آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جب بے نظیر صاحبہ کی حکومت گرائی گئی، میں پرائمری اسکول کا طالبعلم تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے والد صاحب جواپنی جوانی میں ذوالفقار علی بھٹو کے رومانس میں مبتلا ہوئے ،اسی طرح جس طرح آج کا نوجوان عمران خان کا شیدائی بن چکا ہے،کئی دن بجھے بجھے سے رہے،شائدکچھ دن علیل بھی رہے۔وہ ایک عام نوکری پیشہ پاکستانی تھے، نہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق تھا نہ اسٹیبلشمنٹ کی ریشہ دوانیوں سے کوئی واسطہ، وہ تو پی ٹی وی کے نو بجے والے خبرنامے کو ”خبریں“ سمجھنے والے ایک عام شہری تھے۔لیکن پھر بھی ایک بے چینی تھی ، ایک اضطراب تھا، جوان کے چہرے پر عیاں تھا۔اتنی بات تو وہ بھی سمجھ گئے تھے کہ بے نظیر صاحبہ کی حکومت ضیاء دور کی باقیات نے غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر ختم کی ہے۔ وہ اور ان جیسے لاکھوں پاکستانی جنہوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دے کی پانچ سال کیلئے حقِ حکمرانی دیاتھا، محسوس کر رہے تھے کہ ان کے دےئے گئے مینڈیٹ کو روند دیا گیا تھا۔
جنرل اسلم بیگ کا نام اس زمانے میں اکثر سننے میں آتا تھا۔اس بات کو زمانہ بیت گیا۔ جب میں یونیورسٹی پہنچا اور سیاسی موضوعات میں دلچسپی بڑ ھنا شروع ہوئی تواکثر جمہوریت کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے لا حق خطرات کا ذکرسننے میں آتا۔ مجھے بڑا تجسس ہوتا کہ آخر یہ اسٹیبلشمنٹ کس بلا کا نام ہے ہر کوئی

اسکا ذکر تو کرتا ہے لیکن کوئی وضاحت نہیں کرتا کہ اسٹیبلشمنٹ ہوتی کیا ہے۔ یہ جنرل مشرف کا غیر آئینی دور تھااور وہ اپنے اقتدار کے عروج پر تھے۔اسی دوران پرائیویٹ ٹی وی چینلز آنا شروع ہوئے ۔ ملک کا سیاسی ماحول تھوڑا سا کھلنا شروع ہوا تو کبھی کبھار کسی ٹاک شو میں اسٹیبلشمنٹ کی تعریف سننے کو مل جاتی ،لیکن کوئی بھی واضح طور پر بیان نہ کرتا کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کیا ہوتی ہے۔کرتا بھی کیسے ، صدیق الفاروق اور رانا ثنا ء اللہ کے اغواء اور بال اور مونچھیں منڈھنے جیسے واقعات اسی کھلے ہوئے سیاسی ماحول میں رونما ہورہے تھے(اُس وقت بھی جہانگیر اشرف قاضی کا نام لیا جا رہاتھا، جو آجکل اپنی خوش گفتاری کی وجہ سے میڈیا میں کافی زیرِ بحث ہیں)۔
قدرت بڑی کارساز ہے ۔ جو شخص اپنی ذات سے بالا تر ہو کر اپنی ہر چیز کسی اعلی اور ارفع مقصد کیلئے وقف کر دیتا ہے، قدرت بھی اسکا بھرپور ساتھ دیتی ہے۔قدرت ایسے شخص کے ماضی کی غلطیوں کو بھی فراموش کر دیتی ہے۔مجھے نہیں پتہ کہ جسٹس افتخار چوہدری کو انسپائریشن کہاں سے ملی، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ عمران خان کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ کون سا تھا، لیکن جب ان دونوں شخصیات نے اعلی تر مقاصد کیلئے کام شروع کیا تو قدرت نے ان کو اپنے چہیتوں کی فہرست میں شامل کرلیا اور مشکل سے مشکل کام ان کے ہاتھوں پایہ تکمیل تک پہنچنے لگا۔ جسٹس افتخار چوہدری ہر لحاظ سے ایک ”عام“ یا ”ایورج“ جج تھے ، ماضی میں ان سے بھی وہ تمام لغزشیں سرزد ہوئیں جو پاکستان میں ”عام“ ججوں سے سرزد ہوتی آئی ہیں۔ اسی طرح عمران خان کا طرزِ عمل بھی ایسا رہا ہے جس کی ایک عالمی سطح کے سپر اسٹارسے توقع کی جاسکتی تھی، لیکن پھر ان شخصیات کی زندگیوں میں انقلاب آیا، انہوں نے اپنے آپ کو اپنے وطن کی ترقی، اپنے لوگوں کی بھلائی اور اعلی اخلاقی اقدار کی پاسداری کیلئے وقف کردیا۔ قدرت نے ان کی بدولت پاکستان کو آج درست سمت میں ڈال دیا ہے۔اسی طرح اصغر خان اور اس کیس سے وابستہ رہنے والے وکیل وہاب الخیری کو اللہ نے اتنا حوصلہ دیا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سپریم کورٹ میں چلے جائیں اور پھر سال ہا سال اس کیس کے فکس ہونے کا انتظار کرتے رہیں۔
سولہ سال بیت گئے لیکن کسی جج میں اتنا اعتماد نہ تھا کہ وہ اتنے عرصے سے لٹکے ہوئے اس انتہائی اہم کیس کو سن سکے۔ 2012 اپنے ساتھ وہ گھڑ ی لیکر آیا جب اصغر خان اور عمران خان کی اصول پسندی دونوں کو اتنا قریب لے آئی کہ اصغر خان صاحب نے اپنی جماعت کو تحریکِ انصاف میں ضم کر دیا۔ میں اس تقریب میں موجود تھا جہاں عمران خان نے اصغر خان کی موجودگی میں چیف جسٹس سے اپیل کی کہ وہ اس کیس کو سماعت کیلئے فکس کریں۔اللہ نے ہمت دی اور سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت شروع کر دی اور چند مہینے میں فیصلہ بھی سنا دیا۔مجھے اس ساری صورتحال کا ایک بہت بڑا فائدہ ہوا ، مجھے با لآخر سمجھ آ گئی کہ اسٹیبلشمنٹ کیا ہوتی ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے یہ دن دکھایا کہ آج میں اس اسٹیبلشمنٹ کو کٹہرے میں دیکھ رہا ہوں جس کی وجہ سے میں نے اپنے مرحوم والد کی علالت دیکھی تھی۔حیران کن بات یہ ہے کہ اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی سازشیں جب کھل کر سامنے آ چکیں، تو وہ آج کی اسٹیبلشمنٹ کو وہی غیر آئینی اور غیر اخلاقی اقدامات کرنے کیلئے اکسا رہی ہے، جس کی پاداش میں اُسکو خود یہ دن دیکھنے پڑے ہیں۔ اس دور کی اسٹیبلشمنٹ کی مجسم صورت گری جنرل اسلم بیگ کے روپ میں سامنے آئی ہے۔موصوف کے خلاف پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ آ چکا ہے لیکن وہ آج بھی 1985 ء کے زمانے میں زندہ ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بیس پچیس سال میں پاکستان کی ارتقائی تبدیلیوں سے وہ بالکل بے خبر ہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ آج کا پاکستان سیاسی، صحافتی یا قانونی اعتبار سے بہت قابل رشک ہے، لیکن درست سمت میں کم از کم کچھ مسافت تو طے ہوئی ہے۔میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آئینی راستے ہی میں پاکستان کی بقاء ہے اور ماضی میں جس جس نے بھی اس راستے میں کانٹے بچھانے کی کوشش کی ہے اس کی گرفت ہونی چاہئے۔
بیگ صاحب کی ”نیشنل سیکیورٹی“نے ایک عام پاکستانی ووٹر کے اعتماد کو کس بری طرح مجروح کیا تھا،انہیں شائد اس بات کا اندازہ نہیں ہے۔اس زمانے میں بہت کچھ غلط ہوا اور ان غلطیوں میں بہت سے کردار ملوث تھے، ان سب کو بے نقاب ہونا چاہئے۔اس حوالے سے جنرل صاحب کی ”ادارے کی بدنامی ہوگی “والی دلیل میری سمجھ سے بالا تر ہے ۔ اگر کسی غیر قانونی کام میں بہت سے فوجی افسران اور بہت سے سیاستدان ملوث ہوں تو کیا ان سب پر صرف یہ کہہ کر پردہ ڈال دینا چاہئے کہ ادارے کی بدنامی ہوگی۔آپ خود سوچئے کہ غیر قانونی کام کرنے والوں پر بیگ صاحب کے پردہ ڈالنے سے ہماری افواج اور ہمارے سیاستدانوں کی کتنی بدنامی ہوئی۔اگر بیگ صاحب اس وقت کی وزیر اعظم کا حکم ماننے سے انکار نہ کرتے اوردونوں اداروں میں خلافِ قانون کام کرنے والے لوگوں کو سامنے لے آتے تو شاید وہ خود بھی آئین توڑنے جیسے جرم کے ارتکاب سے بچ جاتے۔اسی طرح جنرل صاحب کی
دوسری دلیل بھی میری ناقص رائے میں بے وزن ہے کہ صدر غلام اسحاق خان کے ”قانونی حکم “کی بجا آوری کر رہے تھے۔پہلی بات تو یہ کہ بیگ صاحب خود ایسی بہت سی باتیں میڈیا کے سامنے بتا چکے ہیں ، جن سے صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ بے نظیر صاحبہ کے واقعتاً قانونی احکامات کو بھی در خورِ اعتنا نہیں سمجھتے تھے اور اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق ہی ہر کام کرتے تھے۔
ان کی شہرت بالکل بھی ایسی نہیں رہی کہ وہ قانونی احکامات کی ہر صورت پابندی کرتے ہوں۔دوسرے ایک سیاسی جماعت کو نقصان پہنچانے کیلئے دیگر نو جماعتوں کا اتحاد بنوانا اور ان میں رقوم تقسیم کرنا کہاں کا ”قانونی حکم“ تھا۔کیا جنرل اسلم بیگ پاکستان کے آئین اور اس میں متعین فوج اور ریاستی ملازمین کے کردارسے اتنے ہی نا بلد تھے؟
اصل بات دراصل دوسری تھی۔ جنرل ضیاء صاحب کے طویل غیر آئینی دورِ حکومت کے دوران ہماری افواج ، سول نوکر شاہی اورسیاست سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ کے دلوں سے آئین اور قانون توڑنے کی سزا کا خوف ختم ہو چکا تھا۔اس گروہ کے لوگوں کو ایک دوسرے کی کثر ت سے شہ مل رہی تھی، یہ لوگ بھول گئے تھے کہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی اس صورت میں بھی خلاف ورزی ہی رہتی ہے جب آپ کے ارد گرد بہت کثیر تعدادمیں لوگ اس کے مرتکب ہو رہے ہوں۔جنر ل صاحب کی تیسری دلیل پہلے دو دلائل سے بھی کمزور ہے کہ ان کے خلاف کارروائی سے پاک افواج کے شہدا ء کی توہین ہوگی۔سچ تو یہ ہے کہ ہماری تاریخ میں چندجرنیلوں کی طرف سے منتخب وزیراعظم کے قانونی احکامات کی حکم عدولی دراصل ان ہزاروں شہداء کے لہو کی توہین ہے جنہوں نے اپنی جانیں دے دیں لیکن اپنے اعلی حکام کے احکامات کی حکم عدولی نہیں کی، ان پر بندوقیں نہیں تانیں۔
جنرل صاحب کو چاہئے کہ کھلے دل سے اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں ،ان پر پچھتاوا کریں اور خود کو قانون اور آئین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔پچھتاوا اور سزا انسان کی غلطیوں کی تطہیر کرتے ہیں۔ان کے پاس آج بھی ایک موقع ہے کہ ادارے اور شہداء کے خون کی اوٹ میں اپنی غلطیوں کو چھپانے کی بجائے،جرأت مندانہ فیصلہ کریں اور تاریخ میں اچھے لفظوں سے یادکئے جائیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں