آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 9؍صفر المظفّر 1440ھ 19؍اکتوبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جماعت اسلامی کے ایک سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم نے ایک بار یہ ارادہ ظاہر کیا تھا کہ وہ سیاسی کارکنوں کیلئے ایسی تربیت کا اہتمام کریں گے جس کے ذریعے کارکنوں کو جلسوں جلوسوں خصوصاً احتجاجی ریلیوں کے مواقع پر زیادہ بہتر نظم و نسق اور طرز عمل کا مظاہرہ کرتا دیکھا جاسکے۔ قاضی صاحب ایک صاحب فکر اوردوراندیش لیڈر کی حیثیت سے سیاسی کارکنوں کی تربیت کی جو ضرورت برسوں پہلے محسوس کررہے تھے اس پر بھرپور کام کرنے کا انہیں موقع نہ مل سکا اور اس وقت حالات کا بگاڑ ایسے مقام پر محسوس ہورہا ہے کہ کارکن تو کئی مواقع پر پارٹی ڈسپلن کو فراموش کرتے ہی ہیں بعض لیڈر بھی جوش تقریر میں اپنے مقام کا پاس نہیں رکھ پاتے جبکہ ہر رہنما جانتا ہے کہ سخت سے سخت بات بھی مناسب الفاظ و لہجے میں ملک و قوم کی سلامتی و وقار کی حدود ملحوظ رکھتے ہوئے کہی جاسکتی ہے۔ جلسوں کا انعقاد ہو، جلوس نکالے جائیں یا احتجاجی اجتماع ہو۔ عام آدمی یہ سمجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ دکانیں بند کراکر، ٹریفک رکوا کر یا خلق خدا کیلئے دوسری مشکلات پیدا کرکے اپنے کاز کو کیوں کر آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ احتجاجوں اور ریلیوں کا مقصد خواہ مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے ازالے کی راہ ہموار کرنا ہو یا کسی دل آزاری والی بات پر ردعمل دینا ۔سیاسی رہنمائوں، مذہبی تعلیمات کا

پرچار کرنے والوں اور صاحبان دانش کے احتجاج کے اسلوب اور زبان و بیان سے ان کے تدبر اور بصیرت کا اظہار ہونا چاہئے۔ سیاسی سرگرمیوں کا محور و مرکز عوام کے حقوق کا تحفظ ہے جو ملکی بقا و سلامتی سے جڑے ہوتے ہیں۔ اگر کچھ لوگ اپنی مرضی کے فیصلے حاصل کرنے کے لئے وفاق یا قومی اداروں یا قابل احترام دنوں کا نام محض زبان کی چاشنی کیلئے معمول کے مطلب سے قدرے مختلف لہجے میں ادا کرتے ہیں تو انہیں اس کا جائزہ ضرور لینا چاہئے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا مفہوم کہاں تک پہنچ رہا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہماری سیاسی پارٹیاں اپنے کارکنوں کے لئے ملکی تاریخ، اہم قانونی نکات اور سیاسی نظم و ضبط پر مبنی ایسی تربیت کا اہتمام کریں جس کی بنا پر بعد میں یہ کارکن پارٹی ہی نہیں، ملک کا قابل قدر اثاثہ ثابت ہوں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں