آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حکومت میں تبدیلی کا مطلب کرکٹ بورڈ میں بھی نیا چہرہ ہوگا

شاہد شیخ

پاکستان کرکٹ کی بہت ساری خوبیوں کے ساتھ ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ ملک میں مارشل لاء لگنے یا عام انتخابات کے نتائج ابھی مکمل بھی نہیں ہوتے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی ممکنہ تبدیلی کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی ہیں اور ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ سوال گردش کرنے لگ جاتا ہے کہ نئی حکومت کے آنے کی صورت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بھی تبدیل ہو جائے گا۔ایسا صرف پاکستان میں ہوتا ہے کرکٹ کھیلنے والے کسی دوسرے ملک میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ انگلینڈ میں تو ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ سرے کائونٹی کرکٹ کلب کا سیکرٹری یا چیئرمین ورلڈ کپ کا میچ دیکھنے کے لئے آنے والے وزیر اعظم جان میجر کے استقبال کے لئے اوول کرکٹ گرائونڈ کے دروازے تک بھی نہیں آیا تھا۔ اور یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پاکستان کے سیاسی ایوانوں میں رونما ہونے والی تبدیلی کے موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تبدیلی کی بھی بات ہو۔ ہم اداروں کے استحکام کی بات کرتے ہیں لیکن پاکستان کی ایک شناخت یہ ادارہ اس قدر غیر مستحکم کیوں ہے۔ 

ماضی میں ہم یہی دیکھتے آئے ہیں کہ جیسے ہی اقتدار میں تبدیلی آئی پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بھی تبدیل ہو گیا۔آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ کی تبدیلی لازم وملزوم ہو چکی ہے۔ اس سوال کا جواب سیدھا سادہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ ہمیشہ سے کسی بھی دوسرے غیرسرکاری عہدے سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے اور برسراقتدار آنے والی جماعت یا حکمران اس عہدے پر اپنی پسند کے شخص کو دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ اس عہدے کو حاصل کرنے کی خواہش بھی ہر کسی کے دل میں رہتی ہے۔ملک میں کئی دوسرے کھیل بھی تو ہیں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ ہی کیوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کرکٹ پاکستان میں سب سے زیادہ ہائی پروفائل کھیل ہے۔ سب سے زیادہ سپانسرشپ نشریاتی حقوق اور میڈیا کوریج اسی کھیل میں رہی ہے اسی لیے کرکٹ بورڈ کی باگ ڈور سنبھالنے والی شخصیت بھی سب سے زیادہ شہ سرخیوں میں رہتی ہے۔حالیہ برسوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے بیشتر چیئرمین سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ 

حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے اگر ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو ٹھوس بنیادوں پر ادارےقائم کریں اور انہیں مقررہ مدت کے لئے کام کرنے دیں ۔کوئی تو حکومت یہ روایت ڈالے۔ نواز شریف کے سابقہ دور میں سینیٹر سیف الرحمٰن کے بھائی مجیب الرحمٰن کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا سربراہ بنایا گیا تھا۔جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے منگلا کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل توقیر ضیا کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا۔ ان کے بعد ڈاکٹر نسیم اشرف پی سی بی کے چیئرمین بنے۔ وہ بھی جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھی تھے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو اعجاز بٹ کو صرف اس وجہ سے پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین نہیں بنایا گیا کہ وہ سابق ٹیسٹ کرکٹر تھے بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ چوہدری احمد مختار سے قریبی رشتے داری تھی۔اعجاز بٹ کے بعد قرعہ فال آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی چوہدری ذکا اشرف کے نام نکلا لیکن 2013 کے عام انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ ن اقتدار میں آئی تو نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے نجم سیٹھی کو کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری سونپ دی گئی جو ان عام انتخابات کے موقعے پر پنجاب کے نگراں وزیراعلیٰ تھے۔

ذکا اشرف نے اپنی برطرفی کو عدالت میں چیلنج کیا لیکن اس تمام تر صورتحال کا ڈراپ سین یہ ہوا کہ شہریارخان پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب ہوئے اور نجم سیٹھی نے ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالا اور جب شہریارخان اپنی مدت پوری کرکے رخصت ہوئے تو نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب ہو گئے۔اب ایک بار قیاس آرائی جاری ہے کہ بورڈ کا نیا چیئرمین کون ہوگا یعنی ہم نے فرض کرلیا ہے کہ تبدیلی تو ہو کر رہنی ہے۔

عمران خان کی عام انتخابات میں کامیابی پر کرکٹرز سب سے زیادہ خوش ہیں جس کا اندازہ ان تصاویر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جن میں سابق اور موجودہ کرکٹرز بنی گالہ میں عمران خان کو مبارک باد دیتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔ سابق کپتان وسیمم اکرم انگلینڈ سے ووٹ ڈالنے کے لئے لاہور آئے تھے جبکہ سابق فاسٹ بولر وقار یونس جو عمران خان سے ملنے سڈنی سے پاکستان آئے۔وقار یونس کا عمران خان سے ایک خاص تعلق اس لیے بھی بنتا ہے کہ جب وقاریونس نے اپنے بین الاقوامی کریئر کی ابتدا کی تو ان کے پہلے کپتان عمران خان تھے۔ وقار یونس بھی عمران خان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا گلہ کیا ہے کہ کچھ حلقے کرکٹرز کے بنی گالہ جانے کو منفی تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ کرکٹرز اس لیے بنی گالہ جارہے ہیں کہ انھیں عہدوں کی ضرورت ہے اور وہ عمران خان سے کچھ لینا چاہتے ہیں۔ یہ سراسر غلط ہے۔ کرکٹرز کو عہدوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم سب عمران خان کے ساتھ کھیلے ہوئے ہیں۔ وہ ہمارے کپتان اور استاد رہ چکے ہیں، ان سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے اسی ناطے یہ ہمارا فرض بنتا تھا کہ ہم ان سے ملاقات کر کے انھیں ان کی کامیابی پر مبارک باد دیں۔‘وقار یونس کو یقین ہے کہ عمران خان کرکٹ کی طرح ملک کی قیادت بھی کامیابی کے ساتھ سنبھالتے ہوئے اسے مشکلات سے نکالیں گے۔وقار یونس کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے کرکٹ میں کبھی بھی ہار نہیں مانی اور نہ ہی وہ سیاست میں حوصلہ ہارے ہیں۔ 

جب وہ کرکٹ میں تھے تو انہوں نے اپنی محنت اور حوصلہ مندی سے خود کو ایک کامیاب آل راؤنڈر اور کپتان ثابت کیا اور اب وہ سیاست میں خود کو ایک ایماندار لیڈر کے طور پر ثابت کرچکے ہیں۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’اس وقت ملک میں صحت، تعلیم، پانی، بجلی اور کئی دوسرے مسائل موجود ہیں۔ اس صورتحال میں ہمیں ایک سچے اور ایماندار لیڈر کی ضرورت ہے اور عمران خان سے زیادہ بہتر شخص اور کوئی نظر نہیں آتا۔ مسائل حل ہونے میں وقت لگے گا لیکن مجھے امید ہے کہ عمران خان کی لیڈرشپ ملک کو ترقی کی طرف لے جائے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں