آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ14؍ صفر المظفّر1440ھ 24؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


پاکستان میں پانی کی قلت کے باعث نہ صرف بڑے بلکہ بچے بھی پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ اسی حوالے سے اسلام آباد کی دو ننھی بہنوں نے پاکستان میں ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈز میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے ایک دلچسپ راستہ اختیار کیا ہے۔

بہنوں کا ڈیم کے لیے فنڈز جمع کرنے کا انوکھا انداز
زینیا اور زونیرہ 

اسلام آباد کی دو بہنیں ’زینیااور زونیرہ‘ کی جانب سے ’بھاشا اور محمند ڈیمز‘ کے لیے فنڈز جمع کرنے کا ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا گیا ہے انہوں نے اپنے گھر کے باہر کھانے پینے کی اشیاء کا اسٹال لگایا اور اس سے جمع ہونے والی رقم کو ڈیمز کے لیےجمع کرادیا ہے۔

10 سالہ زینیا اور 8 سالہ زونیرہ نے ’جنگ‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس اسٹال سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ڈیمز کے لیے قائم کردہ فنڈز میں جمع کروائیں گے۔ زینیانے بتایا کہ انہوں نے سب سے پہلےاپنی والدہ ’حرا یاسر‘ سے اس آئیڈیے پر تبادلہ خیال کیا جس پر انہوں نے اپنی بیٹیوں کی خوب حوصلہ افزائی کی اور اسٹال لگانے میں ان کی مدد بھی کی۔

دونوں بہنوں نے کی جانب سے گھر کے باہرلگائے جانے والے اسٹال میں گھر کی بنی اشیاء جس میں لیموں کا شربت بھی شامل ہے، لوگوں کو فروخت کرکے اس سے ڈیم کے لیے رقم جمع کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اسٹال دو دن لگا تھاجس سے تقریبا 52 ہزار روپے جمع ہوئے جو کہ ڈیمز کے لیے جمع کرادیے گئے ہیں۔

زینیا اور زونیرہ کے والد ’یاسر غوری‘ کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹیوں نے ’بھاشا اور مہمند ڈیمز‘ کے لیے فنڈز جمع کرنے کا بہترین اور انوکھا انداز اختیار کیاہے، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں میں اس حوالے سے شعور کو اجاگرکریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں پانی کا مسئلہ سنگین ہے جس کے لیے نہ صرف بڑے بلکہ بچے بھی پریشان دکھائی دے رہے ہیں، زینیا اور زونیرہ کی جانب سے اٹھایا گیا یہ اقدام اسی کی مثال ہے جو نئی آنے والی نسل کے لیے مثبت پیغام ہے۔

یاسر غوری کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اپنی بیٹیوں سے پانی کے مسئلے سے متعلق بات کی تواسی دوران ڈیمز کے لیے فنڈنگ جمع کرنےکا یہ انوکھا آئیڈیا زینیا کے ذہن میں آیا جس پر عمل درآمد کرنے میں انہوں نے ذرابھی دیر نہیں کی۔

ان ننھی بہنوں کا یہ انوکھا انداز سب ہی کو خوب بھایا، وہاں آنے والے لوگوں نے زینیا اور زونیرہ کی بےحدتعریف کی۔ وہاں موجود ایک خاتون کا کہنا تھا کہ بچوں کے اس اقدام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنے ذمہ دار ہیں۔ ایک اور خاتون نے کہا کہ یہ بہت زبردست آئیڈیا ہے اگر ہم سب مل کر ایسا کریں تو ہم ڈیمز کے لیے کافی رقم جمع کرسکتے ہیں۔

یہاں آنے والے لوگوں کے لیے بچیوں نےپیغام بھی دیا کہ آپ یہاں بہت توقعات لے کر نہیں آئیں کیونکہ یہ اسٹال بچوں نے لگایا ہے، یہاں چیزوں کو نہیں بلکہ ہمارے حوصلے اور محنت کو دیکھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گھر میں بنایا گیا لیموں کا شربت تازے لیموں اورمنرل واٹر سے تیار کیا گیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں