آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بعض مذہبی جماعتوں کیلئے موجودہ سیاسی مشکلات سےنمٹنامشکل ہو رہا ہے اور گزشتہ دوانتخابات میں ان کی یکےبعد دیگرےشکست نےووٹرزکی حمایت حاصل کرنےکی ان کی صلاحیت پرسنجیدہ سوالات اٹھادیئےہیں۔ کچھ نئےحقائق نے انھیں بدل کررکھ دیاہےان میں وہ گروپس بھی شامل ہیں جنھوں نےماضی میں پارلیمانی طرزِحکومت کومسترد کردیا تھا۔ اگروہ اپنےمتعلقہ پلیٹ فارم سےالیکشن میں حصہ لیں گے تو انھیں مزیدذلت کاسامناکرناپڑسکتاہے۔ انھوں نے اکٹھے متحدہ مجلس عمل کےپلیٹ فارم سےکم ازکم 12 سیٹیں نکالی ہیں اور تقریباً 22ل اکھ ووٹ حاصل کیے۔ جماعت اسلامی ، جمیعت علمائےاسلام اور جمعیت علما ئے پاکستان بھی ملک کی پرانی سیاسی جماعتیں ہیں، یہ ہمیشہ ووٹ اور انتخابات کے ذریعے ملک میں تبدیلی لانے پریقین رکھتی ہیں۔ انھوں نے 1973 کاآئین تیار کرنے میں بھی کرداراداکیا۔ لہذا دیگرسخت گیرموقف والی جماعتوں کےمقابلےمیں ان کی سوچ کافی اعتدال پسندی پرمبنی ہے۔ خاص طورپر جےیوآئی(ف) عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کےپروان چڑھنے کا کوئی جواب دےسکی کیونکہ عمران خان کی شہرت کے علاوہ لبرل جدیدسوچ کےساتھ اس مرکزی جماعت نےجےیوآئی اور مولانافضل رحمان کی لیڈرشپ کو کافی نقصان پہنچایاہے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی کو دو ہرے نقصان کا سا منا ہے۔ ایک طرف

جےیوآئی (ف ) سےہاتھ ملانے پرا سے اندرسے تنقید کاسامنا ہے اور دوسری جانب اس کے ووٹرزکی بڑی تعداد پی ٹی آئی کی طرف چلی گئی۔ 2013 سے 2018تک پی ٹی آئی کے ساتھ مل کرجےآئی نےجوبھی حاصل کیاتھا، وہ سب اس نے گزشتہ الیکشن میں ہار دیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ افغان جنگ کے بعد اور خاص طورپرنائن الیون کے بعد یہ دونوں پارٹیاں مذہبی سیاست میں تبدیل ہوتے ہوئے رجحانات کےساتھ خودکوبدل نہ سکیں۔ نہ صرف انہوں نے مزید شدت پسندی والی سیاست کوفروغ دیا بلکہ القاعدہ طالبان اور القاعدہ کی طرح کی تنظیمیں اورگروپس سامنےآئے جنھوں نےتبدیلی لانے کیلئےالیکشن اور جمہو ریت کےخلاف موقف اپنایا۔ جےآئی شدت پسندی والی سیاست کاشکار زیادہ ہوئی لیکن انھیں خود کواس کاذمہ دار قراردینا چاہیئےکیونکہ وہ اس بیانیے کا حصہ رہے ہیں جس سے اب مزیدا نتہا پسند گروپس سامنےآئےہیں جنھوں نے جےآئی اور جےیوآئی دونو ں کوچیلنج کیاہے۔ جےیوآئی کے رہنما کیوں دہشتگرد حملوں کاشکار ہوئے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انھوں نے الیکشن کےذریعے تبدیلی کی مستقل حمایت جاری رکھی۔ لیکن مذہبی جماعت جس نےایم ایم اےکاحصہ ہونےکےباوجودسب سے زیادہ نقصان اٹھایا وہ جمعیتِ علمائےپاکستان ہے جو 70اور80کی دہائی میں مرحوم مولاناشاہ احمد نورانی اور مرحوم مولاناعبدالستارنیازی کے زیر قیادت قومی سیاست کا حصہ ہواکرتی تھی۔ ان پارٹیوں کو اپنے اندر سنجیدہ نوعیت کی اصلاحات لانی چاہیئے اورسمجھناچاہیئےکہ لبرل یا مرکزی جماعتوں جیسےپی پی پی، پی ایم ایل(ن) یا پی ٹی آئی کی بجائےانھیں اندرونی طورپرسنجیدہ نوعیت کے چیلنجزکاسامناہے۔ تمام عملی مقاصد کیلئےانھیں تحریک لبیک پاکستان نےجوشعلہ بیان خطیب مولاناخادم حسین رضوی کے زیرقیادت ہےاس نےان کی جگہ لے لی ہے، جو 25جولائی کےانتخابات میں پانچویں بڑی جماعت بن کرسامنےآئی، اس پارٹی نے 25لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ اگرچہ اس نےصوبائی اسمبلی کی دو سیٹیں لیں، لیکن اس نے پنجاب میں پی ایم ایل (ن) اور کرا چی میں ایم کیوایم کو کافی نقصان پہنچایا۔ ٹی ایل پی کار جحان مکمل طورپر جےیوپی کی سیاست کے برعکس تھا اور مولانانورانی اور ستارنیازی جیسے رہنمائوں کی غیرموجودگی میں جے یوپی میں تقسیم درتقسیم بھی ایک وجہ ہے۔ یہ امرقابل ذکر ہےکہ ٹی ایل پی نےالیکشن میں اپنی طاقت پر حصہ لیااور کسی اتحاد کاحصہ نہیں بنی نہ ہی انھوں نے کوئی سیٹ ایڈجسمنٹ کی حتیٰ کہ ایم ایم اے جیسے اتحاد کاحصہ بھی نہیں بنی۔ اس سےانھیں ان کی طاقت کااندازہ ہوتا ہےاور مستقبل میں ان کی مدد کرسکتاہے۔ ایک اور رجحان جو مرکزی سیاست میں مذہبی جماعتوں کےپھیلائو میں کردار اداکرسکتاہےوہ ان پارٹیوں اور گروپس کا 2013 تک کایہ فیصلہ تھاکہ الیکشن اور مغربی طرزِ جمہوریت ایک ’غیراسلامی‘ طریقہ ہے۔ وہ اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ انتخابات کے ذریعے تبدیلی لاسکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ میڈیاکیلئےاپنی سیاست اور سوچ میں بہتری لائے ہیں کیونکہ ماضی میں وہ ٹی وی سکرین پرآنے سے گریز کرتے تھے یا فوٹوبنوانے کے بھی خلاف تھے۔ ان میں سے سب سے نمایاں گروپ حافظ سعید کی زیرقیادت جماعت الدعوۃ ہے۔ ماضی میں انھوں نے ایم ایم اے کی جانب سے دعوت ٹھکرادی تھی یا 2013 میں بننے والےانتخابی اتحاددفاعِ پاکستان کونسل کاحصہ بننے سے انکار کیاتھا۔ لہذا جب انھوں نےپہلی بار ملی مسلم لیگ اور بعد میں اللہ ھواکبرتحریک کےخیال کی توثیق کی تو ان کی سوچ میں بھی تبدیلی آئی۔ ان کے اپنےبیٹےطلحہ سعید نے این اے91 سرگود ھا سےالیکشن میں حصہ لیا اور 12ہزارووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے امیدواروں نے مجموعی طورپر 5لاکھ ووٹ حاصل کیے۔ انھوں نےعام نشستوں پر13 خواتین امیدوار بھی کھڑی کیں ان میں سے اکثرکاتعلق مختلف فرقوں سے تھا یہ ایسی بات ہے جو دیگر مذہبی جماعتوں میں نہیں ملتی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں