آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر17؍ رجب المرجب 1440ھ 25؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ملک کے نئے صدر اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے جنرل سیکرٹری کے طور پر شی جن پھینگ کا تقرر چینی قیادت میں تبدیلی کی اس پرامن روایت کا تسلسل ہے جو چار کے ٹولے سے چھٹکاراپانے کے بعد ڈینگ سیاؤ پنگ کی قیادت میں قائم ہوئی۔
مغربی معیار کے مطابق چین جمہوری ریاست نہیں یہاں فیصلے پولٹ بیورو کی نگرانی میں ہوتے ہیں اور یک جماعتی سیاسی نظام کی گرفت مضبوط ہے مگر عدل و مساوات کے مثالی نظام نے جماعتی آمریت کو نہ تو ملکی تعمیر وترقی میں رکاوٹ ڈالنے دی ہے اور نہ عام آدمی کو اجتماعی فیصلوں میں شرکت سے روکا ہے، شاید اسی بناء پر چین کا یک جماعتی سیاسی نظام اس قدر بانجھ نہیں کہ چند خاندانوں اور کرتا دھرتا افراد کے سوا کوئی قیادت کا خواب ہی نہ دیکھ سکے۔
1999ء میں چین کے دورے کے دوران ہم نے وزارت خارجہ کی ایک کارکن اور وفد کی کوارڈی نیٹر لی فنگ سے پوچھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ کتنی ترقی کر سکتی ہے۔ ”وزیر خارجہ تو میں بن ہی جاؤں گی۔“ وزیر خارجہ ؟ جناب الطاف حسن قریشی، نصرت مرزا اور رحیم اللہ یوسفزئی نے بیک زبان حیرت و استعجاب سے پوچھا۔ ”کیوں نہیں۔ میں کالج کے زمانے میں زبردست مقرر تھی، کمیونسٹ پارٹی نے مجھے خود رکنیت دی اور میری جماعتی خدمات کا اعتراف سب کو ہے پھر وزارت خارجہ کا منصب کیوں حاصل نہ کر پاؤں گی۔“ شوخ و شنگ اور حاضر

جواب لی فنگ نے جواب دیا۔
شی جنگ پھینگ اگرچہ ماؤزے تنگ اور چو این لائی کے ایک قریبی ساتھی شی ژانگ کے صاحبزادے ہیں مگر صدارتی منصب پر وہ اپنی قومی اور جماعتی خدمات کی بناء پر پہنچے۔ شی جن پھینگ کا انتخاب ان اقوام اور ممالک کے لئے لمحہ فکریہ اور سبق آموز ہے جہاں سلطانی جمہور اور ذہنی و فکری آزادی، عدل و مساوات کا ڈھنڈورا زور شور سے پیٹاجاتا ہے۔ مساوی شہری، سیاسی، اقتصادی ، سماجی اور مذہبی حقوق کی باتیں کی جاتی ہیں مگر عملاً پورے ملک اور نظام کو چند خاندانوں نے یرغمال بنا رکھا ہے اور ماں باپ کے بعد بیٹے کی قیادت و حکمرانی کی ملوکانہ روایت روز بروز پختہ ہو رہی ہے۔
پاکستان میں صورتحال کئی دوسرے ممالک سے بدتر ہے جہاں جمہوریت، سول آمریت اور فوجی ڈکٹیٹر شپ کے تجربے بار بار ہوئے نتیجہ سب کا بدترین قسم کی خاندانی، موروثی اور ناکام ملوکیت و بادشاہت کی صورت میں نکلا۔ 1973ء کے آئین کی موجودگی میں بھی اقتدار کی تبدیلی کا کوئی خود کار، پائیدار اور قابل اعتماد نظام موجود نہیں یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں کی تبدیلی یا تو امریکہ کی خواہش کے مطابق ہوتی ہے، فوج کی مداخلت سے یا عوامی تحریک اور عدالتی فیصلے کے ذریعے۔ موجودہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کر رہی ہے فوج غیرجانبدار، عدلیہ فعال اور میڈیا چوکس ہے مگر وقت پرانتخاب اور پرامن تبدیلی اقتدار کا یقین نہ میاں نواز شریف کو ہے، عمران خان کو اور نہ سید منور حسن کو۔ سب اس خوف کا شکار ہیں کہ کسی وقت صدر زرداری اپنی پٹاری سے پارلیمینٹ، حکومت اور صدارت میں ایک سالہ توسیع کا کوئی نیا سانپ نکال کر حیران کردیں گے۔
یہی حال سیاسی پارٹیوں کا ہے جہاں فیصلے کسی پولٹ بیورو یا سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں نہیں قائد محترم اور چیئرمین کے گھریلو افراد میں صلاح مشورہ کے دوران ہوتے ہیں۔ امریکہ جیسی سپر پاور خاندانی حوالے سے محروم اور بے وسیلہ بل کلنٹن اور بارک حسین اوبامہ کو منصب صدارت سونپ سکتی ہے پاکستان جیسی لولی لنگڑی ریاست اور جمہوریت میں یہ چند خاندانوں کا استحقاق ہے۔ کہنے کو میاں غلام حیدر وائیں، محمد حنیف رامے اور ملک معراج خالد اعلیٰ ترین صوبائی و مرکزی مناصب پر پہنچے مگر سب جانتے ہیں کہ یہ ایوان اقتدار کے کارنس پر سجے شو پیس تھے۔ ان کا کام صرف میاں نواز شریف،سردار فاروق لغاری اور ذوالفقار علی بھٹو کے احکامات کی بجاآوری تھا جب اور جہاں ان میں سے کسی نے سرتابی کی اپنے منصب سے معزول ہوگئے۔
محترمہ اور میاں صاحب کی جلاوطنی کے زمانے میں مخدوم امین فہیم اور مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنی پارٹیوں کی قیادت کی مگر جونہی دونوں قائدین واپس وطن پہنچے اور مخادیم کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال دیا گیا۔ جاوید ہاشمی مسلم لیگ چھوڑ چکے امین فہیم:
گومشت خاک ہیں مگر آندھی کے ساتھ ہیں
بعض اوقات خیال گزرتا ہے کہ ہماری قسمت ہی خراب ہے کبھی نہ تو لی کوان، ڈینگ سیاؤ پنگ جیسا کوئی ڈھنگ کا آمر ملا نہ مہاتیر محمد اور طیب اردوان جیسا جمہوری حکمران البتہ ہٹلراور مسولینی بہت ہیں جو انتخاب جیت کرآتے اور بدترین آمریت و ملوکیت کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
چین ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا، جمہوریت کی نیلم پری سے محروم ہے، تعمیر و ترقی، سیاسی استحکام اور عسکری قوت میں امریکہ کے لئے پریشانی کا باعث ہے اور ہم ؟ ابھی تک یہ طے نہیں کرپائے کہ اقتدار کی تکون میں مقننہ و انتظامیہ طاقتور ہوگی، عدلیہ یا فوج؟ عدل و مساوات تو دور کی بات ہے۔ ٹھنڈی کرکے کھانے کے ہم عادی نہیں اور ہر دم ایک دوسرے سے برسرپیکار رہتے ہیں جیساکہ ان دنوں سپریم کورٹ کی ٹرپل ون بریگیڈ یعنی راولپنڈی بار کی قرار داد اور دونوں چیفس کے بیانات سے عیاں ہے۔ خدا ہمارے حال پر رحم کرے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں