آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترکی اور پاکستان امریکہ کے دو ایسے اتحادی ممالک ہیں جن کی امریکہ کے ساتھ دوستی اونچ نیچ کا شکار رہتی ہے۔ دونوں ممالک (ترکی اور پاکستان) کی آپس کی دوستی تو دنیا بھر میں مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے لیکن دونوں ہمیشہ ہی سے امریکہ کے دبائو میں رہے ہیں اور امریکہ نے بھی ان ممالک کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کرنے اور بعد حالات رحم و کرم پر چھوڑنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ نے ان دونوں ممالک کے دفاع کو مضبوط بنانے میں بھی بڑا اہم کردار ادا کیا اور اسی وجہ سے امریکہ نے ان دونوں ممالک کی افواج پر طویل عرصے اپنی گرفت بھی قائم کئے رکھی اور ان دونوں ممالک میں مارشل لا لگنے کی صورت میں فوجی انتظامیہ کا کھل کر ساتھ دیا جس کے نتیجے میں ان ممالک پر امریکہ کی گرفت مضبوط ہوتی چلی گئی کیونکہ امریکہ کے لئے ان دونوں ممالک میں سویلین حکومت کی بجائے فوجی حکومت کے ذریعے گرفت قائم رکھنا زیادہ آسان تھا۔


ترکی میں ایردوان دور سے قبل تک سویلین حکومت ہونے کے باوجود فوج کی تقریباً تمام ہی شعبوں میں مکمل گرفت تھی اور امریکہ بھی ترکی کی فوج کے اس رول سے بہت خوش تھا البتہ 1974 میں قبرص جنگ کے دوران جس میں ترکی نے قبرصی ترکوں کو قبرصی یونانیوں کے ظلم و ستم سے بچا کر آزاد کروایا تھا، اس دور میں تھوڑے عرصے کے دوران پہلی بار امریکہ کی جانب سے ترکی پر پابندیاں عائد کی گئیں اور ترکی کو اسلحے کی ترسیل روک دی گئی لیکن اس کے بعد امریکہ اور ترکی کے تعلقات پرانی ڈگر پر واپس آگئے اور ترک فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں امریکہ نے کھل کر مدد کی اور نیٹو میں اسے امریکہ کے بعد ایک اہم ملک کی حیثیت بھی حاصل ہو گئی۔ ایک جدید اور منظم ترک فوج نے کنعان ایورن کے مارشل لا کے بعد پردے کے پیچھے رہتے ہوئے سویلین حکومتوں کو اپنی انگلیوں پر نچانے اور حکومتیں گرانے کا سلسلہ جاری رکھا جو ایردوان دور تک جاری رہا اور 15جولائی 2016کی ناکام منظم بغاوت سے قبل بھی دوبار فوج کی جانب سے ایردوان حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی جو ناکام ہوئی۔ امریکہ نےسی آئی اے اور فتح اللہ گولن کے ذریعے15 جولائی2016 کو ایردوان حکومت کا تختہ الٹنے کی جو آخری کوشش کی تھی اسے ایردوان حکومت اور عوام نے مل کر ناکام بنادیا تھا اور اس کے بعد ہی سے ترکی میں فوج کی سویلین حکومت پر گرفت ختم ہو کر رہ گئی اور صدارتی نظام متعارف کروانے کے بعد سے ترک فوج وزیر دفاع کی نگرانی میں اپنے فرائض بڑے احسن طریقے سے سرانجام دے رہی ہے۔


ترکی میں صدارتی نظام متعارف کروانے کے بعد صدر ایردوان کی عوام کی تائید اور حمایت سے پوزیشن بڑی مضبوط ہوچکی ہے اور وہ ترکی کے تمام اداروں پر مکمل طور پر دسترس رکھتے ہیں ۔ انہوں نے15 جولائی کی ناکام بغاوت کے بعد سے اس کے ذمہ دار فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کرنے اور اس میں ملوث تمام افراد کے خلاف کریک ڈائون کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ایردوان کے اسی مطالبے اور کریک ڈائون کی وجہ سے ترکی اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی، جس میں اس وقت زیادہ اضافہ دیکھا گیا جب ترکی نے امریکہ کی جانب سے اسرائیل میں اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا اور ترکی نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کے اس فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ساتھ ساتھ جنرل اسمبلی میں قراداد منظور کروا کر امریکہ کو دنیا میں تنہا کردیا۔ صدر ایردوان امریکہ کی شام سے متعلق دوغلی پالیسی اور خاص طور پر ترکی کی دہشت گرد تنظیموں ’’پی کے کے‘‘ ، ’’پی وائی ڈی‘‘ اور ’’وائی پی جی‘‘ کی پشت پناہی کرنے پر بھی شدید برہم ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر کو متنبہ کرتے ہوئے اس دوغلی پالیسی سے باز آنے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے سے بھی آگاہ کیا ہے۔


ترکی اور امریکہ کے تعلقات میں سلگتی ہوئی آگ نے اب شدت اختیار کرلی ہے اور اس آگ کو ہوا دینے میں امریکہ کے صدر سمیت اعلیٰ حکام کا بڑا ہاتھ ہے۔ ترکی میں دہشت گرد تنظیم ’’فیتو‘‘ اور ’’پی کے کے‘‘ کے لئے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار امریکی پادری انڈریو برنسن جن پر ازمیر کی ایک عدالت میں دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے اور ریاست کے رازوں کی جاسوسی کرنے کے الزام میں مقدمہ چل رہا ہے۔ انڈریو کی رہائی کیلئے امریکی دبائو سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات نہایت خراب سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ چند روز قبل تک امریکہ نے ترکی کو دھمکیاں دیتے ہوئے واضح پیغام دے دیا کہ اگر اس نے پادری کو رہا نہ کیا تو ترکی پر پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے امریکہ کے نائب صدر مائک پینس نے ترک حکام کو خبردار کیا اور بعد میں رہی سہی کسر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہہ کر پوری کردی کہ امریکہ ایک بہت ہی اہم عیسائی خاندان سے تعلق رکھنے والے اور بہت ہی اچھے انسان انڈریو برنسن کو طویل عرصے قید کی سزا کی صورت میں ترکی پرفوری طور پر پابندیوں عائد کرے گا اور صدر ٹرمپ نے ایسا ہی کیا۔ اپنے بیان کے فوراً بعد ہی ترکی کے وزیر انصاف عبدالحمید گل اور وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو پر امریکہ میں موجود اثاثوں (دونوں وزرا کا کوئی اثاثہ یا لین دین امریکہ میں نہیں ہے) اور لین دین پر پابندی لگانے کا اعلان کردیا جس پر ترکی نے بھی امریکہ کے ایک سپرپاور ملک ہونے کی پروا کئے بغیر امریکہ کےوزیر انصاف اور وزیر داخلہ پر ترکی میں موجود اثاثوں پر پابندی لگاتے ہوئے اسی ٹون میں جواب دیا۔ ترک صدر ایردوان نے ان پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ترکی قانون کی پاسداری کرنے والا ملک ہے اور قانون کے مطابق ہی ترک عدلیہ امریکی پادری انڈریو برنسن کا فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ترکی کا اتحادی ہونے کے باوجود ازمیر میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کئے جانے والے پادری انڈریو کی رہائی کے لیے دبائو ڈالنے کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے وہ کسی بھی صورت اسے زیب نہیں دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ترکی کے دو وزرا کے اثاثوں پر پابندی لگاتے ہوئے ہمیں بھی جوابی کارروائی کرنے پر مجبور کیا۔ اسی لئے ہم نے بھی امریکہ کے وزیر انصاف اور وزیر داخلہ کے ترکی میں موجود اثاثوں کو منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر ایردوان نے کہا کہ دراصل صدر ٹرمپ سے کھیل کھیلا جا رہا ہے اور اس کھیل کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ہمیں اس کے بارے میں بھی خبر ہے۔ صدر ٹرمپ کو امریکی مفادات کی خاطر اس کھیل کا پتہ چلانے اور اسے فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے ورنہ امریکہ ہی کو اس کا نا قابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ امریکہ پہلے بھی دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے ترکی کی پیٹھ پر چھرا گھونپنے کی کوشش کرچکا ہے اور اب امریکی پادری برنسن کی رہائی کی خاطر اٹھائے جانے والے اقدامات دونوں ممالک کی مشترکہ اسٹرٹیجی کے منافی ہیں۔ امریکہ نے یک طرفہ طور پر بین الاقوامی قوانین کی پروا کئے بغیر جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ ترکی کو نیچا دکھانے کے مترادف ہیں لیکن ترکی کو ان حربوں اور ہتھکنڈوں سے زیر نہیں کیا جا سکتا، یہ ’’ایوانجلزم‘‘ اور ’’سیونزم‘‘ نظریے کا مظہر ہے، اور ٹرمپ اس طرح ایک بہت بڑی چال میں پھنس چکے ہیں۔ صدر ایردوان نے صدر ٹرمپ کو اس قسم کے اقدامات سے باز آنے اور مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں امریکہ اپنے اتحادیوں سے دور ہوکر تنہائی کا بھی شکار ہوسکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں