجہ دے۔ چین وسط ایشیا اور دوسرے خطوں میں بہت سے ممالک سے باہمی مفاد کی بنیاد پرہمارے بہت اچھے تعلقات استوار ہیں۔ دوستی اور تعاون کے رشتوں کا یہ دائرہ ان ملکوں تک بھی بڑھایا جانا چاہئے جن پر ماضی کی حکومتوں نے ضرورت کے مطابق توجہ نہیں دی۔ دنیا اب گلوبل ویلج بن چکی ہے،ایسے میں کوئی ملک تنہا ترقی کرسکتا ہے نہ اپنا وجود قائم رکھ سکتا ہے،ہمیں اپنی قومی سلامتی اور معاشی خوشحالی کے لئے داخلی ترجیحات پر توجہ کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی کو بھی بامقصد اور جاندار بنانا چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں