آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وقت کا دھارا ہمہ وقت تبدیل ہوتا رہتا ہے میں تاریخ میں زندہ رہنے کے سبب سے اقدامات کی بات نہیں کرونگاکیونکہ حال میں زندہ رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا ہی تاریخ میں زندگی کا سبب بنتا ہے عام انتخابات کا انعقاد ہو چکا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں نے اسمبلیوں میں اپنا کردار ادا کرنے کی ٹھان لی ۔ سوال یہ ہیـ کہ کردار کیا ہونا چاہیے ؟ اور موجودہ حالات میں یہ کردار کیا ہو سکتا ہے ؟ جن حالات کا سامنا اس وقت سابقہ وزیر اعظم کو پڑ رہا ہے اس کے سبب سے ان کے ذاتی تحفظات کا قائم ہوجانا ایک عمومی ردعمل ہو سکتا ہے ۔ 26جولائی کی صبح جب میں اڈیالہ جیل کے دروازے سے اندر داخل ہوا تو میرے ذہن میں متعدد ایسے خیالات گردش کر رہے تھے کہ جن کے وقوع پذیر ہونے کے سبب سے وطن عزیز میں جمہوریت کو لاحق خطرات مزید قوی تر ہو جاتے اڈیالہ جیل میں میاں نوازشریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر سے ملاقات آمد کا سبب تھی ابھی انتظار گاہ میں آنے والے دنوں کے حوالے سے ممکنہ حالات کا تجزیہ ہی کر رہاتھا کہ دفعتاً خیالات کا سلسلہ ٹوٹا میاں نوازشریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر تشریف لا چکے تھے میری میاں نوازشریف سے جب کبھی بھی ملاقات ہوئی تو میں نے ہمیشہ ان کی شخصیت کا جائز سعودی عرب میں ہونے والی ان سے پہلی ملاقات کے تناظر میں لیا۔ سعودی عرب اور لندن میں جلاوطنی کے ماہ وسال کے درمیان اُن سے ملا یا پاکستان آمد کے بعد حزب اختلاف یا اقتدار کے دنوں میں ملاقات ہوئی ان کی طبیعت کی بشاشت اور لطافت کو ہمیشہ ایک جیسا پایا ۔ مگر یہ تو جیل ہے حیرت زدہ رہ گیا ان کا مزاج جیسا تھا ویسا ہی یہاں پر قائم رہا بامروت لہجہ اور مسکراہٹ حسب سابق موجود تھی بہت خوشدلی سے ملے ذاتی حال احوال کے بعد سیاسی حالات پر گفتگو کرنے لگے اور میں محسوس کرنے لگا کہ ان کے لہجے کی پختگی جلا وطنی کے ایام کی مانند توانا تھی ۔ اہم بات یہ تھی کہ اس تمام گفتگو میں کہیں بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ وہ کسی سے آج بھی ذاتی عناد یا انتقام کا جذبہ ساتھ لیے موجود ہیں ۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے طریقے کار پر گفتگو کرتے رہے اور وہیں بیٹھے بیٹھے میرے ذہن نے اس مضمون کا خاکہ تراش آنے والے ایام میں قانون سازی ایک اہم مسئلہ ہو گی اس پر کیپٹن صفدر سے میری گفتگو ہونے لگی تو انہوں نے کہا کہ اسلامی قوانین میں کسی قسم کی مداخلت قابل برداشت نہ ہو گی۔ بات معقول ہے ۔ میں نے شروع میں سوال اٹھایا تھا کہ پارلیمنٹ میں آنے کے بعد سیاسی جماعتوں کا کردار کیا ہونا چاہیے اور کیا ہو سکتا ہے ۔ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ہمیں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں سیاسی جماعتوں کے کردار پر نظر ڈال لینی چاہیے عمومی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی کھینچا تانی اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے گزشتہ حکومت کے دوران واقعات اس کی تازہ مثال ہیں ۔ تاریخ تبدیل کی جا سکتی ہے اگر حزب اختلاف کے اس کردار کو کہ جس کا مقصد ہر قیمت پر حکومت گرانا ہو قیمت چاہے آئینی ہی کیوں نہ ہو تبدیل کر دیا جائے حزب اختلاف کے سربراہ میاں نوازشریف ہی ہونگے اور ان کا ماضی بتاتا ہے کہ وہ 1993کے انتخابات کے جن سے قبل ناپسندیدہ حالات کا ایک تسلسل تھا کو جمہوریت کی خاطر ایک حقیقت تسلیم کرکے آئین کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہے 2008کے انتخابات کا انعقاد بھی جنرل مشرف نے کروایا تھا مگر پھر بھی حزب اختلاف میں بیٹھنا گوارہ کر لیا ۔ کڑوی دوائی صحت اورکڑوے فیصلے جمہوریت کے لیے بسا اوقات ضروری ہو جاتے ہیں اور ایک ایسا شخص جو گزشتہ 30برسوں سے قومی سیاست میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اس کی اہمیت سے بخوبی واقف ہے ۔ جب حزب اختلاف میں دستور کے پابند رہنے کی بات کی جائے تو تلخ واقعات کی یادیں ذہنوں میں دھماکے شروع کر دیتی ہے ایسے موقعے پر پاکستانیوں کو قائداعظم کی شخصیت کے اس پہلو کو سامنے رکھنا چاہیے کہ وہ برطانوی سرکار کے مخالف رہے اور ایسا نہ تھا کہ انہیں اقتدار کی پیشکش نہ ہوئی تھی انگریز حکومت ان کو وزیر قانون اعلی عدلیہ کے جج اور ایڈووکیٹ جنرل کے عہدوں کی پیشکش کی تھی جو انہوں نے ٹھکرا دی تھی جب سر کے خطاب دینے کی پیشکش ہوئی تو قائداعظم ؒ نے جواب دیا کہ میں سرجناح کہلانے سے ایم ۔ اے جناح کہلانا زیادہ پسند کرتا ہوں ۔ انگریزوں سے اتنی بے رخی کے باوجود قائداعظم ؒ کبھی دستور ، قانون میں دیئے گئے دائرہ کار سے باہر نہ نکلے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس کمزور دستوری قانونی پوزیشن کے باوجود اس سے ہٹ کر جدوجہد کرنے سے عوام کو زبردست نقصان پہنچنے کا احتمال ہو سکتا ہے تحریک عدم تعاون کے لیے ناگ پور اجلاس میں وہ اکیلے 14582مندوبین میں اس تحریک کے خلاف تھے کیا جرات مند انسان تھے ۔ انہوں نے گاندھی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ "رک جائیے ، روک دیجئے اس سے قبل کہ بہت دیر ہو چکی ہو میرا طریقہ ہی ٹھیک ہے دستوری طریقہ کار میں صحیح راستہ ہے " ان سب گزارشات کا سبب یہ ہے کہ پاکستا ن میں حزب اختلاف کی تاریخ کو یکسر تبدیل کر دیا جائے اور حزب اختلاف اپنے مطالبات کی غرض سے ایسے کسی اقدام کی جانب نہ بڑھے کہ جس سے کسی ممکنہ غیر جمہوری اقدام کا امکان بھی برآمد ہو سکتا ہے اور نہ ہی ان کی جدوجہد میں اس امر کا شائبہ ہو کہ ان کو کسی غیر جمہوری قوت کی پشت پناہی حاصل ہے کیونکہ قائداعظم ؒ نے کہا تھا کہ دستوری طریقہ کار ہی صحیح راستہ ہے ۔ اور یہ ہی آج بھی وقت کی ضرورت ۔


(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں